انٹرٹینمینٹتازہ ترین

پاکستان یورپین فلم فیسٹیول: اسلام آباد میں فلم، موسیقی اور ثقافتی رنگوں کا خوبصورت امتزاج

زائرین ایک طرف فلموں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو دوسری جانب انہیں مقامی فنون، دستکاری اور تخلیقی مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان کے دارالحکومت میں پانچواں یورپین فلم فیسٹیول یورپی اور پاکستانی سینما، موسیقی، دستکاری اور تخلیقی سرگرمیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لے آیا ہے۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں جاری فیسٹیول کے دوسرے روز خاندانوں، بچوں، فلم سازوں، فنکاروں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ فیسٹیول اسلام آباد کے بعد سیالکوٹ، جامشورو اور حیدرآباد کا رخ کرے گا۔

اسلام آباد میں جاری پانچویں یورپین فلم فیسٹیول نے فلمی نمائش کو محض اسکرین تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک وسیع ثقافتی تجربے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں فلموں کے ساتھ موسیقی، مقامی دستکاری، بچوں کی تخلیقی سرگرمیاں، فنکاروں سے ملاقاتیں اور فلم و تخلیق سے متعلق مکالمے بھی جاری ہیں۔

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں منعقد ہونے والے اس فیسٹیول کا مقصد یورپی اور پاکستانی سنیما کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ ساتھ مختلف معاشروں کے درمیان ثقافتی تبادلے کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ناظرین فلم کے ذریعے مختلف معاشرتی تجربات، کہانیوں اور خیالات سے روشناس ہو سکیں۔

فلمی نمائش کے ساتھ مکمل ثقافتی تجربہ

فیسٹیول کے مقام کو رنگوں، تصاویر، فن پاروں اور ہاتھ سے تیار کی گئی اشیا سے سجایا گیا ہے۔ خاندانوں کے لیے فلموں کی نمائش کے ساتھ مختلف سرگرمیوں کے گوشے اور تخلیق کاروں و دستکاروں کے اسٹالز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

زائرین ایک طرف فلموں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو دوسری جانب انہیں مقامی فنون، دستکاری اور تخلیقی مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

یوں فیسٹیول نے سینما کو ایک ایسے اجتماعی تجربے میں تبدیل کر دیا ہے جس میں مختلف عمر کے افراد اپنی دلچسپی کے مطابق سرگرمیوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔

بچوں کے لیے خصوصی پروگرام

یورپین فلم فیسٹیول میں بچوں کے لیے بھی خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، جس میں یورپی ممالک کی متعدد اینیمیٹڈ اور بچوں کے لیے موزوں فلمیں شامل ہیں۔

کم عمر ناظرین کے لیے بیلجیئم اور پولینڈ کی فلمیں پیش کی گئیں، جن میں "Luce and the Rock”، "What’s Inside the Crate?”، "MoMo and LuLu” اور "Blue Bird” شامل ہیں۔

ان فلموں نے بچوں کو مختلف کہانیوں، کرداروں اور تخیلاتی دنیاؤں سے متعارف کرانے کے ساتھ والدین کے لیے بھی ایک مشترکہ خاندانی سرگرمی کا موقع فراہم کیا۔

فیسٹیول کے منتظمین نے بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف فلموں کی اسکریننگ پر انحصار نہیں کیا بلکہ ان کے لیے الگ ’کڈز کارنر‘ بھی قائم کیا گیا، جہاں بچے ڈرائنگ، رنگ بھرنے اور پینٹنگ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ سرگرمیاں بچوں کو فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

خاندانوں کے لیے تفریح اور سیکھنے کا موقع

فیسٹیول میں شریک خاندانوں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں بچوں کو تفریح کے ساتھ نئی ثقافتوں اور مختلف معاشروں کے بارے میں جاننے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

دو بچوں کے والد توصیف نے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چند برسوں سے اپنے خاندان کے ساتھ یورپین فلم فیسٹیولز میں شرکت کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ سرگرمی بچوں اور خاندانوں کے لیے معلوماتی ہونے کے ساتھ ایک مثبت مشترکہ تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔

فیسٹیول کا یہ پہلو اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ سینما کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے بچوں اور نوجوانوں میں تخیل، سوال کرنے اور مختلف معاشرتی تجربات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

ڈچ اور آسٹرین فلموں کی نمائش

فیسٹیول کے دوسرے روز ڈچ اور آسٹرین فلموں کے ساتھ پاکستانی آزاد فلموں کی نمائش بھی کی گئی۔

یورپی فلموں کی یہ نمائش پاکستانی ناظرین کو ان معاشروں کی کہانیوں اور سماجی موضوعات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ پاکستانی انڈیپنڈنٹ فلموں کی شمولیت مقامی تخلیق کاروں کو بھی اسی پلیٹ فارم پر اپنی آواز پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔

اس طرح فیسٹیول یک طرفہ طور پر یورپی فلموں کی نمائش تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی اور یورپی تخلیقی شعبوں کے درمیان باہمی رابطے اور مکالمے کو بھی فروغ دیتا ہے۔

’کریٹیوز مکسر‘ میں تخلیق کاروں کا مکالمہ

فیسٹیول کے دوسرے روز ’کریٹیوز مکسر‘ کے نام سے ایک خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں فلم سازوں، مواد تخلیق کرنے والوں، کہانی کاروں اور دیگر تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

اس نشست کا مقصد تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔

فلم سازی، کہانی سنانے اور ڈیجیٹل مواد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے دور میں ایسی نشستیں تخلیق کاروں کے درمیان رابطوں اور ممکنہ مشترکہ منصوبوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

فلم ثقافتی سرحدوں کو کم کر سکتی ہے: ڈچ سفیر

پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ نے فیسٹیول میں نیدرلینڈز کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فلم کو مختلف معاشروں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

ان کے مطابق فلمیں ناظرین کو ایسے موضوعات سے جوڑ سکتی ہیں جو ثقافتی حدود سے آگے بڑھ کر انسانی تجربے سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیگرٹ نے کہا کہ جب لوگ مختلف ممالک کی فلمیں دیکھتے ہیں تو انہیں ان میں ایسے موضوعات اور احساسات نظر آتے ہیں جن سے وہ خود بھی جڑ سکتے ہیں، جس سے ایک طرح کا مانوس پن پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر ڈچ فلموں میں بچوں کے دنیا کو دیکھنے کے انداز اور ان کے تخیل کے استعمال کا حوالہ دیا۔

ان کے مطابق فلموں میں شمولیت، باہمی اتحاد اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آتے ہیں اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوتا ہے کہ مختلف معاشروں کے ناظرین ان موضوعات کو کس طرح محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں۔

آسٹریا: ثقافت معاشروں کو قریب لانے کا ذریعہ

اسلام آباد میں آسٹریا کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہینس ماچور نے بتایا کہ آسٹریا کی جانب سے فیسٹیول کے لیے دو فلمیں "Out of Sync” اور "Roundabout” پیش کی گئی ہیں۔

ان کے مطابق ثقافت ممالک اور معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اہم ذریعہ ہے اور فلم اس مقصد کے لیے خاص طور پر مؤثر وسیلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

فلم کی خاصیت یہ ہے کہ یہ زبان اور جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر انسانی جذبات، تجربات اور مسائل کو ناظرین تک پہنچا سکتی ہے۔

اسی وجہ سے یورپین فلم فیسٹیول میں مختلف ممالک کی فلموں کو پاکستانی ناظرین کے سامنے پیش کرنا صرف تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ ثقافتی تبادلے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔

فلمی اسکرین سے باہر مقامی دستکاری کا رنگ

فیسٹیول میں آنے والے افراد کے لیے فلموں کے علاوہ مقامی دستکاری اور تخلیقی مصنوعات کے اسٹالز بھی خصوصی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

زائرین نے سیرامک فوڈ گریڈ کپ، لکڑی کے زیورات، ریزن آرٹ اور مقامی طور پر تیار کی گئی دیگر مصنوعات کے اسٹالز دیکھے۔

یہ حصہ فیسٹیول کو مقامی تخلیقی صنعت کے ساتھ جوڑتا ہے اور پاکستانی دستکاروں و نوجوان تخلیق کاروں کو اپنے کام کو وسیع تر ناظرین کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

’کھوج‘: پاکستانی مناظر اور ورثے سے متاثر بورڈ گیم

فیسٹیول میں ایک منفرد انٹرایکٹو سرگرمی ’کھوج‘ بھی شامل ہے۔

یہ ایک خصوصی بورڈ گیم ہے جسے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبہ منال عمر علوی نے ڈیزائن کیا ہے۔

اس گیم کے ڈیزائن میں پاکستان کے مناظر، ثقافتی ورثے اور پھولوں سے تحریک حاصل کی گئی ہے، جس کے باعث یہ فیسٹیول میں مقامی تخلیقی اظہار کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آیا۔

’کھوج‘ جیسے منصوبے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ثقافتی فیسٹیولز صرف روایتی فنون تک محدود نہیں بلکہ نوجوان نسل کے نئے اور تجرباتی تخلیقی خیالات کو بھی جگہ فراہم کر سکتے ہیں۔

موسیقی نے فیسٹیول کے ماحول کو مزید رنگین بنا دیا

فلموں اور دستکاری کے ساتھ فیسٹیول میں موسیقی کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔

پروگرام میں ’سنیماسالہ‘ کے نام سے لائیو میوزیکل پرفارمنس پیش کی گئی، جس نے فلمی سرگرمیوں کے ساتھ فیسٹیول کے ماحول کو مزید متحرک بنایا۔

لائیو موسیقی، فنون اور فلم کا امتزاج شرکا کے لیے ایک ایسا تجربہ فراہم کرتا ہے جس میں وہ صرف فلم دیکھنے والے ناظرین نہیں رہتے بلکہ پورے ثقافتی پروگرام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

’EUFF-Pakistan Express‘ اور دیگر انٹرایکٹو سرگرمیاں

فیسٹیول میں مختلف انٹرایکٹو تنصیبات بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں EUFF-Pakistan Express، وال آف فیم اور ہیومن سلاٹ گیم نمایاں ہیں۔

ان سرگرمیوں کا مقصد فلموں کی اسکریننگ کے درمیان زائرین کو دیگر تخلیقی تجربات فراہم کرنا ہے تاکہ فیسٹیول کا ماحول مسلسل متحرک رہے۔

ایسی سرگرمیاں خاص طور پر خاندانوں اور نوجوانوں کے لیے فیسٹیول میں زیادہ دیر تک دلچسپی برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

یورپی اور پاکستانی سینما کا امتزاج

پانچویں یورپین فلم فیسٹیول کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں یورپی فلموں، دستاویزی فلموں اور تجرباتی مختصر فلموں کو پاکستانی پروڈکشنز کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ انٹرایکٹو ثقافتی سرگرمیوں کی شمولیت فیسٹیول کو روایتی فلمی میلے سے مختلف بناتی ہے۔

فیسٹیول یورپی یونین کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جبکہ اولوموپولو میڈیا اس کی تیاری میں شریک ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف یورپی ممالک کے سینما کو پاکستانی ناظرین تک پہنچانے کے ساتھ مقامی فلم سازوں اور تخلیق کاروں کو بھی بین الاقوامی ثقافتی ماحول میں اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

ثقافتی سفارت کاری کا اہم پہلو

فلم فیسٹیولز دنیا کے مختلف معاشروں کے درمیان ثقافتی رابطے بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

ایسے پروگراموں میں لوگ صرف فلم نہیں دیکھتے بلکہ دوسرے معاشروں کے رہن سہن، مسائل، اقدار، تخیل اور انسانی تجربات سے بھی واقف ہوتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی اور تخلیقی شعبے کے لیے نئے مواقع کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسے فیسٹیولز مقامی فلم سازوں، طلبہ، فنکاروں اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے نئے روابط پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد کے بعد دیگر شہروں کا رخ

اسلام آباد میں سرگرمیوں کے بعد پانچواں یورپین فلم فیسٹیول پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی پہنچے گا۔

فیسٹیول 16 اور 17 ستمبر کو سیالکوٹ میں منعقد ہوگا، جبکہ 29 اور 30 ستمبر کو جامشورو اور حیدرآباد میں اس کی سرگرمیوں کا اختتام ہوگا۔

اس طرح فیسٹیول کو صرف دارالحکومت تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے مختلف شہروں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یورپی اور پاکستانی سنیما، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں سے زیادہ سے زیادہ ناظرین مستفید ہو سکیں۔

فلم سے مکالمے تک

اسلام آباد میں جاری پانچواں یورپین فلم فیسٹیول اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ سینما محض تفریح نہیں بلکہ معاشروں کے درمیان مکالمے، ثقافتی سمجھ بوجھ اور انسانی تجربات کے تبادلے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

بچوں کے لیے فلمیں اور تخلیقی سرگرمیاں، نوجوانوں کے لیے انٹرایکٹو گیمز اور مقامی مصنوعات، فلم سازوں کے لیے مکالمے اور عام ناظرین کے لیے یورپی و پاکستانی سینما—یہ تمام عناصر مل کر فیسٹیول کو ایک جامع ثقافتی تجربہ بنا رہے ہیں۔

اسلام آباد کے بعد سیالکوٹ، جامشورو اور حیدرآباد میں اس کی سرگرمیاں اس بات کا موقع فراہم کریں گی کہ ثقافت اور فلم کے ذریعے یورپ اور پاکستان کے درمیان روابط کو مزید وسیع کیا جائے اور پاکستانی ناظرین کو مختلف معاشروں کی کہانیوں اور تخلیقی اظہار سے قریب لایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button