
امریکہ نئی بنگلہ دیشی حکومت سے تعاون کا طلب گار کیوں؟
شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکا کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس سے ویزا سروسز اور دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔
روئٹرز
امریکی سفیر کا یہ بیان حال ہی میں چین کی جانب سے بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری قائم کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی معاہدہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے پر غیر ملکی سفارت کاروں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پر چین کے تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔

سفیر کرسٹینسن نے کہا، ”امریکہ جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش رکھتا ہے اور بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے تاکہ چین کے ساتھ بعض اقسام کے روابط کے خطرات کو واضح طور پر بیان کیا جا سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”امریکہ بنگلہ دیش کی عسکری ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف آپشنز فراہم کر سکتا ہے، جن میں امریکی نظام اور اتحادی شراکت داروں کے دفاعی نظام شامل ہیں تاکہ چینی نظام کا متبادل فراہم کیا جا سکے۔‘‘
تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔ چین کی وزارت خارجہ نے روئٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ چین اور بنگلہ دیش جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور سیاسی، معاشی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
بیان میں کہا گیا، ”ہمارا باہمی مفاد پر مبنی اور دوستانہ تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے اور ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ کرسٹینسن نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات ہوں تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے۔
شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکا کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس سے ویزا سروسز اور دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔
تجارتی سفارت کاری ترجیح
امریکی سفیر نے کہا کہ متعدد امریکی کمپنیاں بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، لیکن وہ نئی حکومت سے یہ واضح اشارہ چاہیں گی کہ ملک ”کاروبار کے لیے کھلا‘‘ رہے۔

انہوں نے کہا، ”تجارتی سفارت کاری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہم نئی حکومت کے ساتھ مل کر عبوری حکومت کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، خاص طور پر تجارتی، معاشی اور سکیورٹی تعلقات کے شعبوں میں۔‘‘
توانائی کمپنی شیورون کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش میں کام کر رہی ہے، تاہم 175 ملین آبادی والے اس ملک میں دیگر امریکی کمپنیاں زیادہ نمایاں نہیں۔ زیادہ ٹیکس اور منافع بیرون ملک منتقل کرنے میں مشکلات سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹ سمجھی جاتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں اسٹاربکس یا میکڈونلڈز کے آؤٹ لیٹس بھی موجود نہیں۔
سفیر نے کہا کہ واشنگٹن ”جس حکومت کو بنگلہ دیشی عوام منتخب کریں گے‘‘ اس کے ساتھ کام کرے گا۔
روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد
بنگلہ دیش میں مقیم تقریباً 12 لاکھ روہنگیا مہاجرین کے حوالے سے امریکی سفیر نے کہا، ”امریکہ روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے امدادی اقدامات کا سب سے بڑا معاون ہے اور بنگلہ دیش میں صحت کے شعبے میں مضبوط پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ حالیہ دو ارب ڈالر کے عالمی فریم ورک کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد امداد کو مؤثر بنانا ہے۔
انہوں نے دیگر بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ بھی زیادہ ذمہ داری اٹھائیں،”امریکہ تنہا یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ عالمی شراکت داروں کو روہنگیا بحران کے لیے اپنی معاونت بڑھانی ہوگی۔‘‘
حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین روہنگیا کمیونٹی کے لیے خاطر خواہ فنڈز جمع کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے، جس کے باعث ان کے راشن میں کمی اور بعض اسکولوں کی بندش جیسے اقدامات کرنا پڑے۔



