
روئٹرز کے ساتھ
2021 کی ایک رپورٹ میں کیتھولک پادریوں کی جانب سے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انکشافات کے بعد پورے فرانس میں شدید صدمے کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ کیتھولک چرچ کے رہنماؤں کو امید ہے کہ پوپ لیو کا یہ دورہ چرچ کی ساکھ بحال کرنے میں مدد دے گا۔
فرانس کے سابق بشپ مارک اسٹینگر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ”پوپ لیو کے فرانس کے دورے نے دلچسپی کی ایک حقیقی لہر پیدا کر دی ہے۔‘‘

جنسی زیادتی کے اسکینڈلز سے چرچ ’شدید زخمی‘
متاثرین کے مطابق پوپ لیو اتوار کو جنوب مغربی شہر لورد (Lourdes) میں ان سات افراد سے ملاقات کریں گے، جو کیتھولک پادریوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے تھے۔
ویٹیکن، جو عام طور پر پوپ کی جانب سے جنسی زیادتی کے متاثرین سے ملاقات کے بارے میں بعد میں بیان جاری کرتا ہے، نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
2021 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سات دہائیوں کے دوران فرانس میں تقریباً تین لاکھ 30 ہزار بچوں کو کیتھولک پادریوں اور چرچ سے وابستہ غیر مذہبی عہدیداروں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
امریکہ، اسپین اور پرتگال میں سامنے آنے والی ایسی ہی رپورٹوں کی طرح اس رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ چرچ نے متاثرین کے ساتھ ”گہری، مکمل حتیٰ کہ ظالمانہ بے حسی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
فرانسیسی بشپوں نے اس کے بعد متاثرین کو معاوضے اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات متعارف کرائے، تاہم متاثرین کلیسائی رہنماؤں پر جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔
1999 سے 2020 تک لاطینی چرچ ڈائیوسیز آف ٹرائے کے سربراہ رہنے والے مارک اسٹینگر نے کہا کہ جنسی زیادتی کے اسکینڈلز نے ”چرچ کو شدید زخمی کیا اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
جون میں اسپین کے دورے کے دوران، جہاں پوپ لیو نے پادریوں کی جانب سے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے ہسپانوی افراد سے ملاقات کی تھی، انہوں نے بشپوں سے کہا تھا کہ وہ متاثرین کی بات سنیں اور انہیں معاوضہ ادا کریں۔
متاثرین سے ملاقات کے ذریعے پوپ لیو اپنے پیش رو پوپ فرانسس کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پوپ فرانسس نے پادریوں کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے تھے، تاہم بعض گروہوں نے انہیں ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی تھی۔
چرچ میں جنسی زیادتی کے بارے میں آزاد کمیشن کی 2021 کی رپورٹ کے نتیجے میں ”آزاد قومی ادارہ برائے شناخت و ازالہ‘‘ (INIRR) قائم کیا گیا، جو جنسی زیادتی کے متاثرین کو زیادہ سے زیادہ 60 ہزار یورو تک معاوضہ فراہم کرتا ہے۔
INIRR کی صدر ماری دیریں دے ووکریسوں کے مطابق پانچ برسوں کے دوران ایک ہزار 969 متاثرین نے اس ادارے سے رابطہ کیا۔
فرانسیسی بشپوں کی کانفرنس کے مطابق INIRR یکم اکتوبر کو اپنی سرگرمیاں ختم کر دے گا، جس کے بعد ایسے متاثرین جنہوں نے پہلے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات ظاہر نہیں کیے، انہیں معاوضے، اپنے کیس کی باضابطہ شناخت اور معاونت کے لیے مقامی چرچ انتظامیہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔
بشپوں کی کانفرنس نے نئے نظام کو، جس میں متاثرین کے لیے رابطے کا پہلا ذریعہ مقامی چرچ انتظامیہ ہو گی، جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کو معاوضہ دینے کی اپنی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
تاہم متاثرین کی تنظیم ‘امپاسیو‘ نے کہا ہے کہ نئے نظام میں وہ آزادی اور عدالتی نگرانی موجود نہیں جو سابقہ نظام کی کامیابی کی بنیادی وجہ تھی۔



