
ایک وفاقی عدالت نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے تین میڈیا اداروں پر لگائی گئی پابندی منسوخ کر دی
عدالتی فیصلے کے مطابق وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے خلاف یہ حکم فی الحال 14 روز تک مؤثر رہے گا۔
امریکہ میں ایک وفاقی عدالت کے جج نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لگائی ایک پابندی کو عبوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ اس پابندی کے تحت وائٹ ہاؤس نے تین امریکی میڈیا اداروں کو اپنے ہاں سے رپورٹنگ کرنے سے روک دیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے اپنے ہاں سے رپورٹنگ کرنے پر جو پابندی لگائی تھی، اس کا نشانہ تین ایسے امریکی میڈیا ادارے بنے تھے، جن کی رپورٹنگ کو صدر ٹرمپ ماضی میں کئی بار فیک نیوز اور جھوٹ پر مبنی قرار دے چکے تھے۔
یہ تین میڈیا آؤٹ لیٹس سی این این اور ایم ایس ناؤ نامی نشریاتی ادارے اور پولیٹیکو نامی نیوز سائٹ تھے، جنہوں نے اپنے نامہ نگاروں کے وائٹ ہاؤس جا کر وہاں سے رپورٹنگ کرنے پر لگائی گئی ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی کو ایک وفاقی عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔
اس بارے میں ایک فیڈرل کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ان تینوں اداروں کے رپورٹروں پر لگائی گئی پابندی عبوری طور پر منسوخ کی جاتی ہے اور وائٹ ہاؤس کو ان تینوں خبر رساں اداروں کے صحافیوں کو اپنے ہاں سے رپورٹنگ کی لازمی طور پر دوبارہ اجازت دینا چاہیے۔

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کے ان میڈیا اداروں کے مابین قانونی تصادم اور بھی شدید ہو گیا ہے، جنہیں صدر ٹرمپ ذاتی طور پر پسند نہیں کرتے اور اپنی اس ناپسند کا آج تک کئی مرتبہ کھل کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے طرف سے ان تینوں امریکی میڈیا اداروں کی طرف سے وائٹ ہاؤس سے کوریج پر پابندی گزشتہ جمعے کے روز لگائی گئی تھی اور اپنے عبوری فیصلے میں ایک وفاقی عدالت کے جج نے اب وائٹ ہاؤس کو حکم دیا ہے کہ ان میڈیا آؤٹ لیٹس کے رپورٹروں کے وائٹ ہاؤس پریس کارڈز فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے خلاف یہ حکم فی الحال 14 روز تک مؤثر رہے گا۔



