
سعودی عرب میں 1300 سال سے زائد قدیم مسجد کے آثار دریافت، پتھروں پر ابتدائی اسلامی دور کی تحریریں بھی محفوظ
الباحہ کے المَعمَلہ آثارِ قدیمہ میں پہلی صدی ہجری سے منسوب مسجد سامنے آگئی؛ محراب، تین داخلی راستے، مربع مینار اور آٹھ ملحقہ کمروں کے آثار دریافت
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے ساتھ
الـباحہ/ریاض: سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے الباحہ میں آثارِ قدیمہ کی ایک اہم دریافت نے ابتدائی اسلامی دور میں جزیرۂ عرب کے مذہبی، شہری اور معاشی ماحول پر نئی روشنی ڈال دی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے العقیق گورنریٹ کے المَعمَلہ (Al-Ma’mala) تاریخی مقام پر جاری کھدائی کے چوتھے مرحلے کے دوران ایک ایسی قدیم مسجد کے آثار دریافت کیے ہیں جسے پہلی صدی ہجری سے منسوب کیا جا رہا ہے اور جس کی عمر 1300 سال سے زیادہ بنتی ہے۔
یہ دریافت صرف ایک قدیم عمارت کی باقیات تک محدود نہیں بلکہ مسجد کی دیواروں پر محفوظ اسلامی نقوش، محراب، داخلی راستوں، مینار اور اس کے گرد موجود رہائشی و معاشرتی ڈھانچے اس دور کی مذہبی زندگی، تعمیراتی روایت اور روزمرہ معاشرت کے بارے میں بھی اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔
پہلی صدی ہجری سے منسوب مسجد
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق دریافت ہونے والی مسجد کا تعلق پہلی صدی ہجری سے قرار دیا جا رہا ہے، یعنی یہ ابتدائی اسلامی دور کی تعمیرات میں شمار ہوتی ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق یہ مسجد ساتویں صدی عیسوی یا آٹھویں صدی عیسوی کے ابتدائی عرصے سے تعلق رکھ سکتی ہے۔
قدیم مسجد کی دریافت اس لیے اہم ہے کہ اس سے جنوبی اور جنوب مغربی عرب میں اسلام کے ابتدائی ادوار کے دوران مذہبی عمارتوں کے ڈیزائن، تعمیراتی تکنیک اور آبادی کے طرزِ زندگی کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
المَعمَلہ میں کھدائی کا چوتھا مرحلہ
یہ مسجد المَعمَلہ کے مقام پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے چوتھے سیزن کے دوران دریافت ہوئی۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن کئی برس سے اس مقام پر منظم آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور دستاویز بندی کر رہا ہے۔
اس مقام پر اس سے قبل بھی پتھروں سے تعمیر شدہ عمارتوں، رہائشی یونٹس، ذخیرہ گاہوں، برتنوں، شیشے، دھات اور پتھر کے اوزاروں سمیت متعدد آثار دریافت کیے جا چکے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں مسجد کی دریافت نے اس پورے مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
16 میٹر لمبی اور 10 میٹر چوڑی مسجد
دریافت ہونے والی مسجد کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً 16 میٹر شمال سے جنوب اور 10 میٹر مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا ہے۔
عمارت کو تراشے ہوئے گرینائٹ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق تعمیر میں سادگی اور ترتیب نمایاں ہے، جبکہ اندرونی حصوں میں جپسم پلاسٹر کے آثار بھی محفوظ ہیں۔
یہ تعمیراتی شواہد اس دور میں مقامی سطح پر دستیاب پتھروں اور روایتی تعمیراتی مہارت کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
محراب نے قبلے کی سمت محفوظ رکھی
