
اس بین الاقوامی اعزاز کے لیے پاکستان کی ایک خاتون وکیل جلیلہ حیدر، ایتھوپیا کی مصنوعی ذہانت کی محقق، جارجیا کی قانونی حقوق کی ایک تنظیم اور جنوبی افریقہ کے خطے میں خواتین کسانوں کے ایک نیٹ ورک کو منتخب کیا گیا ہے۔
اس سالانہ ایوارڈ کی تقسیم کا سلسلہ 1980 میں سویڈش نژاد جرمن سماجی کارکن اور مخیر شخصیت جیکب فان اُکسکُل کے ایما پر شروع ہوا تھا ۔ اس کا مقصد ایسی کوششوں کو سراہنا ہے جو دنیا کو زیادہ منصفانہ اور پُرامن بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اس ایوارڈ کو متبادل نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔
رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ کا اعلان روایتی طور پر نوبل انعامات سے کچھ روز قبل کیا جاتا ہے، جن کے اعلانات آئندہ پیر سے شروع ہوں گے۔

پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر کے لیے عالمی اعزاز
معاشرے کے کمزور طبقے کے حقوق کے لیے سرگرم پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر کو ملک کی پسماندہ اور امتیازی سلوک کی شکار برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد پر رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
جلیلہ حیدر اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہیں اور طویل عرصے سے ریاستی جبر، خواتین کے خلاف امتیاز اور نسلی تشدد کا سامنا کرنے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ایوارڈ دینے والی تنظیم کے مطابق انہوں نے قانونی معاونت کے ساتھ برادریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بنایا اور نسلی ، مذہبی و صنفی اقلیتوں اور پناہ گزینوں سمیت ہزاروں افراد کو انصاف دلانے میں مدد کی۔
ان کی لا فرم نے 600 سے زائد سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو آزادانہ سفر کا حق واپس دلانے میں بھی معاونت کی۔
جنوبی افریقہ میں خواتین کسانوں کا نیٹ ورک
اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے خطے میں سرگرم خواتین کسانوں کے نیٹ ورک ”رورل ویمنز اسمبلی‘‘ کو بھی اس معتبر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ تنظیم دیہی خواتین کو متحد کرکے زمین، بیج اور اپنے جسم پر اپنے اختیار کے حقوق کے تحفظ اور کارپوریٹ و پدرشاہی استحصال کے خلاف کام کرتی ہے۔

رورل ویمنز اسمبلی جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں ایک لاکھ 78 ہزار سے زائد چھوٹے کسانوں پر مشتمل خواتین کی خود منظم تحریک ہے۔ اس تنظیم نے 24 مراکز قائم کیے ہیں جہاں کسان آئندہ کاشت کے لیے بیج تیار اور محفوظ کرتے ہیں۔ تنظیم نے مقامی بیجوں کی سینکڑوں اقسام کو دستاویزی شکل بھی دی ہے، جس سے روایتی بیج محفوظ رکھنے اور ان کے باہمی تبادلے کی روایت کے تحفظ میں مدد ملی ہے۔
جارجیا میں جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد
جارجیا کی انسانی حقوق کی تنظیم ”جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن‘‘ کو بھی رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ تنظیم کو یہ اعزاز جارجیا میں جمہوریت کے قیام اور تحفظ، اور آمرانہ کریک ڈاؤن کے باوجود شہری طاقت اور حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے پر دیا گیا۔

یہ تنظیم 1994 میں رضاکار وکلا نے قائم کی تھی، جنہوں نے آزادی کے بعد جارجیا کے پہلے آئین کی تیاری میں بھی معاونت کی۔
رائٹ لائیولی ہُڈ کے مطابق تنظیم نے کئی اہم قانونی کامیابیاں حاصل کیں، جن کے نتیجے میں قومی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ ان میں معذور افراد کے حقوق کا تحفظ، تمام بچوں کے لیے مفت تعلیم اور سوویت دور کے جبر کے متاثرین کے لیے معاوضے کی فراہمی شامل ہے۔

مصنوعی ذہانت کے نقصانات بے نقاب کرنے والی محقق
ایتھوپیا میں پیدا ہونے والی اے آئی محقق ٹمنیِٹ گیبرو کو مصنوعی ذہانت کی صنعت میں چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے اور اے آئی کے باعث امتیاز اور سماج سے الگ تھلگ کیے جانے جیسے سلوک کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز کو پہنچنے والے نقصانات اجاگر کرنے پر رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔



