
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی دھمکی پر ردعمل، مظاہرین سے بات چیت، شرپسندوں کے ساتھ سختی
مظاہرین سے بات کی جا سکتی ہے، حکام کو ان سے بات چیت کرنی چاہیے، لیکن جو لوگ ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرتے ہیں
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن پر ریکارڈ شدہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا اور داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، تاہم ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے بات چیت کرنا بے فائدہ ہوگا، اور ان عناصر کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔
مظاہرین سے بات چیت اور ہنگامہ آرائی کا فرق
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران میں جاری احتجاج ایک جائز عمل ہے، جس پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مظاہرین سے بات کی جا سکتی ہے، حکام کو ان سے بات چیت کرنی چاہیے، لیکن جو لوگ ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرتے ہیں، ان سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔” یہ بیان ایران کے اندر جاری احتجاجی تحریک کے پس منظر میں آیا ہے، جہاں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف عوام کی طرف سے مظاہرے جاری ہیں۔
دشمن کا کردار اور غیر ملکی کرنسی میں اتار چڑھاؤ
آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ایران میں معاشی حالات خاصے مشکل ہیں، اور کئی افراد دکان داروں کی شکایات کو صحیح قرار دیتے ہیں، جنہوں نے کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ مشکلات "غیر ملکی دشمنوں” کی مداخلت کی وجہ سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ایران کی معیشت میں عدم استحکام فطری نہیں ہے، بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے۔”
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ "ہم دشمن کے اس منصوبے کو روکنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھا رہے ہیں، اور ہم اس پر قابو پانے کے لئے محنت کر رہے ہیں۔” اس کا مطلب یہ تھا کہ ایران کا قیادت غیر ملکی مداخلت کو اپنے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس کا ردعمل سخت ہو گا۔
ایران میں مظاہرے اور ہلاکتیں
ایران میں ان دنوں مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی بحران کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔ ایران کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جنہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہروں کے دوران، کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور درجنوں افراد کو بے امنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران میں یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گئے جب غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ایرانی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی گزارنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔
امریکی مداخلت کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران میں جاری مظاہروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ امریکی صدر کی یہ دھمکی اس وقت آئی جب ایران میں جاری مظاہروں کے دوران حکومت نے مظاہرین پر تشدد کیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ "اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم ایران میں جمہوریت کے حق میں ہیں اور اس پر مسلسل نظر رکھیں گے۔”
ایرانی ردعمل: امریکی مداخلت سے عدم استحکام کا خدشہ
امریکی صدر کی دھمکی پر ایرانی حکام کی طرف سے تیز ردعمل آیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ امریکی مداخلت ایران کے داخلی معاملات میں عدم استحکام پھیلانے کا باعث بنے گی۔ لاریجانی نے کہا کہ "امریکی مداخلت ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہوگی، اور اس سے پورے خطے میں مزید عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر امریکہ نے ایران کے اندر مداخلت کی تو ہم اسے عالمی سطح پر ایک جارحانہ اقدام سمجھیں گے، اور اس کا سخت ردعمل دیں گے۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی حکومت اپنے عوام کے حقوق اور آزادی کے لئے جنگ جاری رکھے گی، اور امریکہ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرے گی۔
عالمی برادری کی تشویش
ایران میں جاری مظاہروں اور حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود، عالمی برادری نے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق کا احترام کرے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے مثبت اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور متعدد عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایران میں مظاہروں کے دوران متعدد غیر ملکی سفارتکاروں اور عالمی رہنماؤں نے ایران کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے اور ان کے حقوق کا احترام کرے۔ تاہم ایران نے ان تمام عالمی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی بجائے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مظاہرین کی حمایت: ایرانی عوام کی آواز
ایران کے اندر، مظاہرین نے اپنے احتجاجی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پائے۔ ایران کے کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معیار میں بہتری کی امید رکھتے ہیں اور وہ حکومت کے خلاف مظاہروں کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایران کے ایک شہری حسین نے کہا کہ "ہم سب احتجاج کرنے کے لئے سڑکوں پر ہیں کیونکہ ہم اپنے حقوق کی بازیابی چاہتے ہیں۔ ہمیں انصاف چاہیے اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہم اپنی آواز بلند کر کے اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔”
نتیجہ: ایران میں جاری بحران
ایران میں جاری احتجاجات اور اقتصادی بحران کے دوران، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت ایک طرف مظاہرین سے بات چیت کی بات کر رہی ہے، تو دوسری طرف ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ امریکی دھمکیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود، ایران میں سیاسی صورتحال پیچیدہ اور متنازعہ ہے، اور مستقبل میں اس کے حل کے امکانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایران کے عوام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے، چاہے انہیں اس لڑائی میں کتنی مشکلات کا سامنا ہو۔ اور اگر عالمی برادری نے ان کی حمایت نہ کی تو بھی وہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اس کے باوجود، ایران کی حکومت کے لئے بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنا اور غیر ملکی مداخلت سے بچنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔



