صحتتازہ ترین

پاکستان اور ترکیہ کا شعبہ صحت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ، مشترکہ ماہرین ٹیم قائم کی جائے گی

اس ٹیم کا مقصد جدید طبی طریقہ کار، تربیتی پروگرامز اور صحت کے نظام میں بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان اور ترکیہ نے شعبہ صحت میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور باہمی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مشترکہ ماہرینِ صحت ٹیم تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، تربیت کے مواقع بڑھانا اور تکنیکی مہارت کا تبادلہ ممکن بنانا ہے۔

وزیرِ صحت اور ترک سفیر کی اہم ملاقات
یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفی کمال اور پاکستان میں ترکیہ کے سفیر کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشترکہ ماہرین ٹیم کی تشکیل
حکام کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے ماہرینِ صحت پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو ان شعبوں کی نشاندہی کرے گی جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس ٹیم کا مقصد جدید طبی طریقہ کار، تربیتی پروگرامز اور صحت کے نظام میں بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔

پاکستان کے شعبہ صحت کو درپیش چیلنجز
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے صحت کے شعبے کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں محدود وسائل، طبی سہولیات تک غیر مساوی رسائی اور درآمدی طبی آلات پر انحصار شامل ہیں۔ ان مسائل کے باعث نظامِ صحت کی کارکردگی اور نتائج کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر پر توجہ
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دیا جائے اور شعبہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے جدید ہسپتالوں، تربیتی مراکز اور طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

طبی آلات اور ٹیکنالوجی میں تعاون
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ترکیہ نے طبی آلات اور دیگر صحت سے متعلق مصنوعات کی پیداوار، تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سطح پر طبی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ درآمدی انحصار میں کمی اور لاگت میں بھی کمی متوقع ہے۔

دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور صحت کے شعبے میں ایک مؤثر شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔ اس تعاون سے دونوں ممالک کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button