یورپتازہ ترین

سوئٹزرلینڈ میں آبادی محدود کرنے کی تجویز پر عوامی حمایت میں اضافہ، حکومت کی مخالفت برقرار

حکام کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی معیشت بڑی حد تک بیرونی افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے، اور ایسی پابندیاں کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

برن:سوئٹزرلینڈ  میں رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ شہریوں کی معمولی اکثریت آئندہ ریفرنڈم میں ملک کی آبادی کو 10 ملین تک محدود کرنے کی تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ تجویز دائیں بازو کی جماعت Swiss People’s Party کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جس پر 14 جون کو ووٹنگ ہونا ہے۔


سروے کے نتائج: حمایت میں بتدریج اضافہ

یہ سروے میڈیا گروپ Tamedia، اخبار 20 Minuten اور پولنگ ادارے Leewas کے اشتراک سے کیا گیا۔ 22 اور 23 اپریل کو ہونے والے اس سروے میں 16,176 افراد نے حصہ لیا، جن میں:

  • 52 فیصد افراد نے تجویز کی حمایت کی یا اس کی طرف مائل تھے
  • 46 فیصد نے مخالفت کی
  • جبکہ باقی نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی

یہ نتائج اخبار Tages-Anzeiger میں شائع ہوئے۔

مارچ کے اوائل میں ہونے والے ایک سابقہ سروے میں صرف 45 فیصد افراد اس تجویز کے حق میں تھے جبکہ 47 فیصد اس کے خلاف تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی رجحان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔


حکومت کا مؤقف: معیشت اور یورپی تعلقات کو خطرہ

سوئس حکومت نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نفاذ سے European Union کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق:

  • آزادانہ نقل و حرکت (Freedom of Movement) کے معاہدے کا خاتمہ ہوگا
  • لیبر مارکیٹ محدود ہو جائے گی
  • اقتصادی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے

حکام کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی معیشت بڑی حد تک بیرونی افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے، اور ایسی پابندیاں کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔


عوامی خدشات: آبادی میں اضافہ اور انفراسٹرکچر پر دباؤ

دوسری جانب اس تجویز کی حمایت کرنے والے شہریوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پبلک انفراسٹرکچر، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی خدمات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:

  • سوئٹزرلینڈ کی موجودہ آبادی 90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے
  • 2024 تک غیر ملکی شہریوں کا تناسب 27 فیصد سے زیادہ تھا

یہ عوامل کئی شہریوں کو اس بات پر قائل کر رہے ہیں کہ آبادی کی حد مقرر کرنا ضروری ہے۔


مجوزہ قانون کی تفصیلات

اس تجویز کے تحت:

  • 2050 تک مستقل رہائشی آبادی 10 ملین سے زیادہ نہ ہو
  • یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کا معاہدہ ختم کیا جائے

یہ اقدامات سوئٹزرلینڈ کی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔


سیاسی پس منظر اور جاری مباحث

Swiss People’s Party، جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، یورپی یونین کے ساتھ مزید انضمام کی مخالفت کرتی ہے۔ اس کے مطابق:

  • یورپی یونین کے قوانین سوئس خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں
  • اضافی ضوابط ملکی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں

ادھر سوئس قانون ساز اس وقت ایک نئے سوئس-یورپی معاہدے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔


عالمی تناظر اور معاشی دباؤ

یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سوئٹزرلینڈ کو 2025 میں غیر متوقع معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں امریکہ کی جانب سے یورپی ممالک پر عائد کیے گئے تجارتی ٹیرفس بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان حالات میں امیگریشن پالیسی پر سختی یا نرمی دونوں کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔


نتیجہ

سوئٹزرلینڈ میں آبادی کو محدود کرنے کی تجویز پر بڑھتی ہوئی عوامی حمایت ایک اہم سیاسی اور سماجی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم حکومت کی مخالفت اور ممکنہ معاشی اثرات اس معاملے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ آئندہ ریفرنڈم نہ صرف ملک کی امیگریشن پالیسی بلکہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی سمت بھی متعین کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button