پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 19 دہشت گرد ہلاک؛ صوبیدار محمد جمیل شہید

شعبان، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں ہونے والی مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 39 سالہ صوبیدار محمد جمیل شہید ہوگئے۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے کلیئر کیے گئے جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں 21 ستمبر سے جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران اب تک 13 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں 22 اور 23 ستمبر کو کی جانے والی الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں مزید 6 دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شعبان میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ علاقے میں ایسے گروہوں کے ٹھکانے موجود ہیں جنہیں فوجی بیان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے منسلک اور بھارتی حمایت یافتہ قرار دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ٹھکانے مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

شعبان میں کلیئرنس آپریشن، 13 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کے تحفظ اور علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے مقصد سے سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو شعبان کے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔

کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں کلیئر کیا۔ سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک 13 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

فوج کے مطابق کلیئر کیے گئے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں اور آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں موجود خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں مزید 6 دہشت گرد ہلاک

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں بھی سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پیشگی کارروائیاں کیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں 22 اور 23 ستمبر کو کی گئیں۔

ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

یوں شعبان، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں ہونے والی مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں صوبیدار محمد جمیل شہید

آئی ایس پی آر کے مطابق کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 39 سالہ صوبیدار محمد جمیل نے جامِ شہادت نوش کیا۔

صوبیدار محمد جمیل کا تعلق تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنی جان ملک کے دفاع کے لیے قربان کردی۔

ان کی شہادت پر حکومتی قیادت کی جانب سے بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبیدار محمد جمیل کی قربانی کو ملک کے امن اور سلامتی کے لیے سکیورٹی فورسز کے عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں عزمِ استحکام کے وژن کے تحت پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔ یہ وژن وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور کیا گیا ہے۔

فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں بیرونی سرپرستی یا حمایت سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں میں 19 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے شعبان، کوئٹہ میں 13 دہشت گردوں کی ہلاکت جبکہ کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں مزید 6 دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو سکیورٹی فورسز کی حکمت عملی کی مؤثریت قرار دیا۔

وزیراعظم نے صوبیدار محمد جمیل کی شہادت پر بھی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے ان کی قربانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ وزیراعظم کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کارروائیوں میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ بلوچستان میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے صوبیدار محمد جمیل کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

بلوچستان میں سکیورٹی چیلنج اور جاری آپریشنز

بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صوبے کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی اور عسکریت پسند سرگرمیوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے پہلے سے حاصل کردہ انٹیلی جنس معلومات کو بنیاد بنا کر مخصوص علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی، انہیں غیر مؤثر بنانا اور مقامی آبادی کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا بتایا گیا ہے۔

شعبان میں جاری کلیئرنس آپریشن کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور علاقے میں خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس کا عمل جاری رہے گا۔

19 دہشت گردوں کی ہلاکت اہم پیش رفت، مگر کارروائیاں جاری

سکیورٹی فورسز کے مطابق بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 19 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔

تاہم سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کسی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد صرف فائرنگ کے تبادلے تک کارروائی محدود نہیں رہتی بلکہ کلیئرنس، سرچ اور ممکنہ خطرات کے خاتمے کا عمل بھی جاری رکھا جاتا ہے۔ شعبان میں بھی اسی نوعیت کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں ہونے والی ان کارروائیوں کے دوران صوبیدار محمد جمیل کی شہادت نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

حکومت اور سکیورٹی اداروں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی کسی بھی شکل، خصوصاً بیرونی معاونت یا سرپرستی سے ہونے والی کارروائیوں کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button