مسجد کے اندر سے محراب کے آثار بھی ملے ہیں، جس سے عمارت کی مذہبی شناخت مزید واضح ہوتی ہے۔
صدیوں کے گزرنے کے باوجود محراب کا باقی رہنا اس عمارت کی ساخت اور اس کے مذہبی استعمال کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ محراب قدیم مسجد میں قبلے کی سمت کی نشاندہی کرنے والا بنیادی architectural عنصر تھا۔
تین داخلی راستوں کے آثار
آثارِ قدیمہ کی دستاویزات کے مطابق مسجد کے تین داخلی راستے بھی شناخت کیے گئے ہیں۔
یہ دروازے مشرقی، مغربی اور جنوبی اطراف میں واقع تھے۔ داخلی راستوں کی یہ ترتیب اس دور کی مسجد کے داخلی و خارجی نظم اور عمارت کے استعمال کے انداز کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
جنوب مشرقی حصے میں مربع مینار
مسجد کے جنوب مشرقی حصے میں ایک مربع شکل کے مینار کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ architectural feature اس دریافت کو مزید اہم بناتا ہے، کیونکہ اس سے ابتدائی اسلامی دور میں مساجد کے تعمیراتی عناصر اور مقامی طرزِ تعمیر کے باہمی تعلق کا مطالعہ ممکن ہوگا۔ تاہم مینار کی اصل اونچائی اور اس کے مکمل استعمال کے بارے میں مزید آثار اور تحقیق درکار ہوگی۔
دیواروں پر اسلامی نقوش، سب سے اہم دریافت
اس دریافت کا سب سے نمایاں پہلو مسجد کے اندر اور بیرونی حصے میں ملنے والے اسلامی نقوش ہیں۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق قبلہ دیوار اور مسجد کی بیرونی دیوار پر قدیم عربی تحریروں کے آثار محفوظ ہیں۔ ان میں دعائیہ عبارتیں اور قرآنی متن شامل ہیں۔
ان نقوش کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ محض تعمیراتی باقیات نہیں بلکہ اس دور کے مسلمانوں کی مذہبی زبان، دعائیہ اظہار اور تحریری روایت کے براہِ راست آثار فراہم کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کی عبارت
قبلہ دیوار سے ملنے والے ایک نقش میں حضرت محمد ﷺ کے لیے دعائیہ کلمات درج ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس عبارت میں نبی کریم ﷺ کے لیے برکت اور درود کی دعا شامل ہے۔ یہ نقش ابتدائی اسلامی دور کے مذہبی اظہار اور تحریری روایت کے مطالعے کے لیے اہم تاریخی مواد فراہم کرتا ہے۔
صدیوں بعد بھی محفوظ مذہبی تحریریں
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے لیے ایسی تحریروں کی اہمیت اس بات میں ہے کہ عمارت کے انہدام اور صدیوں تک مٹی اور دیگر تہوں کے نیچے رہنے کے باوجود کچھ تحریری شواہد محفوظ رہے۔
یہ نقوش اس دور کے لوگوں کے مذہبی تصورات، دعائیہ زبان اور تحریری ثقافت کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک مادی ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
مسجد کے ساتھ آٹھ کمروں کے آثار
کھدائی کے دوران مسجد کے ساتھ آٹھ ملحقہ کمروں کے آثار بھی ملے ہیں۔
ان کمروں اور دیگر ساختی عناصر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد ممکنہ طور پر ایک وسیع تر آبادی یا منظم رہائشی و معاشرتی مرکز کا حصہ تھی، نہ کہ مکمل طور پر الگ تھلگ عبادت گاہ۔ بعض حصوں میں ذخیرہ کرنے کی جگہوں، پانی کے انتظام اور دیگر معاون ڈھانچوں کے شواہد بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
مسجد کے گرد ایک زندہ آبادی کے آثار
