
احسان احمد-ادارت
کراچی: پاک بحریہ کی بڑی دو سالہ بحری مشق ’سی اسپارک 2026‘ (SEASPARK-2026) کے سلسلے میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے سمندری اور کریکس کے علاقوں میں پاک بحریہ کے مختلف یونٹس کا دورہ کیا اور جاری مشق کے دوران آپریشنل سرگرمیوں اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔
یہ مشق پاکستان نیوی کی آپریشنل تیاری کو روایتی اور ابھرتے ہوئے بحری خطرات کے تناظر میں جانچنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں بحری جہازوں، آبدوزوں، طیاروں، بغیر پائلٹ نظام، میرینز، اسپیشل فورسز اور پاک فوج و پاک فضائیہ کے مشترکہ عناصر کو شامل کیا گیا ہے۔
کراچی سے بڑی بحری مشق کا آغاز
SEASPARK-2026 کا باضابطہ آغاز کراچی میں ہوا، جہاں افتتاحی بریفنگ کی صدارت چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کی۔ بریفنگ میں پاک بحریہ کے سینئر افسران کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کے دیگر شعبوں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کا بنیادی مقصد پاک بحریہ کی اس صلاحیت کو جانچنا ہے کہ وہ روایتی اور جدید نوعیت کے مختلف بحری خطرات کے مقابل کس حد تک مؤثر اور مربوط انداز میں کارروائی کر سکتی ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف کا مختلف یونٹس کا دورہ
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے مشق کے دوران سمندر اور کریکس کے علاقوں میں موجود مختلف پاک بحریہ یونٹس کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے جاری آپریشنل سرگرمیوں، یونٹس کی تیاری اور مشق کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ نیول چیف نے مشق میں شریک افسران اور اہلکاروں سے ملاقات بھی کی اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔
آپریشنل تیاری پر اظہار اطمینان
ایڈمرل نوید اشرف نے مشق میں شریک اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔
پاکستان نیوی کے مطابق موجودہ علاقائی سکیورٹی ماحول میں بحری افواج کے لیے مسلسل تیاری، تیز رفتار فیصلہ سازی اور مختلف نوعیت کے خطرات کے خلاف مربوط کارروائی کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
SEASPARK-2026 کی خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف روایتی بحری جنگی مشق تک محدود نہیں رکھا گیا۔ اس میں جدید جنگ کے ان پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں سائبر، انفارمیشن، بغیر پائلٹ نظام اور مختلف جنگی شعبوں کے درمیان مربوط کارروائیاں شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں ملٹی ڈومین آپریشنز کی ریہرسل کی جا رہی ہے، جس میں میری ٹائم، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک مربوط آپریشنل تصور کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
’ملٹی ڈومین آپریشنز‘ کیا ہیں؟
ملٹی ڈومین آپریشنز سے مراد ایسی فوجی کارروائیاں ہیں جن میں ایک ہی آپریشن کے دوران مختلف شعبوں اور صلاحیتوں کو مربوط کیا جاتا ہے۔
SEASPARK-2026 کے تناظر میں اس میں سمندری پلیٹ فارمز کے ساتھ فضائی اور زمینی عناصر، سائبر صلاحیتیں، خلائی بنیاد پر معاونت اور معلوماتی ماحول میں کارروائیوں کو مربوط کرنے کی مشق شامل ہے۔
اس تصور کا مقصد مختلف شعبوں کے درمیان معلومات کے تبادلے، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور فیصلہ سازی کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔
موجودہ مشق میں Operations in the Information Environment (OIE) کو بھی اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی ماحول میں معلومات، مواصلات، اطلاعاتی نظام اور دیگر متعلقہ ذرائع بھی آپریشنل منصوبہ بندی کا حصہ ہوں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انفارمیشن ڈومین میں کارروائیوں کو سمندر میں ہونے والی فزیکل یا کائنیٹک سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی مشق کی جا رہی ہے۔
بغیر پائلٹ نظام کا وسیع استعمال
SEASPARK-2026 میں Unmanned Systems یعنی بغیر پائلٹ کے نظام بھی شامل ہیں۔
جدید بحری سکیورٹی میں ایسے نظام نگرانی، معلومات جمع کرنے، سمندری صورتحال پر نظر رکھنے اور بعض دیگر آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان نیوی کے مطابق مشق میں ان نظاموں کی شمولیت کا مقصد مختلف جدید پلیٹ فارمز اور انسانی عملے کے درمیان آپریشنل رابطے اور صلاحیتوں کو جانچنا بھی ہے۔
مشق میں پاک بحریہ کے متعدد روایتی پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنگی جہاز، آبدوزیں، طیارے، میرینز، اسپیشل فورسز اور بغیر پائلٹ نظام مشق کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے متعلقہ عناصر بھی مشترکہ آپریشنل سرگرمیوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
اس طرح مشق کو ایک ایسے جامع فریم ورک کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے جس میں سمندری کارروائیوں کے ساتھ دیگر دفاعی شعبوں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو بھی جانچا جا رہا ہے۔
تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ
SEASPARK-2026 کا ایک اہم پہلو tri-service integration ہے۔
اس تصور کے تحت پاک بحریہ، پاک فوج اور پاک فضائیہ کے متعلقہ عناصر مشترکہ منصوبہ بندی اور آپریشنل سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
نیول چیف نے بھی مشق کے آغاز پر بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے تناظر میں تینوں سروسز کے درمیان زیادہ مضبوط انضمام، موافقت اور جسمانی و معلوماتی دونوں میدانوں میں مؤثر کارکردگی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
پاکستان نیوی کے مطابق مشق کا دائرہ صرف روایتی بحری خطرات تک محدود نہیں بلکہ emerging maritime threats کو بھی شامل کرتا ہے۔
جدید بحری سکیورٹی میں خطرات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کے باعث بحری افواج کو صرف جنگی جہازوں اور آبدوزوں تک محدود تیاری کے بجائے سائبر، معلوماتی، بغیر پائلٹ اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں کو بھی مسلسل جانچنا پڑتا ہے۔
کریکس کے علاقے کی آپریشنل اہمیت
چیف آف دی نیول اسٹاف کا کریکس کے علاقوں میں یونٹس کا دورہ بھی مشق کے وسیع آپریشنل دائرہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔
کریکس اور ساحلی علاقے بحری نگرانی، ساحلی سکیورٹی اور زمینی و سمندری رابطے کے اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں آپریشنل مشقیں مختلف نوعیت کے ساحلی اور سمندری حالات میں یونٹس کی تیاری جانچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
مشق کا مقصد صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں
فوجی مشقوں کا بنیادی مقصد محض ہتھیاروں یا پلیٹ فارمز کی نمائش نہیں بلکہ اہلکاروں، کمانڈ ڈھانچوں، مواصلاتی نظام اور مختلف یونٹس کے درمیان عملی رابطے کو جانچنا بھی ہوتا ہے۔
SEASPARK-2026 میں بھی پاکستان نیوی کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمز اور شعبوں کو ایک ہی مشق میں شامل کرنے کا مقصد اسی نوعیت کی آپریشنل جانچ ہے۔
فیصلہ سازی اور ردعمل کی صلاحیت کی جانچ
مختلف نوعیت کے بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف وسائل کا ہونا کافی نہیں بلکہ ان کے بروقت اور درست استعمال کے لیے مؤثر فیصلہ سازی بھی ضروری ہے۔
مشق کے دوران مختلف یونٹس کے درمیان رابطہ، معلومات کی ترسیل، صورتحال کا جائزہ اور ممکنہ ردعمل کی منصوبہ بندی جیسے پہلوؤں کو جانچا جاتا ہے۔
علاقائی سمندری سکیورٹی کا پس منظر
پاکستان بحیرۂ عرب کے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی معیشت اور تجارت کا ایک بڑا حصہ سمندری راستوں سے منسلک ہے۔ کراچی اور پورٹ قاسم سمیت اہم بندرگاہیں ملکی تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
اس تناظر میں بحری سکیورٹی، ساحلی علاقوں کا تحفظ اور سمندری مواصلاتی راستوں کی نگرانی پاکستان کی مجموعی قومی سکیورٹی کا اہم حصہ ہے۔
SEASPARK-2026 اسی وسیع تر بحری سکیورٹی فریم ورک میں پاکستان نیوی کی آپریشنل تیاری کو جانچنے کا ایک ذریعہ ہے۔
موجودہ دور میں جنگ اور سکیورٹی کا تصور صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ معلوماتی ماحول، سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل ذرائع بھی سکیورٹی کے منظرنامے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی لیے SEASPARK-2026 میں OIE کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشق میں روایتی بحری کارروائیوں کے ساتھ معلوماتی میدان میں سرگرمیوں کو بھی آپریشنل منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
سائبر اور خلائی صلاحیتوں کا انضمام
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں سائبر اور space-enabled capabilities کو بھی ملٹی ڈومین آپریشنز کے تصور کے تحت شامل کیا گیا ہے۔
یہ پہلو اس جدید جنگی تصور کی عکاسی کرتا ہے جس میں مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والی معلومات اور معاونت کو ایک مشترکہ آپریشنل تصویر بنانے اور فیصلوں میں مدد دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پاک بحریہ کی مسلسل تربیتی سرگرمیوں کا حصہ
SEASPARK-2026 کو پاکستان نیوی کی وسیع تر تربیتی اور آپریشنل سرگرمیوں کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
رواں سال پاکستان نیوی نے چین کے ساتھ بھی ایک دوطرفہ بحری مشق منعقد کی تھی، جس میں کراچی میں بندرگاہی مرحلے کے بعد بحیرۂ عرب کے شمالی حصے میں سمندری مرحلہ شامل تھا۔
جدید جنگی ماحول کے مطابق تیاری
مشق کے دوران روایتی بحری پلیٹ فارمز کے ساتھ بغیر پائلٹ نظام، انفارمیشن آپریشنز اور ملٹی ڈومین صلاحیتوں کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نیوی اپنی تربیتی سرگرمیوں میں جدید جنگی تصورات کو بھی شامل کر رہی ہے۔
اس نوعیت کی مشقیں افسران اور اہلکاروں کو پیچیدہ اور کثیرالجہتی آپریشنل ماحول میں کام کرنے کی تربیت فراہم کرنے کا موقع دیتی ہیں۔
ایڈمرل نوید اشرف کا آپریشنل فوکس
نیول چیف کے یونٹس کے دورے کے دوران آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت پر اطمینان کا اظہار مشق کے تربیتی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے پیش نظر مسلسل تیاری، مشترکہ کارروائی، موافقت اور جسمانی و معلوماتی دونوں شعبوں میں مؤثر کارکردگی کی ضرورت پر زور دیا۔
بین الاقوامی اور علاقائی تناظر
بحیرۂ عرب اور اس سے منسلک سمندری راستے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور عالمی تجارت کے لیے اہم ہیں۔ خطے میں بحری نقل و حرکت، توانائی کی ترسیل اور تجارتی جہازرانی کے تناظر میں ساحلی ممالک کے لیے بحری نگرانی اور دفاعی تیاری مسلسل اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان نیوی کی ایک بڑی بحری مشق اسی وسیع علاقائی سمندری ماحول میں منعقد ہو رہی ہے، تاہم مشق کے کسی مخصوص مرحلے کو کسی خاص ملک کے خلاف کارروائی سے منسوب کرنے کے لیے الگ سے سرکاری اعلان یا شواہد درکار ہوں گے۔
SEASPARK-2026 کے نمایاں پہلو
- کراچی میں بڑی بحری مشق کا انعقاد
- چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں افتتاحی بریفنگ
- سمندری اور کریکس کے علاقوں میں مختلف یونٹس کا جائزہ
- جنگی جہازوں، آبدوزوں اور طیاروں کی شمولیت
- بغیر پائلٹ نظام کا استعمال
- میرینز اور اسپیشل فورسز کی شرکت
- پاک فوج اور پاک فضائیہ کے متعلقہ عناصر کے ساتھ مشترکہ سرگرمیاں
- میری ٹائم، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کا انضمام
- Operations in the Information Environment کی مشق
- روایتی اور ابھرتے ہوئے بحری خطرات کے خلاف آپریشنل تیاری کی جانچ
مجموعی منظرنامہ
SEASPARK-2026 پاکستان نیوی کی ایک وسیع البنیاد بحری مشق ہے جس میں روایتی بحری جنگی صلاحیتوں کے ساتھ جدید ملٹی ڈومین آپریشنز، انفارمیشن انوائرمنٹ اور بغیر پائلٹ نظام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی جانب سے مختلف یونٹس کا دورہ اور آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ مشق کے عملی تربیتی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کا مقصد روایتی اور ابھرتے ہوئے بحری خطرات کے خلاف تیاری جانچنا اور مختلف دفاعی شعبوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا ہے۔
جدید جنگ کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں سمندر، فضا، زمین، سائبر اسپیس، معلوماتی ماحول اور خلائی معاونت کو ایک مربوط آپریشنل فریم ورک میں دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ SEASPARK-2026 میں ان مختلف شعبوں کو مشق کا حصہ بنانا پاکستان نیوی کی تربیتی سرگرمیوں میں اسی کثیرالجہتی آپریشنل تصور کی عکاسی کرتا ہے۔








