کاروباراہم خبریںتازہ ترین

لاہور: پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر

کنسورشیم نے پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ

لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی ہے، جس میں حکومت کی طرف سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

پی آئی اے کی فروخت کا پس منظر

ڈان اخبار کے مطابق، درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔ یہ بولی حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ درخواست میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کنسورشیم نے پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون کا کہنا ہے کہ یہ نجکاری کا عمل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی) اور اس کے بعد 23 دسمبر 2023 کو کی جانے والی فروخت کے اقدامات پی آئی اے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، لہذا آئین کے آرٹیکل 154 کے مطابق اس کی نجکاری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری ضروری تھی۔

مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نجکاری

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی روشنی میں کسی بھی وفاقی ادارے کی نجکاری یا تنظیم نو کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت اور منظوری ضروری ہوتی ہے، جو اس معاملے میں پوری نہیں کی گئی۔

پی آئی اے کی نجکاری کا عوامی مفاد سے تعلق

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی آئی اے میں گزشتہ کئی دہائیوں میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں اور یہ قومی خزانے کی اہمیت کا حامل ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ پی آئی اے کی فروخت ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے، کیونکہ اس میں عوام کے پیسے جڑے ہوئے ہیں اور اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا حکومت کے لیے ایک پیچیدہ فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق، پی آئی اے کو اس کی مالی مشکلات اور نقصانات کی وجہ سے غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کو گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہی بلکہ اس کی مالی مشکلات قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔

اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔ درخواست گزار نے مزید الزام عائد کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔

عدالتی جانچ پڑتال کا مطالبہ

ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے اپنے مؤقف میں کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ 23 دسمبر 2023 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے، اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔

ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کا موقف

ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کو ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، پی آئی اے کے ملازمین اور ان کے نمائندوں کو اس مقدمے میں مداخلت کی وجہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ اہم معاملہ عدالت میں نہ جائے۔

نتیجہ

یہ درخواست پی آئی اے کی نجکاری کے فیصلے کے خلاف ایک اہم آئینی اور قانونی اقدام ہے۔ درخواست میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے اور حکومت کے اس عمل کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق نئے سرے سے جائزہ لیا جائے۔ عدالت کی جانب سے اس درخواست پر فیصلہ آنا پی آئی اے کی مستقبل کی پالیسی اور ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس کیس میں عدلیہ کی مداخلت کا امکان اور اس کے اثرات پاکستان کے نجکاری پروگرام پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر قومی اثاثوں کی فروخت کے حوالے سے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button