
زیلنسکی کی ٹرمپ سے ملاقات سے قبل روس اور یوکرین کے مابین ایک دوسرے پر ہلاکت خیز جنگی حملوں کا تبادلہ
جنرل اسمبلی کے حاشیے پر یوکرینی صدر زیلنسکی اس کوشش میں ہیں کہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے اپنے لیے ان کی وہ تائید و حمایت حاصل کر سکیں
روس اور یوکرین کے مابین جاری اور گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید تر ہو چکی جنگ کے دوران دونوں حریف ممالک نے گزشتہ رات ایک دوسرے پر میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ بڑے حملے کیے۔
یوکرین میں کییف اور روس میں ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی اور کئی برسوں سے جاری اس جنگ میں پیر اور منگل کی درمیانی رات روس نے یوکرین کے کم ا زکم چار مختلف علاقوں پر میزائلوں اور مسلح ڈرونز کے ساتھ جو حملے کیے، ان میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
اس دورن یوکرین کی طرف سے روسی توانائی کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جنگی ڈرونز کے ساتھ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔ کییف سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یوکرینی فورسز کی طرف سے ایسے نئے ڈرون حملوں میں منگل کو علی الصبح ایک اور روسی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔

یوکرینی جنگکے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ساڑھے چار سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اگلی صفوں کے جنگی محاذوں پر فریقین کے مابین پائی جانے والی صورت حال حالیہ مہینوں میں تقریباﹰ پہلے جیسے ہی ہے، تاہم اس دوران دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے اہم بنیادوں ڈھانچوں پر کیے جانے والے فضائی حملوں میں واضح شدت آ چکی ہے۔
روس اور یوکرین کے ایک دوسرے پر ان تازہ ترین جنگی حملوں کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان ہلاکت خیز مسلح کارروائیوں کا تبادلہ ایسے وقت پر ہوا ہے، جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کی تیاریاں کر رہے تھے۔
جنرل اسمبلی کے حاشیے پر یوکرینی صدر زیلنسکی اس کوشش میں ہیں کہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے اپنے لیے ان کی وہ تائید و حمایت حاصل کر سکیں، جس کی مدد سے کییف کی روس کے خلاف کئی سالہ بھرپور جنگ کے خاتمے کو ممکن بنایا جا سکے۔
جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن شرکت نہیں کر رہے۔

مغربی ممالک کے حکام کے مطابق روسی یوکرینی جنگ میں اس کے آغاز سے اب تک روس کے پانچ لاکھ سے زائد فوجی مارے جا چکے ہیں اور یہ جنگ پہلے دن سے ہی عالمی سطح تک محسوس کیے جانے والے منفی اثرات کا باعث بن رہی ہے۔




