پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب، بھارت کو پانی روکنے پر جنگ کی کارروائی تصور کرنے کا انتباہ

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تنازعات کو مزید پھیلنے دے گی یا سفارت کاری کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کرے گی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے خاتمے، سفارت کاری کے فروغ اور عالمی امن کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے، جبکہ بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے دریائی پانیوں کو روکنے، ان کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اسلام آباد جنگ کی کارروائی تصور کرے گا۔

وزیراعظم نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت جنگ، قبضے، بداعتمادی، معاشی عدم مساوات اور بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعات کے باعث ایک خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے، تاہم مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں۔ ان کے بقول جنگ اور امن دونوں ریاستوں کے انتخاب ہیں اور بعض اوقات جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے کے لیے زیادہ سیاسی عزم درکار ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس کی جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر کو جاری ہے، جبکہ اس سال کا مرکزی موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک اقوام متحدہ جو سب کے لیے فراہم کرے‘‘ رکھا گیا ہے۔

’’پاکستان نے جنگ پر امن کا انتخاب کیا‘‘

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تنازعات کو مزید پھیلنے دے گی یا سفارت کاری کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کرے گی۔

وزیراعظم کے مطابق میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی آوازوں کے درمیان سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی رابطوں کو بنیادی ذریعہ بنایا جائے۔

یہ مؤقف وزیراعظم کی جانب سے اقوام متحدہ میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران اختیار کیے گئے مؤقف سے بھی ہم آہنگ ہے۔ پاکستان نے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی حمایت کی ہے، جبکہ وزیراعظم نے 24 ستمبر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں بھی تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطے پر زور دیا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کی ضرورت

وزیراعظم نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز کیا اور کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی تنازع کے آغاز کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کے لیے قریب لانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

پاکستانی حکومت کے مطابق وزیراعظم نے اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار پر بات کی تھی۔ ایرانی صدر نے پاکستانی بیان کے مطابق اس مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کے حوالے سے تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کے لیے اہم سمندری راستے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان راستوں کو تصادم کے مراکز کے بجائے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان سمندری راستوں سے دنیا کی معیشت اور توانائی کی فراہمی جڑی ہوئی ہے، اس لیے وہاں کشیدگی میں اضافہ عالمی سطح پر معاشی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان پہلے بھی دونوں اہم سمندری راستوں کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے اور متعلقہ ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ وزیراعظم نے 24 ستمبر کو ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد بھی ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی، حرمین شریفین کے تحفظ پر زور

وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا تقدس اور تحفظ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور مقدس مقامات کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنا عالمی سطح پر سنجیدہ معاملہ ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ علاقائی دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔

بھارت کو پانی کے معاملے پر واضح انتباہ

جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازع کو بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے دریائی پانیوں کو روکنے، ان کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا پانی کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگ کی کارروائی تصور کرے گا۔

یہ بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے دیرینہ تنازع کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد دریاؤں کے پانی کے معاملے کو دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے جوڑتا ہے۔

وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی جیسے بنیادی انسانی اور معاشی وسائل کو تنازعات میں دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

پاکستان بھارت کشیدگی کا حوالہ

وزیراعظم نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کیا اور پاکستانی مسلح افواج نے جواب دیا۔

انہوں نے پاکستانی فوج کی کارروائی کو پیشہ ورانہ انداز میں کیے جانے سے تعبیر کیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔

وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا بھی ذکر کیا اور ان کی مداخلت کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں معاون قرار دیا۔

یہ بیان وزیراعظم کے اس وسیع تر مؤقف کا حصہ تھا جس میں انہوں نے ایک طرف پاکستان کے دفاعی مؤقف کو واضح کیا اور دوسری جانب جنوبی ایشیا میں مستقبل کے تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری قرار

وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

وزیراعظم نے بھارت پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ کشمیریوں کو حراست، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت کارروائیوں اور دیگر اقدامات کا سامنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہ کیا جائے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس تنازع کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

پاکستانی حکومت طویل عرصے سے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے تناظر میں عالمی فورمز پر اٹھاتی رہی ہے۔

افغانستان سے دہشتگردی کا معاملہ بھی عالمی فورم پر

وزیراعظم نے پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کے معاملے کو بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستانی علاقوں کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام آباد کابل سے ایسے گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی سکیورٹی اور دہشتگردی کے مسئلے کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کے اہم نکات میں شامل رکھا ہے۔

دنیا کو جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں عالمی برادری کو یاد دلایا کہ موجودہ دور میں علاقائی تنازعات تیزی سے عالمی بحرانوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور عالمی برادری کو تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔

وزیراعظم کے خطاب میں مشرق وسطیٰ، فلسطین، کشمیر، پاک بھارت تعلقات، پانی، افغانستان سے دہشتگردی، عالمی معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات سمیت متعدد عالمی و علاقائی مسائل شامل تھے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار اور کثیرالجہتی نظام پر پاکستان کے اعتماد کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم کا یہ مؤقف ان کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں اختیار کیے گئے مؤقف سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے وابستگی اور عالمی امن و استحکام کے لیے کثیرالجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

’’خطرناک لمحہ ہے، لیکن مستقبل پہلے سے طے نہیں‘‘

وزیراعظم نے خطاب کے دوران کہا کہ دنیا ایک خطرناک لمحے سے گزر رہی ہے، تاہم حالات کا مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں۔ ان کے مطابق عالمی رہنماؤں کے فیصلے مستقبل کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے، اس لیے عالمی برادری کو ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن اور استحکام کا باعث بنیں۔

شہباز شریف نے پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد محاذ آرائی کے بجائے بات چیت، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button