مسجد کے اطراف سے ملنے والی رہائشی عمارتیں اس دریافت کو مزید وسیع تاریخی تناظر فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کو مختلف ادوار کی کھدائی میں ایسے شواہد ملے ہیں جو بتاتے ہیں کہ المَعمَلہ میں لوگ رہتے، کام کرتے، اشیا تیار کرتے اور تجارت کرتے تھے۔ اس تناظر میں مسجد اس آبادی کی مذہبی زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہوگی۔
المَعمَلہ صرف مذہبی مقام نہیں تھا
المَعمَلہ کا تاریخی مقام اپنی مذہبی باقیات کے ساتھ ساتھ کان کنی اور معدنی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
سعودی ذرائع کے مطابق اس مقام پر سونے، چاندی اور تانبے سمیت معدنی ذخائر کے حصول، پروسیسنگ اور پیداوار سے متعلق شواہد اور تنصیبات دریافت ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے یہ مقام قدیم دور میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا ہوگا۔
مسجد اور معاشی سرگرمیوں کا تاریخی تعلق
قدیم آبادیوں میں عبادت گاہیں اکثر صرف نماز کی جگہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ سماجی زندگی کے اہم مراکز بھی ہوتی تھیں۔
المَعمَلہ میں مسجد کے ساتھ رہائشی کمروں، ذخیرہ گاہوں اور دیگر ساختی عناصر کی موجودگی اس بات کے مطالعے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ابتدائی اسلامی دور میں مذہبی عمارتیں کس طرح مقامی معاشی اور سماجی نظام کا حصہ تھیں۔
مٹی کے برتن اور روزمرہ زندگی کے شواہد
کھدائی کے دوران مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، صابن پتھر کے برتن، پتھر کے اوزار، دستکاری سے متعلق اشیا اور شیشے کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔
ان میں پیسنے والے اوزار، دستار یا ہاون جیسے آلات اور چکی کے حصے بھی شامل ہیں۔ یہ اشیا اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ قدیم آبادی میں خوراک کی تیاری، گھریلو کام، دستکاری اور دیگر روزمرہ سرگرمیاں جاری تھیں۔
رنگین شیشے کے برتنوں کے ٹکڑے
اس مقام سے سبز اور سرمئی سمیت مختلف رنگوں کے شیشے کے برتنوں کے ٹکڑے بھی دریافت ہوئے ہیں۔
شیشے کے برتنوں کی موجودگی اس دور کی مقامی زندگی کے ساتھ ساتھ تجارتی روابط اور اشیا کی نقل و حرکت کے بارے میں بھی مزید تحقیق کی راہ کھولتی ہے۔
قدیم ’ہاتھی روڈ‘ کے قریب اہم مقام
المَعمَلہ کی جغرافیائی اہمیت بھی قابلِ ذکر ہے۔ یہ مقام العقیق سے تقریباً 13 کلومیٹر مشرق اور الباحہ شہر سے تقریباً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ مقام قدیم درب الفیل، یعنی ’ہاتھی روڈ‘ کے قریب واقع تھا۔ یہ راستہ اسلام سے قبل جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کے لیے اہم زمینی راستوں میں شمار ہوتا تھا اور بعد کے اسلامی ادوار میں سفر اور زیارت کے راستوں سے بھی اس کا تعلق رہا۔
تجارت، سفر اور عبادت کا سنگم
المَعمَلہ کے مقام کو صرف ایک رہائشی بستی کے طور پر دیکھنا اس کی مکمل تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔
کان کنی، دستکاری، تجارت، رہائش اور مذہبی سرگرمیوں کے شواہد ایک ایسے معاشرتی ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں مختلف انسانی سرگرمیاں ایک ہی جغرافیائی مرکز میں جمع تھیں۔
اس ماحول میں مسجد ایک ایسے ادارے کے طور پر موجود تھی جو مذہبی زندگی کے ساتھ ساتھ بستی کے سماجی ڈھانچے کا حصہ بھی رہی ہوگی۔
پہلے کے کھدائی کے مراحل نے کیا بتایا؟
المَعمَلہ میں چوتھے مرحلے سے پہلے کی کھدائیوں نے بھی یہاں ایک پیچیدہ قدیم آبادی کی موجودگی کے شواہد فراہم کیے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تیسرے مرحلے میں سیکڑوں آثار، جن میں 230 مٹی کے برتن، 48 پتھر کے ٹکڑے، 26 رنگین شیشے کے ٹکڑے، 35 دھاتی اوزار اور 17 پتھر کے اوزار شامل تھے، دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے۔
یہ مجموعہ ظاہر کرتا ہے کہ المَعمَلہ میں زندگی محض محدود رہائشی سرگرمیوں تک نہیں تھی بلکہ یہاں صنعتی، تجارتی اور گھریلو سرگرمیوں کا ایک وسیع نظام موجود تھا۔
اسلام سے پہلے بھی اہمیت رکھنے والا مقام
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق المَعمَلہ کے آثار کی تاریخی تہیں اسلام سے بھی پہلے کے ادوار تک جاتی ہیں۔
یہ علاقہ معدنی سرگرمیوں کی وجہ سے اہم تھا اور وقت کے ساتھ مختلف تہذیبی و تاریخی ادوار میں استعمال ہوتا رہا۔ بعد میں ابتدائی اسلامی دور میں یہاں ایک مسجد کا قیام اس مقام کی تاریخی تبدیلی اور مذہبی زندگی کے پھیلاؤ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ابتدائی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک جھلک
ماہرین کے لیے مسجد کی تعمیراتی ساخت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
تراشے ہوئے گرینائٹ کے بلاکس، محراب، تین داخلی راستے، مربع مینار، جپسم پلاسٹر اور ملحقہ کمرے اس دور کی تعمیراتی تکنیکوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔
یہ شواہد اس بات کے مطالعے میں مدد دیتے ہیں کہ ابتدائی اسلامی دور میں مقامی تعمیراتی روایات کس طرح نئی مذہبی عمارتوں کے ڈیزائن کے ساتھ مربوط ہو رہی تھیں۔
1300 سال پرانے مقام سے آج کے لیے تاریخی پیغام
المَعمَلہ کی یہ دریافت ایک ایسے دور کی تصویر سامنے لاتی ہے جب اسلام عرب خطے میں نئی مذہبی اور سماجی حقیقت کے طور پر پھیل رہا تھا۔
ایک طرف معدنی سرگرمیاں، تجارت اور رہائشی زندگی جاری تھی، دوسری طرف ایک مسجد اس آبادی کی مذہبی ضروریات پوری کر رہی تھی۔ صدیوں بعد اسی مقام پر ہونے والی کھدائی نے اس اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دوبارہ سامنے لا دیا ہے۔
ماضی کے الفاظ، آج کے محققین کے سامنے
قدیم عمارتوں کی باقیات عام طور پر خاموش شواہد فراہم کرتی ہیں، مگر المَعمَلہ کی مسجد کے نقوش اس خاموشی کو تحریری شکل میں توڑتے ہیں۔
قبلہ دیوار پر محفوظ دعائیہ عبارتیں اور دیگر اسلامی تحریریں آج کے محققین کو ابتدائی اسلامی معاشرے کے مذہبی اظہار کا براہِ راست مادی ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
یہ تحریریں اس بات کی بھی یاد دہانی ہیں کہ آثارِ قدیمہ صرف عمارتوں اور اشیا کی تلاش کا نام نہیں بلکہ ماضی کے انسانوں کی سوچ، عقائد، معاشرت اور روزمرہ زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
مزید تحقیق سے مزید راز کھلنے کی توقع
المَعمَلہ میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن کی جانب سے اس مقام پر مزید سروے، کھدائی اور دستاویز بندی کا سلسلہ جاری رکھنے کی توقع ہے۔
آنے والی تحقیق سے مسجد کی تعمیر کے زیادہ درست زمانی تعین، اس کے استعمال کی مدت، آبادی کے پھیلاؤ اور المَعمَلہ کی معاشی سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
