
وزیراعظم کا بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت وزیراعظم آفس کے ساتھ
نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جن میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی تعاون، ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ، تعلیم اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں۔ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے خطے میں تجارت اور علاقائی روابط کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی اور حالات معمول پر لانے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھی حمایت کی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی رابطے میں رہنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔



