
یورپی یونین کا پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ مہینوں میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 6,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
ڈی پی اے کیساتھ
یورپی یونین نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر کیا گیا، جسے ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کی ایک بڑی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران کی انقلابی گارڈ کور کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ ایسی حکومت جو اپنے ہی ہزاروں شہریوں کے قتل میں ملوث ہو، وہ دراصل اپنی تباہی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے۔‘‘
یہ فیصلہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کیے گئے خونریز کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ مہینوں میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 6,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد کو گرفتار یا لاپتا کر دیا گیا ہے۔
مزید پابندیاں اور اثاثوں کی ضبطی
پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے ایران کے 15 اعلیٰ عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت متاثرہ افراد اور اداروں کے یورپ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان کے یورپی ممالک کے سفر پر مکمل پابندی ہو گی۔
یورپی یونین نے مزید چھ ایرانی تنظیموں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جن میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو آن لائن مواد کی نگرانی اور انٹرنیٹ کنٹرول سے منسلک ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ تین ہفتوں سے انٹرنیٹ کی شدید بندش جاری ہے، جسے حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کے برابر حیثیت
کایا کالاس کے مطابق اس فیصلے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کو القاعدہ، داعش اور حماس جیسے شدت پسند گروہوں کے برابر تصور کیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب ایران میں نہ صرف ایک طاقتور نیم فوجی فورس ہے بلکہ اس کے ملک بھر میں وسیع تجارتی اور معاشی مفادات بھی ہیں، جن میں تعمیرات، توانائی، بینکاری اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے شامل ہیں۔ اب یورپی یونین کے دائرہ اختیار میں موجود ان اثاثوں کو ضبط کیے جانے کا امکان ہے۔
عالمی ردعمل اور ایران کا مؤقف
فی الحال ایران کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ دنوں میں ایرانی حکام یورپی ممالک پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا پہلے ہی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، جب کہ برطانیہ میں بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی یونین کا یہ اقدام ایران کے ساتھ سفارتی مکالمے کے امکانات کو مزید محدود کر سکتا ہے۔ جرمن مارشل فنڈ کی نائب ڈائریکٹر کرسٹینا کاؤش کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک ’’علامتی مگر طاقتور‘‘ قدم ہے، جو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے کو ناکام تصور کرنے لگی ہے۔
معاشی اثرات
ان پابندیوں کے فوری اثرات ایران کی معیشت پر بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جمعرات کے روز ایرانی کرنسی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں ایک ڈالر 16 لاکھ ریال تک جا پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈالیں گی۔
نتیجہ
یورپی یونین کا پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا نہ صرف ایران کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران کے ردعمل اور عالمی برادری کے اگلے اقدامات پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔



