
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوزکے ساتھ
لاہور، 12 فروری 2026: سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے "لڑائی سے ماورا فضائی طاقت: جنگ کے علاوہ عسکری عملیات میں پاک فضائیہ کا کردار” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیمینار کا مقصد فضائی طاقت کے اہمیت کو سمجھنا اور اس کے جنگ کے علاوہ دیگر عسکری آپریشنز میں کردار پر روشنی ڈالنا تھا۔ سیمینار میں جامعات سے وابستہ اساتذہ، ماہرین، سینئر فوجی افسران اور دیگر متعلقہ شعبوں کے افراد نے شرکت کی۔
کَیس لاہور کا تعلیمی کردار اور سیمینار کی اہمیت
کَیس لاہور ایک خودمختار تھنک ٹینک کے طور پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد قومی سلامتی اور اس کے وسیع تر تناظر کو سمجھنا اور اس پر علمی بحث کا آغاز کرنا ہے۔ اس سیمینار میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے اپنی تحقیق، تجربات اور نظریات کا تبادلہ کیا، جس سے نہ صرف فضائی طاقت کی اہمیت اجاگر ہوئی بلکہ جنگ کے علاوہ عسکری آپریشنز میں اس کے کردار کو بھی روشنی میں لایا گیا۔
آغاز اور کلیدی خطاب: ایئر مارشل آصف سلیمان کا نظریہ
سیمینار کا آغاز کَیس لاہور کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، جناب امیر عبداللہ خان کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ایئر مارشل آصف سلیمان ریٹائرڈ، صدر کَیس لاہور، نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے فضائی طاقت کے ارتقا کو اجاگر کرتے ہوئے اسے صرف جنگی ہتھیار سے آگے بڑھ کر ہیومن سیکیورٹی کے ایک اہم معاون کے طور پر بیان کیا۔
ایئر مارشل آصف سلیمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، کمزور انفراسٹرکچر، حکمرانی پر دباؤ اور انسانی بحرانوں نے فضائی طاقت کی عملی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی فوری فیصلہ سازی کی ضرورت پیش آتی ہے، بنیادی ڈھانچے کی نزاکت ہوتی ہے یا موسمیاتی ہنگامی حالات کا سامنا ہوتا ہے تو فضائی اور خلائی طاقت اکثر سب سے پہلے ردعمل دینے والی قوت بن جاتی ہے۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ کے ہیومن سیکیورٹی میں کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ مختلف نوعیت کی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مداخلت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہین اختر کی تجزیاتی گفتگو
پروفیسر ڈاکٹر شاہین اختر، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے، نے اپنے خطاب میں روایتی سلامتی کے اداروں کی تبدیلی اور ان کے غیر روایتی چیلنجز کا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی سلامتی کے نظریات نے ہمیشہ ریاستی اور عسکری خطرات کو ہی اہمیت دی اور ماحولیاتی مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا۔ تاہم، موسمی دباؤ، حکمرانی کی کمزوری اور انسانی بحرانوں کے سبب ادارہ جاتی تبدیلی کا عمل ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے جنگ کے علاوہ عسکری عملیات کو ایک عملی پُل قرار دیا جو مختلف فریقوں کے درمیان اشتراک کو ممکن بناتا ہے۔ انہوں نے شہری بالادستی اور حکومتی اختیارات کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ادارہ جاتی تجاوزات سے بچا جا سکے۔
ایئر وائس مارشل ناصر الحق وائیں کا تجرباتی جائزہ
ایئر وائس مارشل ناصر الحق وائیں ریٹائرڈ، ڈائریکٹر کَیس اسلام آباد، نے پاک فضائیہ کے انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے میں بڑھتے ہوئے کردار کا تجرباتی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلے، 2010 کے سیلاب، کووڈ-19 اور حالیہ موسمیاتی ہنگامی حالات جیسے بڑے بحرانوں میں پاک فضائیہ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی قیادت نے انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے کی ثقافت اور حکمت عملی کا حصہ بن گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت اس روایت کو مزید آگے بڑھا رہی ہے اور فضائی نقل و حمل، ہیلی کاپٹر صلاحیت، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور بین الادارہ تعاون میں اضافے کے ذریعے ان کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔
اختتامی کلمات: ایئر مارشل آصف سلیمان کا پیغام
سیمینار کے اختتام پر ایئر مارشل آصف سلیمان ریٹائرڈ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے علاوہ عسکری آپریشنز میں فضائی طاقت کا بڑھتا ہوا کردار، سلامتی کے ماحول میں ساختی تبدیلیوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی طاقت کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر انسانی سلامتی کے فرائض میں، اور اس کا استعمال صحیح نظریے، شہری ہم آہنگی اور اسٹریٹجک بصیرت کے تحت کیا جانا ضروری ہے تاکہ قومی استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
سوال و جواب کی نشست: نظریاتی وضاحت اور ادارہ جاتی تطبیق
سیمینار کے اختتام پر ایک سوال و جواب کی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے جنگ کے علاوہ عسکری آپریشنز میں فضائی طاقت کے مؤثر استعمال کے حوالے سے اپنی تشویشات اور سوالات پیش کیے۔ اس نشست میں نظریاتی وضاحت، ادارہ جاتی تطبیق اور بین الادارہ ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ کے علاوہ عسکری آپریشنز میں فضائی طاقت کے کردار کو مزید واضح اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔
کَیس لاہور کی اہمیت
سیمینار کی کامیاب اختتامیہ سے اس بات کا بھی تاثر ملا کہ کَیس لاہور نے ایک سنجیدہ اور فکری بحث کو فروغ دیا ہے۔ اس فورم نے نہ صرف فضائی طاقت کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کے مختلف پہلوؤں پر گہری اور سائنسی بحث بھی کی۔ اس قسم کے سیمینارز مستقبل میں اس اہم موضوع پر مزید آگاہی پھیلانے اور فیصلہ سازوں کو بہتر حکمت عملی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
نتیجہ: فضائی طاقت کا مستقبل اور ادارہ جاتی تبدیلی
اس سیمینار نے واضح طور پر یہ بات ثابت کی کہ جنگ کے علاوہ عسکری آپریشنز میں فضائی طاقت کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، اور اس کا استعمال صرف جنگی تیاری تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ انسانی سلامتی کے لیے ایک اہم معاون بن چکا ہے۔ مختلف ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے فضائی طاقت کی ضرورت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے لیے جدید اسٹریٹجک بصیرت، ادارہ جاتی تعاون اور عالمی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔



