
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا اسلام آباد پر دباؤ، کراچی سے ’ٹرین مارچ‘ روانہ؛ حکومت سے مذاکرات بے نتیجہ
حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں کارکن دارالحکومت کی جانب رواں دواں، ریڈ زون کنٹینرز سے سیل؛ مہنگے پٹرول کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران حکومت کو ایک اور سیاسی چیلنج کا سامنا
کاشف ندیم ارحم-ادارت
پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے خلاف اسلام آباد کی جانب اپنا احتجاجی لانگ مارچ شروع کردیا ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں کراچی سے مارچ کے شرکاء ٹرین کے ذریعے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔ جماعت نے حکومت سے پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کرنے اور مہنگے پٹرول و ڈیزل سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کے پانچویں دور میں بھی کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی، جس کے بعد جماعت نے اسلام آباد مارچ کا اعلان کردہ پروگرام برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ہفتے کی شب کراچی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں مطالبات تسلیم نہ ہونے کے باعث جماعت کا لانگ مارچ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔
جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایندھن پر بھاری محصولات عام شہری، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور صنعتی شعبے کے اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
کراچی سے اسلام آباد تک احتجاجی سفر
جماعت اسلامی کے منصوبے کے مطابق مارچ کا آغاز کراچی کینٹ اسٹیشن سے ہوا، جہاں سے کارکن ٹرین کے ذریعے سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے روہڑی اور پھر ملتان کی جانب جائیں گے۔
پارٹی قیادت کے مطابق ملتان پہنچنے کے بعد ہزاروں کارکن سڑک کے راستے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے، جبکہ خیبر پختونخوا سے جماعت اسلامی کے کارکن بابِ خیبر کے مقام سے دارالحکومت کی جانب مارچ کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق جماعت کا مرکزی قافلہ 23 اور 24 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے۔
پٹرولیم لیوی احتجاج کا مرکزی نکتہ
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے دوران پٹرولیم لیوی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکی ہے۔
ستمبر کے وسط میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں متعدد مرتبہ اضافہ کیا۔ 17 ستمبر سے نافذ قیمت کے مطابق پٹرول 391.22 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 421.45 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ حکومت پٹرول پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی تھی۔
یہ اعداد و شمار جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کے لیے مرکزی سیاسی حوالہ بن گئے ہیں۔
حکومت کا مؤقف: عالمی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ
حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو بھی عالمی قیمتوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث تبدیل کیا گیا ہے، جس کے تحت قیمتوں کا زیادہ باقاعدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق عالمی قیمتوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ عوامل کو قیمتوں کے تعین میں شامل کیا جاتا ہے۔
عالمی تنازع اور پاکستان کی توانائی معیشت
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملکوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں میں خلل کے باعث خطے میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت، صنعت اور گھریلو صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
حکومت نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں کم آمدنی والے صارفین کے لیے ہدفی فیول ریلیف اسکیم شامل ہے۔
حکومت کا 75 ارب روپے کا فیول ریلیف پیکیج
وفاقی حکومت نے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکیج کی منظوری بھی دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کو فی ہفتہ 500 روپے تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ بنیاد پر مخصوص مقدار میں پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
تاہم جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل نہیں ہے اور بنیادی مسئلہ برقرار رہتا ہے۔
اسلام آباد میں ریڈ زون کی ناکہ بندی
جماعت اسلامی کے مارچ کے آغاز سے قبل اسلام آباد کے حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔
ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستوں پر بڑے شپنگ کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، اہم سرکاری دفاتر اور متعدد غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں، اس لیے بڑے سیاسی اجتماعات کے موقع پر یہاں سکیورٹی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاجی سرگرمیوں سے قبل اضافی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
کنٹینرز اور ٹرانسپورٹرز کا مسئلہ
اسلام آباد کی سڑکوں پر کنٹینرز رکھنے کے معاملے نے ٹرانسپورٹ شعبے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں تجارتی کنٹینرز احتجاجی راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں، جن میں بعض کے اندر تجارتی سامان بھی موجود ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے اس عمل سے اپنے کاروبار اور سامان کو ممکنہ نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اقدامات کو احتجاجی اجتماعات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کئی ہفتوں سے جاری
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں کئی ہفتوں سے احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کراچی، لاہور، پشاور، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں دھرنوں اور احتجاجی اجتماعات کے ذریعے جماعت حکومت پر پٹرولیم لیوی واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہے۔
جماعت کی قیادت اب اس تحریک کو اسلام آباد تک لے آئی ہے، جہاں وفاقی حکومت کے اہم ادارے موجود ہیں۔
احتجاج کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
جماعت اسلامی کے احتجاج کا اگلا اہم مرحلہ اس وقت سامنے آئے گا جب کراچی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔
پارٹی قیادت نے حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے، جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند ہونے کے بجائے سیاسی دباؤ کے ساتھ کھلا رہنے کی اطلاعات ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک مزید وسیع ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں ایک اور سیاسی مارچ کی تیاری
جماعت اسلامی کا مارچ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق اس احتجاج کا مقصد پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
اس طرح ستمبر کے آخری ہفتوں میں وفاقی دارالحکومت میں مختلف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیاں انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سکیورٹی اور انتظامی چیلنج بن گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات بھی اہم
احتجاجی مارچوں کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ بھی شہریوں کے بنیادی حقوق اور سڑکوں کی بندش سے متعلق ہدایات جاری کرچکی ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق، نقل و حرکت، صحت، تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، جبکہ سرکاری وسائل کے سیاسی احتجاج میں استعمال سے متعلق بھی ہدایات سامنے آئی ہیں۔
معیشت اور روزمرہ زندگی پر ممکنہ اثرات
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کو متاثر کررہا ہے۔
ایسے میں احتجاجی مارچ اگر بڑے پیمانے پر سڑکوں کی بندش یا ٹریفک میں خلل کا باعث بنتے ہیں تو اس کے اثرات اسلام آباد اور راولپنڈی سے باہر بھی محسوس ہوسکتے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی احتجاج، دھرنوں اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے ممکنہ معاشی نقصان کی نشاندہی کی ہے۔
سیاسی دباؤ کا نیا مرحلہ
جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ محض ایک احتجاجی سرگرمی نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے معاملے کو قومی سیاسی بحث کے مرکز میں رکھنے کی کوشش بھی ہے۔
ایک طرف حکومت عالمی توانائی بحران، درآمدی اخراجات اور مالی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کو عوام پر اضافی مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کررہی ہے۔
اسلام آباد میں آنے والے دنوں میں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات دوبارہ کسی قابلِ قبول حل تک پہنچتے ہیں یا احتجاجی تحریک مزید وسعت اختیار کرتی ہے۔