سعودی عرب کے آثارِ قدیمہ کا وسیع تاریخی تناظر
یہ دریافت سعودی عرب میں تاریخی و آثارِ قدیمہ کے مقامات کی منظم دستاویز بندی کے وسیع عمل کا حصہ ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران قدیم آبادیوں، مساجد، تجارتی راستوں اور صنعتی مراکز سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔
الباحہ خود بھی قدیم مساجد اور تاریخی تعمیرات کے حوالے سے اہم خطہ ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اسی علاقے میں الصفا مسجد کو بھی 1,350 سال سے زیادہ قدیم قرار دیا گیا ہے، جس سے خطے میں ابتدائی اسلامی معماری کے تسلسل کی اہمیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
ورثے کے تحفظ کی کوششیں
المَعمَلہ میں جاری آثارِ قدیمہ کا منصوبہ صرف دریافت تک محدود نہیں بلکہ تاریخی مواد کی دستاویز بندی اور تحفظ سے بھی متعلق ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق ایسے منصوبے ملک کے آثارِ قدیمہ اور تعمیراتی ورثے کو محفوظ بنانے اور ان کی علمی تحقیق کو آگے بڑھانے کا حصہ ہیں۔
ایک مسجد، ایک بستی اور تیرہ صدیوں کی تاریخ
المَعمَلہ کی دریافت کی اصل اہمیت شاید صرف اس بات میں نہیں کہ یہاں ایک 1300 سال سے زیادہ پرانی مسجد ملی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ مسجد کے ساتھ ایک مکمل انسانی ماحول کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔
محراب، داخلی راستے، مینار، ملحقہ کمرے، رہائشی عمارتیں، برتن، اوزار، شیشے اور معدنی سرگرمیوں کے شواہد مل کر ایک ایسی بستی کی تصویر بناتے ہیں جہاں لوگ عبادت بھی کرتے تھے، کام بھی کرتے تھے، تجارت بھی کرتے تھے اور روزمرہ زندگی بھی گزارتے تھے۔
پتھروں میں محفوظ ابتدائی اسلامی تاریخ
صدیوں کے سفر کے بعد المَعمَلہ کی مسجد کی باقیات آج اس دور کے مسلمانوں کی زندگی کا ایک مادی ریکارڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عمارت کا بڑا حصہ وقت کے ساتھ ختم ہوگیا، مگر اس کے بنیادی ڈھانچے، محراب، تعمیراتی عناصر اور دیواروں پر موجود اسلامی نقوش نے تاریخ کے ایک حصے کو محفوظ رکھا۔
1300 سال سے زیادہ پرانی یہ مسجد اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے پتھروں میں صرف ایک عمارت کی کہانی نہیں بلکہ ابتدائی اسلامی معاشرے، اس کی مذہبی زندگی، مقامی تعمیراتی روایت، تجارت اور روزمرہ انسانی سرگرمیوں کی کئی پرتیں محفوظ ہیں۔
تیرہ صدیوں بعد بھی محفوظ ایک تاریخی تحریر
المَعمَلہ میں سامنے آنے والی مسجد ابتدائی اسلامی دور کے ان آثار میں شامل ہوگئی ہے جو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جزیرۂ عرب کے مختلف علاقوں میں مذہبی اور شہری زندگی کس طرح تشکیل پا رہی تھی۔
قبلہ دیوار پر محفوظ دعائیہ عبارت، محراب، قدیم تعمیراتی ڈھانچہ اور مسجد کے گرد موجود آبادی کے آثار ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں جو صدیوں پہلے یہاں آباد تھا، مگر جس کی زندگی کے کچھ نشان آج بھی مٹی اور پتھروں کے درمیان محفوظ ہیں۔
زمانہ بدل گیا، بستی ختم ہوگئی اور عمارت کے بیشتر حصے ماضی کا حصہ بن گئے، لیکن پتھروں پر محفوظ وہ قدیم اسلامی تحریریں آج بھی اس دور کی انسانی اور مذہبی زندگی کی گواہی دے رہی ہیں۔



