پاکستاناہم خبریں

کشمیر کے پرامن حل پر زور، رانا قاسم نون اور پاکستانی سفیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

انہوں نے زور دیا کہ مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں موجود طریقہ کار کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انعام الحق کشمیری-پاکستان

پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ تنازعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں طے کردہ طریقہ کار اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ایک دیرینہ تنازعے کے طور پر بدستور زیر بحث ہے اور پاکستان سفارتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی برادری کی توجہ مبذول کرا رہا ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے ملاقات

امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق رانا محمد قاسم نون نے واشنگٹن میں صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کی، جس میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔ نشست کے دوران چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کشمیر کی صورتحال، حالیہ سفارتی پیش رفت اور مسئلے کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔

رانا قاسم نون، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے سلسلے میں امریکہ کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا تعلق جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل سے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں موجود طریقہ کار کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی سفیر: تنازعہ عالمی ایجنڈے پر موجود ہے

پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے فریم ورک میں اب بھی موجود اور اہم ہے۔

ان کے مطابق، ایک دوسرے سے بڑھتے ہوئے عالمی اور علاقائی روابط کے موجودہ دور میں اس تنازعے کا پرامن حل صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستانی سفیر کا بیان پاکستان کی اس دیرینہ سفارتی پوزیشن سے مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا تعین متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں کیا کہتی ہیں؟

مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی اہم قراردادوں میں قرارداد 47، 21 اپریل 1948 بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق اس قرارداد کا تعلق جموں و کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور رائے شماری کے معاملے سے تھا۔ قرارداد 47 سلامتی کونسل کے 286ویں اجلاس میں منظور کی گئی تھی۔

پاکستان مسلسل ان قراردادوں کو تنازعے کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی فریم ورک کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب بھارت مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف اور اقوام متحدہ کی پرانی قراردادوں کی موجودہ اطلاق پذیری کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی اس مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے تاریخی مؤقف اور قراردادوں کی تشریح میں اختلافات درج ہیں۔

حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں کشمیر کا معاملہ

رواں ماہ بھی پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ 17 ستمبر کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ایک Arria Formula اجلاس میں عالمی برادری، خصوصاً سلامتی کونسل، پر زور دیا کہ وہ اپنی کشمیر سے متعلق قراردادوں کو مسئلے کے پرامن حل کی جانب عملی پیش رفت میں تبدیل کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں تنازعے کا حل نہ ہونا علاقائی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی رواں ماہ کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک حل طلب مسئلہ ہے اور پاکستان اس کے حل کو متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق دیکھتا ہے۔

او آئی سی رابطہ گروپ کا مؤقف

22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس بھی ہوا۔ 23 ستمبر کو جاری مشترکہ اعلامیے میں گروپ نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کے حتمی حل سے وابستہ ہے۔ اعلامیے میں متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اعلامیے میں بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق مختلف خدشات بھی بیان کیے گئے اور عالمی برادری سے مسئلے پر توجہ برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ نکات او آئی سی کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ بھارت کشمیر کے معاملے پر ان بین الاقوامی تنقیدوں اور پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتا رہا ہے۔

جنیوا میں کشمیریوں کا احتجاج

دوسری جانب 19 ستمبر کو یورپ میں مقیم کشمیریوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج کا اہتمام انٹرنیشنل کشمیر پیس فورم نے کیا تھا، جس کی قیادت تنظیم کے چیئرمین زاہد ہاشمی نے کی۔

مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دے اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کرے۔ یہ احتجاج بھی اس وسیع تر سفارتی سرگرمی کا حصہ تھا جس کے ذریعے کشمیری تنظیمیں بین الاقوامی اداروں کے سامنے اپنے مؤقف کو اجاگر کرتی ہیں۔

پاکستان کا سفارتی مؤقف

رانا قاسم نون اور رضوان سعید شیخ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو سفارتی سطح پر اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق تنازعے کا پائیدار حل طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔

اس معاملے میں بنیادی چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کے سیاسی و قانونی مستقبل کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی پیش رفت کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطے، کشیدگی میں کمی اور ایک ایسے قابلِ عمل سفارتی عمل کی ضرورت ہوگی جس پر متعلقہ فریق اتفاق کر سکیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا معاملہ اٹھائے جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس تنازعے کو علاقائی امن و سلامتی کے وسیع تر تناظر میں عالمی سفارتی ایجنڈے پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف، مسئلے کا حتمی حل اب بھی پاکستان اور بھارت کے مختلف مؤقف، باہمی اعتماد کے فقدان اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button