
جنگیں ختم کی جائیں اور اے آئی سے متعلق قوانین بنائے جائیں، گوٹیرش کا جنرل اسمبلی سے افتتاحی خطاب
اپنی تقریر میں عالمی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے گوٹیرش نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جانے والے تمام خونریز تنازعات کا مکمل خاتمہ کر کے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے امسالہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں منگل 22 ستمبر کے دن مطالبہ کیا کہ تمام جنگیں ختم کی جائیں اور اے آئی سے متعلق جامع قوانین بنائے جائیں۔
امریکی شہر نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں اس عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کا جو 81 واں سالانہ اجلاس منگل 22 ستمبر کے روز شروع ہوا، اس سے اپنے افتتاحی خطاب میں اس عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے دنیا بھر سے آئے ہوئے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پوری دنیا میں تمام بین الاقوامی اور علاقائی جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے اور انسانیت کی فلاح کے لیے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے شعبے میں عالمی برادری کو جامع قوانین بھی طے کرنا چاہییں۔
گوٹیرش عالمی ادارے کے سربراہ کے طور پر اپنے عہدے کی دوسری پانچ سالہ مدت پوری کرنے والے ہیں اور جنرل اسمبلی سے آج کا خطاب اقوام متحدہ کے سربراہ کے طور پر ان کا آخری خطاب تھا۔

اپنی تقریر میں عالمی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے گوٹیرش نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جانے والے تمام خونریز تنازعات کا مکمل خاتمہ کر کے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ انہوں نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا بہت بدل چکی ہے اور عالمی اداروں کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ وہ ایک ’’گزرے ہوئے زمانے‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں اور ایسے تمام اداروں کو بھی انسانیت کی بہتر خدمت کے لیے جدید تر اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔
اس بارے میں نیو یارک میں اقوام متحدہ سے ملنے والی مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماضی میں پرتگال کے وزیر اعظم رہنے والے انٹونیو گوٹیرش ایک عشرے تک اپنے موجودہ عہدے پر فائز رہنے کے بعد مستقبل قریب میں اپنی ذمے داریوں سے ایک ایسے وقت پر سبکدوش ہو جائیں گے، جب اقوام عالم کی نمائندہ اس تنظیم کو اپنی کارروائیوں کے لیے کافی مالی وسائل کی دستیابی کے سلسلے میں بہت زیادہ دباؤکا سامنا ہے۔

انٹونیو گوٹیرش نے عالمی سطح پر تحفظ ماحول کی کوششوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اور معاشرے کرہ ارض پر زیادہ بڑے پیمانے پر آلودگی اور ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہے ہیں، انہیں اس کے لیے ’’جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔‘‘
اپنی تقریر میں گوٹیرش نے جب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی تجویز کی حمایت اور اس پر عمل درآمد کی وکالت کی، تو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے دیر تک تالیاں بجا کر گوٹیرش کے اس بیان کی پرجوش تائید کی۔



