صحتتازہ ترین

پنجاب میں منشیات کے بڑھتے رجحان کے خلاف بڑا قدم

سکولوں میں جماعت نہم تا بارہویں کے طلبا کی ہیلتھ پروفائلنگ کی تجویز، والدین کی رضامندی لازمی قرار

لاہور: پنجاب میں نوجوانوں کو منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے سکولوں کی سطح پر ایک اہم اور نیا اقدام اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق محکمہ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے محکمہ سکول ایجوکیشن کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں میں جماعت نہم سے بارہویں تک کے طلبا کی ہیلتھ پروفائلنگ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد طلبا میں منشیات کے ممکنہ استعمال کی بروقت نشاندہی کرنا اور مسئلہ سنگین ہونے سے پہلے حفاظتی اور اصلاحی اقدامات کرنا ہے۔


منشیات کے خلاف جاری گرینڈ آپریشن کے تناظر میں پیش رفت

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف ایک وسیع البنیاد گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ پولیس کے مطابق حالیہ مہینوں میں متعدد کارروائیوں کے دوران مبینہ بڑے منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری بیانات کے مطابق ان آپریشنز میں درجنوں مشتبہ منشیات فروش ہلاک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف منشیات کی سپلائی لائن توڑنے بلکہ نوجوان نسل کو منشیات کے خطرے سے بچانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔


سکول جانے والے بچے منشیات مافیا کا آسان ہدف؟

محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سکول جانے والی عمر کے بچے تیزی سے منشیات فروش نیٹ ورکس کے نشانے پر آ رہے ہیں۔ خط کے مطابق تعلیمی ادارے وہ ابتدائی سطح ہیں جہاں بروقت نگرانی اور رہنمائی کے ذریعے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔


ہیلتھ پروفائلنگ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق ہیلتھ پروفائلنگ ایک منظم طبی اور نفسیاتی عمل ہے جس کے ذریعے طلبا کی مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس عمل میں شامل ہو سکتا ہے:

  • قد، وزن اور بلڈ پریشر

  • بینائی اور سماعت کی جانچ

  • عمومی طرزِ زندگی

  • ذہنی دباؤ اور رویوں میں تبدیلی

  • سکول حاضری کا رجحان

  • ممکنہ خطرناک عادات یا علامات

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اس عمل کا مقصد کسی طالب علم کو سزا دینا یا مجرم ثابت کرنا نہیں بلکہ خطرے کی ابتدائی علامات پہچان کر بروقت مدد فراہم کرنا ہے۔


مشتبہ کیسز میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

انسدادِ منشیات کے ماہر ڈاکٹر شاہزیب کے مطابق اگر ابتدائی سکریننگ میں کسی طالب علم کے حوالے سے شبہ پیدا ہو تو پہلے مرحلے میں نفسیاتی اسیسمنٹ یا کونسلنگ کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ

"صرف سنگین اور واضح ضرورت کی صورت میں ہی یورین ڈرگ سکریننگ یا خون کے ٹیسٹس پر غور کیا جا سکتا ہے، اور وہ بھی مکمل قانونی اور اخلاقی تقاضوں کے تحت۔”


والدین کی رضامندی لازمی

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 18 برس سے کم عمر بچوں کے کسی بھی طبی ٹیسٹ، بالخصوص خون یا ڈرگ ٹیسٹ کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی پیشگی اور باخبر رضامندی لینا لازمی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر رضامندی کے کیے گئے ٹیسٹس نہ صرف غیرقانونی ہو سکتے ہیں بلکہ بچوں کی پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی تصور ہوں گے۔ اسی لیے سکولوں میں کسی بھی ہیلتھ پروفائلنگ پروگرام کا انحصار والدین کے اعتماد اور شفاف طریقہ کار پر ہو گا۔


ماضی کے تجربات اور موجودہ چیلنجز

پنجاب میں اس سے قبل بھی مختلف ادوار میں سکولوں میں صحت، غذائیت اور منشیات سے آگاہی کے پروگرام متعارف کرائے گئے، تاہم بیشتر اقدامات مستقل فنڈنگ، تربیت یافتہ عملے اور انتظامی تسلسل کی کمی کے باعث دیرپا ثابت نہ ہو سکے۔

2010 کی دہائی میں انسدادِ تمباکو اور منشیات آگاہی مہمات شروع کی گئیں، مگر یہ منصوبے محدود علاقوں اور مختصر مدت تک ہی جاری رہ سکے۔


ماہرین کی رائے: کامیابی کن شرائط سے مشروط؟

تعلیم اور صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مجوزہ ہیلتھ پروفائلنگ پروگرام:

  • والدین کی رضامندی

  • تربیت یافتہ طبی و نفسیاتی عملہ

  • طلبا کے ڈیٹا کی مکمل رازداری

  • مستقل فنڈنگ اور نگرانی

کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ نوجوانوں کو منشیات کے خطرات سے بچانے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ منصوبہ بھی ماضی کے کئی ادھورے پروگرامز کی طرح ناکام ہونے کا خدشہ رکھتا ہے۔


حکومت کا مؤقف

محکمہ سکول ایجوکیشن کے حکام کے مطابق اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام قانونی، طبی اور سماجی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبا کو مجرم بنانا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے تاکہ پنجاب کی نوجوان نسل کو منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بروقت بچایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button