پاکستاناہم خبریں

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر عالمی تشویش، طالبان حکومت پر دباؤ میں اضافہ

فو کونگ کے مطابق افغانستان میں سرگرم یہ دہشتگرد تنظیمیں نہ صرف ملک کے اندر بدامنی کا باعث بن رہی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان کی مبینہ پشت پناہی کے باعث طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں بلکہ پڑوسی ممالک کی سلامتی کو بھی براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں چین کی طالبان پر تنقید

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے افغانستان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے طالبان حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد خطرناک دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں داعش، ای ٹی آئی ایم (ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ) اور دیگر شدت پسند گروہ شامل ہیں۔

فو کونگ کے مطابق افغانستان میں سرگرم یہ دہشتگرد تنظیمیں نہ صرف ملک کے اندر بدامنی کا باعث بن رہی ہیں بلکہ پڑوسی ممالک کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث پورے خطے میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

چینی شہریوں پر حملوں کی مذمت

چینی مندوب نے افغانستان میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان واقعات میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین افغانستان سے ہونے والی ہر قسم کی دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

فو کونگ نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو سنجیدگی سے تسلیم کرے اور افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دہشتگرد تنظیم کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

دہشتگرد عناصر کے خاتمے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں موجود تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف واضح اور مؤثر اقدامات کریں اور ان عناصر کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے بغیر افغانستان میں امن اور استحکام کا قیام ممکن نہیں۔

عالمی ماہرین کی تشویش

عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان ایک مرتبہ پھر مختلف دہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض علاقائی قوتوں کے درمیان مبینہ تعاون بھی خطے کی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے بعض عناصر کے درمیان روابط خطے میں امن و استحکام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر تائید

سفارتی مبصرین کے مطابق دنیا بھر سے اٹھنے والی آوازیں اس مؤقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان بھی مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے کے امن، سلامتی اور معاشی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں عالمی برادری، علاقائی طاقتوں اور افغان حکام کے درمیان مؤثر تعاون ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button