پاکستاناہم خبریں

پاکستانی فضائی حدود میں 8 ڈرونز داخل، ایئر ڈیفنس نے مار گرائے: سیکیورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی مسلح افواج ملکی فضائی حدود اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مسلسل چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج صبح افغانستان کی جانب سے آنے والے آٹھ ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جنہیں پاکستان کے فعال اور مستعد فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا۔ ذرائع کے مطابق چار ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں جبکہ مزید چار ڈرونز کوہاٹ سے متصل پہاڑی سرحدی علاقوں میں گرائے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور بالخصوص پاک فضائیہ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ناکام بنایا۔ ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے زیر نگرانی سرحدی فضائی نگرانی اور دفاعی نظام مسلسل فعال اور چوکس ہے۔

طورخم اور کوہاٹ کے سرحدی علاقوں میں ڈرونز مار گرائے گئے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی سمت سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز میں سے چار کو طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں جبکہ چار کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں مار گرایا گیا۔

پاکستانی فضائی حدود میں 8 ڈرونز داخل، ایئر ڈیفنس نے مار گرائے: سیکیورٹی ذرائع
پاکستانی فضائی حدود میں 8 ڈرونز داخل، ایئر ڈیفنس نے مار گرائے: سیکیورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ کے نظام نے ڈرونز کی نشاندہی کی اور انہیں ان کے اہداف تک پہنچنے سے قبل روک دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کا بروقت سراغ لگایا اور کارروائی کے ذریعے انہیں ناکارہ بنایا، جس کے نتیجے میں مبینہ فضائی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی مسلح افواج اور پاک فضائیہ نے عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی افغان طالبان حکومت کی کوشش کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ناکام بنایا۔

ذرائع نے اس کارروائی کو فضائی دفاعی نظام کی مسلسل نگرانی اور سرحدی علاقوں میں موجود دفاعی تیاری کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم ڈرونز کے مخصوص ممکنہ اہداف کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اس حوالے سے دستیاب اطلاعات میں بنیادی طور پر ڈرونز کے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے اور انہیں مار گرائے جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ان کے ممکنہ اہداف سے متعلق دعویٰ سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے۔

افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی حمایت

سیکیورٹی ذرائع نے آٹھ ڈرونز کی مبینہ دراندازی کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی براہِ راست حمایت اور سرپرستی کا ایک اور ثبوت قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو افغانستان کی جانب سے سرحد پار سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور پاکستانی مسلح افواج سرحدی علاقوں میں کسی بھی ممکنہ زمینی یا فضائی دراندازی سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

یہ الزام پاکستانی سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے اور موجودہ واقعے کے حوالے سے افغان طالبان حکومت کا مؤقف اس خبر کی تیاری تک سامنے نہیں آیا۔

کرم سیکٹر میں کشیدگی کا حوالہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرونز کے واقعے سے قبل کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں میں ہونے والی فائرنگ کا جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے بعض ٹھکانوں اور دفاعی پوزیشنوں کو تباہ کیا۔

پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم موجودہ کارروائیوں سے متعلق تفصیلات کو سیکیورٹی ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

پاک افغان سرحد پر فضائی نگرانی جاری

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں فضائی نگرانی کا نظام مسلسل فعال ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے زیر نگرانی فضائی دفاعی نظام نے آٹھوں ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں پاکستانی حدود میں مزید پیش قدمی سے پہلے مار گرایا۔ اس کارروائی کو سرحدی علاقوں میں موجود فضائی دفاعی نظام کی نگرانی اور ردعمل کی صلاحیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان کے دفاع کے لیے مکمل تیاری کا اعادہ

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق زمینی، فضائی یا کسی بھی دوسری نوعیت کی ممکنہ دراندازی سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام فعال رکھا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان ریجیم کے گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ تحویل میں لے لیا گیا ۔افواج پاکستان افغان طالبان رجیم کی ہر زمینی، ہوائی اور دہشت گردانہ دراندازی کو ناکام بنانے کا مکمل عزم اور صلاحیت رکھتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button