
وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی امریکی حراست اور عالمی ردعمل
اس آپریشن میں 150 طیارے اور متعدد ہیلی کاپٹر شامل تھے، اور آپریشن کے دوران کسی امریکی فوجی یا طیارے کا نقصان نہیں ہوا
مدثر احمد-امریکا، وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو امریکہ کی اسپیشل فورسز نے ایک ڈرامائی آپریشن کے دوران دارالحکومت کراکس میں گرفتار کر کے نیویارک کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو "امریکہ کی وینزویلا میں قیادت کے آغاز” کے طور پر بیان کیا ہے، تاہم اس کارروائی کے قانونی اور سفارتی اثرات پر عالمی برادری میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی کارروائی اور مادورو کی گرفتاری
اتوار کی صبح امریکی اسپیشل فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو دارالحکومت کراکس سے گرفتار کیا۔ بعدازاں، انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحل سے باہر ایک امریکی بحری جہاز پر منتقل کر کے نیویارک شہر پہنچایا گیا، جہاں انہیں پولیس کے سخت پہرے میں میٹروپولیٹن حراستی مرکز منتقل کیا گیا۔ اس آپریشن میں 150 طیارے اور متعدد ہیلی کاپٹر شامل تھے، اور آپریشن کے دوران کسی امریکی فوجی یا طیارے کا نقصان نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا، "ہم وینزویلا کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور دانش مندانہ منتقلی نہیں کر لیتے۔” تاہم، امریکی صدر کے اس بیان سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وینزویلا کا کنٹرول کیسے چلایا جائے گا، کیونکہ مادورو کی حکومت ابھی بھی اقتدار میں ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی کوئی خواہش نہیں دکھا رہی۔
شمالی کوریا اور چین کا ردعمل
شمالی کوریا نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کو "خودمختاری پر سنگین حملہ” قرار دیا ہے، اور اس کے حکومتی ذرائع نے کہا کہ یہ ایک اور مثال ہے جو امریکہ کی "ناقابل اعتبار اور سفاک فطرت” کو ظاہر کرتی ہے۔ شمالی کوریا کے مطابق امریکہ کے اس اقدام سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور وینزویلا کی داخلی خودمختاری کو پامال کیا جا رہا ہے۔
چین نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو نہ صرف ان کی ذاتی حفاظت یقینی بنانی چاہیے بلکہ ان کی ڈی پورٹیشن بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
وینزویلا میں ردعمل
وینزویلا میں اس کارروائی کے بعد زیادہ تر سکون دکھائی دیا ہے، تاہم دارالحکومت کراکس میں چھوٹے موٹے مظاہرے ہوئے ہیں۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو "اغوا” قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مادورو کو "وینزویلا کا واحد صدر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عبوری صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا ہے۔
اگرچہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کچھ علاقوں میں فوجی گشت کر رہے ہیں، لیکن وینزویلا میں بدامنی کی صورتحال نہیں پیدا ہوئی۔ تاہم، عالمی سطح پر اس کارروائی کے اثرات وینزویلا کی حکومت اور عوام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں، اور انٹرنیشنل کمیونٹی کی طرف سے اس بحران کے سفارتی حل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
امریکی الزامات اور وینزویلا کی صورتحال
امریکہ نے وینزویلا کے صدر پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم مادورو نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی اصل مقصد وینزویلا کا تیل اور قدرتی وسائل ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے طویل عرصے سے مادورو پر مجرمانہ سرگرمیوں کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں امریکی عدالت میں مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پچھلے چند ماہ میں امریکہ نے وینزویلا کے رہنما پر دباؤ بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں وینزویلا کے قریب کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے وینزویلا سے آنے یا جانے والے تیل کے ٹینکروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور کئی بحری جہاز ضبط کیے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور قانونی سوالات
وینزویلا کے خلاف امریکہ کی کارروائی پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، اور بہت سے ممالک نے اس کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ نیو یارک کے مسلم میئر زہران ممدانی نے امریکی کارروائی کو قانون کی خلاف ورزی اور جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ممدانی نے کہا کہ "کسی خودمختار ملک پر یک طرفہ حملہ جنگی اقدام اور وفاقی و بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔”
سیاسی ماہرین اور قانونی شخصیات نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کچھ نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس آپریشن کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنی چاہیے تھی، اور یہ کہ ایسا اقدام بین الاقوامی سطح پر مزید کشیدگی پیدا کرے گا۔
امریکی فوج کی تیاری اور آپریشن کی تفصیلات
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسے کئی ماہ تک کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے صدر مادورو کے رویے، ان کی رہائش گاہ، کھانے پینے کی عادات، اور حتیٰ کہ ان کے پالتو جانوروں کی تفصیلات تک جمع کی تھیں تاکہ آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
نتیجہ
امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی حراست اور اس کے بعد کے اقدامات عالمی سطح پر ایک متنازعہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس اقدام کو ایک سنگین معاملہ سمجھتی ہے جس کے عالمی امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف جنوبی امریکہ بلکہ پورے دنیا میں نئی سیاسی لکیریں کھینچ دی ہیں۔ دنیا کو اس بحران کا حل قانونی اور سفارتی طور پر تلاش کرنا ہوگا، تاکہ عالمی قوانین کی پاسداری اور امن قائم رکھا جا سکے۔


