
بعض ہمسایہ ممالک دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں: شہباز شریف
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پروفیشلزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح چھ مئی 2025 کو انڈیا کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مؤثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعرات کو کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔
’فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے تاہم حکومت اورافواج پاکستان کا عزم پختہ ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پروفیشلزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح چھ مئی 2025 کو انڈیا کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مؤثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
شہباز شریف نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، صوبائی کابینہ کے ارکان اور سیاسی قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے جو خوش آئند امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2010 میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہمارے کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں نواز شریف ،آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائزہ تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گذشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔



