
وینزویلا کا تیل امریکہ کے لیے کتنا اہم ہے؟
ہماری بڑی امریکی آئل کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں (وینزویلا) جائیں گی، اربوں ڈالر خرچ کریں گی
آرتھر سولویان
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ”چلائے گا‘‘ اور یہ اقدام اس بات پر منحصر نظر آتا ہے کہ امریکہ اس ملک کے سب سے اہم اثاثے یعنی خام تیل کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا، ”ہماری بڑی امریکی آئل کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں (وینزویلا) جائیں گی، اربوں ڈالر خرچ کریں گی، خراب شدہ آئل انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘‘
وینزویلا کے لیے تیل کتنا اہم ہے؟
وینزویلا کی کمزور معیشت تیل پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتی ہے۔ مادورو کی حکومت تقریباً مکمل طور پر ہائیڈروکاربن سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہی چلتی رہی ہے۔
خام تیل اور اس سے متعلق مصنوعات جیسے پیٹروکیمیکلز، وینزویلا کی برآمدی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ہیں۔ یہ آمدنی سخت پابندیوں اور شدید اقتصادی بحران کے باوجود مادورو کو اقتدار میں رکھنے میں مدد دیتی رہی۔
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو 300 ارب بیرل سے زیادہ ہیں یعنی سعودی عرب سے بھی زیادہ۔ تاہم وینزویلا اس وقت عالمی تیل کی کل پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ فراہم کرتا ہے، جو سن 1960 کی دہائی میں 10 فیصد سے زیادہ تھا۔
1990ء کی دہائی کے آخر سے اس ملک میں خام تیل کی پیداوار میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور یہ اب عالمی سطح پر سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 21 ویں نمبر پر ہے۔

یہ زوال سابق صدر اوگو چاویز کی حکومت سے جڑا ہے۔ ان کے سوشلسٹ انقلاب کی وجہ سے ریاستی آئل کمپنی PDVSA میں بڑے پیمانے پر کرپشن نے جنم لیا اور اس سیکٹر میں حکومتی مداخلت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں نے وینزویلا سے اپنا بزنس سمیٹ لیا۔
پائپ لائنز اور ریفائنریوں میں حادثات نے مزید مشکلات پیدا کیں جبکہ 2017ء سے بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں نے وینزویلا کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیا۔ فی الحال PDVSA نے پیداوار کو تقریباً 10 لاکھ بیرل روزانہ پر مستحکم کر رکھا ہے۔
امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہیں؟
20 ویں صدی کے دوران امریکہ وینزویلا کے آئل سیکٹر کا اہم شراکت دار رہا اور اس کی بڑی آئل کمپنیاں ملک میں بھاری سرمایہ کاری کرتی رہیں۔
چاویز کے انقلاب کے بعد Chevron کے سوائے دیگر تمام کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں۔ اگرچہ امریکی پابندیوں نے وینزویلا کی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کیا لیکن بائیڈن انتظامیہ نے سن 2022 میں Chevron کو سخت شرائط کے تحت وینزویلا سے تیل برآمد کرنے کے لیے خصوصی لائسنس دیے۔
اکتوبر میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے Chevron کو وینزویلا میں تیل پیدا کرنے کی نئی اجازت دی۔ اس کی دلیل یہ دی گئی کہ یہ کمپنی کراکس کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
وینزویلا کے موجودہ حالات میں سب سے زیادہ فائدہ Chevron کمپنی کو ہی ہوا ہے۔ وینزویلا میں تقریباً 3,000 افراد اس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ وہ تمام قوانین اور ضوابط کی مکمل تعمیل کرے گی لیکن اس نے مادورو کی معزولی کے بعد اپنے آپریشنز میں توسیع کے منصوبوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بڑی امریکی آئل کمپنیاں، جیسا ExxonMobil اور ConocoPhillips وینزویلا میں دوبارہ فعال ہوں گی۔
ExxonMobil امریکہ کی سب سے بڑی آئل کمپنی ہے۔ 2007ء میں چاویز نے اس کے اثاثے ضبط کر لیے تھے جبکہ ConocoPhillips کے منصوبے روک دیے تھے۔ ان دونوں کمپنیوں نے بین الاقوامی ثالثی میں اربوں ڈالر کے معاوضے جیتے لیکن وینزویلا نے ادائیگی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ بار بار ”چوری شدہ تیل‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ہم نے وینزویلا کی آئل انڈسٹری دراصل امریکی مہارت اور صلاحیت سے بنائی اور سوشلسٹ حکومت نے اسے ہم سے چھین لیا۔ یہ امریکی تاریخ میں املاک کی سب سے بڑی چوریوں میں سے ایک تھی۔‘‘
کیا امریکہ کو واقعی وینزویلا کے تیل کی ضرورت ہے؟
امریکہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، تو بظاہر یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کے تیل میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتے ہیں۔
اصل مسئلہ تیل کی قسم ہے۔ امریکہ زیادہ تر لائٹ کروڈ پیدا کرتا ہے جبکہ بالخصوص خلیجی ساحل پر کئی امریکی ریفائنریاں بھاری گریڈ کے تیل کو ریفائن کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی ریفائنریاں اب بھی کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک سے بھاری کروڈ درآمد کرتی ہیں۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے بھاری کروڈ کے ذخائر ہیں، جو امریکی ریفائنریوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کے تیل تک دوبارہ رسائی امریکی کمپنیوں کے لیے پرکشش ہے۔
کیا ٹرمپ اپنا وعدہ پورا کر سکتے ہیں؟
یہ واضح نہیں کہ وینزویلا سے تیل دوبارہ کب اور کیسے بہنا شروع ہو گا۔ مادورو کے بعد کون سی حکومت اقتدار سنبھالے گی اور وہ امریکی سرمایہ کاری کو کس حد تک قبول کرے گی، یہ سب غیر یقینی ہے۔
وینزویلا کے آئل انفراسٹرکچر کی حالت بھی سوالیہ نشان ہے۔ سابق امریکی وزیر توانائی ڈین بروئلیٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق سہولیات برقرار ہیں لیکن وینزویلا سے تیل کی فوری پیداوار کی کوئی ضمانت نہیں، ” اگر سیاسی تبدیلی استحکام لاتی ہے تو اضافی سپلائی وقت کے ساتھ آئے گی، اچانک نہیں۔‘‘
چین کا کردار کیا ہو گا؟
گزشتہ دو دہائیوں میں چین وینزویلا کا اہم سیاسی اور اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ بیجنگ نے مادورو کو ہٹانے کے امریکی اقدام کو وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چینی کمپنی CNPC کا PDVSA کے ساتھ مشترکہ منصوبہ ہے اور وینزویلا کا زیادہ تر تیل چین جاتا ہے۔ تاہم چین نے امریکی عدم موجودگی کے باوجود وینزویلا میں تیل کے سیکٹر میں کوئی زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی۔


