مشرق وسطیٰتازہ ترین

نئے سرے سے امریکی حملوں کی صورت میں ایران کی موجودہ جنگ کو بحر ہند تک پھیلا دینے کی دھمکی

تہران اپنے طور پر ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ یمن مین کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی میں کسی بھی طرح ملوث رہا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی کے ساتھ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک مشیر نے جمعرات 24 ستمبر کے روز کہا کہ ایران جنگ میں امریکہ نے اگر نئے سرے سے ایران پر حملے کیے، تو تہران اس جنگ کا دائرہ بحر ہند تک پھیلا دے گا۔

ایرانی دارالحکومت تہران سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق  ملکی نیوز ایجنسی فارس نے ایک ایسی نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ملکی کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے واضح طور پر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے، ’’اب جب کہ یہ تنازعہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے آگے بحیرہ احمر تک پھیل چکا ہے، یہ عین ممکن ہے کہ مزید جنگی کارروائیوں اور خاص طور پر ایران پر دوبارہ امریکی حملے کیے جانے کے ردعمل کی صورت میں، اس تنازعے کا دائرہ پھیل کر بحر ہند بلکہ اس سے آگے تک کے علاقے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔‘‘

اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کو اب تقریباﹰ سات ماہ ہو چکے ہیں اور یہ تنازعہ ابتدائی دنوں سے ہی آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے ساتھ ساتھ خطے کی کئی عرب ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنی موجودہ ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے، فائل فوٹو
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنی موجودہ ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے، فائل فوٹوتصویر: Tasnim

اس کے علاوہ یمن کے ایران نواز حوثی باغی، جو گزشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ یمن کے ساحلی علاقوں پر بھی قابض ہو گئے تھے۔

اس دوران حوثی باغیوں نے اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جانے والی اس آبنائے باب المندب پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی، جو نہر سوئز کے راستے ایشیائی اور یورپی براعظموں کو ملاتی ہے۔

ایران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کو ہتھیار مہیا کرتا رہا ہے، تاہم تہران اپنے طور پر ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ یمن مین کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی میں کسی بھی طرح ملوث رہا ہے۔

ایران اور امریکہ دونوں ہی کی کوشش ہے کہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ اس بارے میں دونوں کی طرف سے مسلسل یہ متضاد دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران پر نئے سرے سے بھرپور جنگی حملوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے، کی نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منگل کے روز کیے گئے خطاب کے دوران لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران پر نئے سرے سے بھرپور جنگی حملوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے، کی نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منگل کے روز کیے گئے خطاب کے دوران لی گئی ایک تصویرتصویر: Mike Segar/REUTERS

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے آج جو نیا بیان دیا ہے، وہ ایسا کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ایرانی حکام نے موجودہ عسکری تنازعے کو جغرافیائی طور پر مزید پھیلا دینے کی دھمکی دی ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button