
پاکستان کی شناخت کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے، جنگجو نہیں امن پسند ریاست بننا ترجیح ہونی چاہیے: ملک محمد احمد خان
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرتا آیا ہے
لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ریاستی شناخت اور عالمی سطح پر اس کے کردار کا تعین خود پاکستانی قوم کو کرنا ہے، اگر پاکستان خود کو جنگجو ریاست کے طور پر پیش کرے گا تو عالمی سطح پر اس کی شناخت بھی اسی حوالے سے بنے گی، جبکہ امن، صلح جوئی، قانون کی حکمرانی اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینے کی صورت میں پاکستان کی شناخت ایک امن پسند ریاست کے طور پر مستحکم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن اور قومی استحکام کے لیے قومی تشخص، آئینی بالادستی، انصاف، قانون کی حکمرانی اور پارلیمان کے آئینی اختیار کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان آئینی حدود کے اندر تعاون اور معاشرے میں بامقصد مکالمہ ہی پیچیدہ قومی مسائل کے دیرپا حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس لاہور میں ’’پاکستان اور عالمی امن‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے قیام سے لے کر موجودہ دور تک ریاستی کردار، داخلی و خارجی پالیسیوں، دہشت گردی کے تجربے، آئینی بالادستی، پارلیمانی اختیار، قومی یکجہتی اور عالمی تنازعات کے تناظر میں پاکستان کے مستقبل کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
پاکستان کی شناخت کا تعین ہماری اپنی ترجیح ہے
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کا تعین کسی دوسرے ملک یا عالمی قوت کا نہیں بلکہ خود پاکستانی قوم کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی ریاست کا عالمی تشخص اس کے طرزِ عمل، پالیسیوں اور ترجیحات سے تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے آپ کو ایک جنگجو ریاست کے طور پر پیش کرے گا تو دنیا بھی اسے اسی زاویے سے دیکھے گی، تاہم اگر پاکستان امن، مفاہمت اور علاقائی تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے تو عالمی سطح پر اس کی شناخت ایک صلح جو اور امن پسند ملک کے طور پر قائم ہوسکتی ہے۔
سپیکر نے کہا کہ پاکستان کو اپنے ماضی کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ قیام پاکستان سے اب تک کن عالمی تنازعات میں شرکت ملکی بقا اور سلامتی کے لیے ناگزیر تھی اور کن معاملات کا تعلق داخلی یا خارجی پالیسی کے فیصلوں سے تھا۔
دہشت گردی کا طویل اور تلخ تجربہ
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان گزشتہ تین سے ساڑھے تین دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے ایک خوفناک تجربے سے گزرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود دہشت گردی کے خوف میں پرورش پائی اور ملک کے مختلف حصوں میں مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرتا آیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کو محض یاد رکھنے کے بجائے ان سے سبق حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق دہشت گردی نے پاکستانی معاشرے، معیشت، اداروں اور عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اس لیے مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل میں ماضی کے تجربات اور ان کے نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
قومی یکجہتی اجتماعی صلاحیت سے مضبوط ہوگی
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قومی یکجہتی کسی بیرونی ذریعے سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اسے معاشرے کی اجتماعی صلاحیت، سیاسی شمولیت اور باہمی اعتماد کے ذریعے مضبوط بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کا چاروں صوبوں میں وجود اور قومی سطح پر عوامی حمایت وفاقی سوچ اور قومی وحدت کے لیے اہم ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم اختلاف کو قومی تقسیم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
ملک محمد احمد خان کے مطابق پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف سیاسی، سماجی اور علاقائی قوتیں ایک دوسرے کے وجود اور سیاسی حق کو تسلیم کریں اور قومی معاملات پر مکالمے کے ذریعے آگے بڑھیں۔
عالمی تنازعات میں انصاف اور عدل بنیادی اصول قرار
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ انصاف اور عدل کو صرف داخلی معاملات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عالمی تنازعات کو بھی انہی اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت خطے اور دنیا میں پیدا ہونے والے تنازعات کے اسباب اور نتائج کا سنجیدہ تاریخی تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی تنازع کو صرف فوری واقعات کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے تاریخی پس منظر، سیاسی عوامل اور طویل مدتی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق عالمی امن اس وقت مضبوط ہوسکتا ہے جب ریاستیں ایک دوسرے کے حقوق، خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور قانونی راستوں کو ترجیح دیں۔
پارلیمان کے آئینی اختیار کا تحفظ ضروری
ملک محمد احمد خان نے پاکستان کے اندر آئینی بالادستی اور پارلیمان کے کردار کو بھی اپنے خطاب کا اہم حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے خود احتسابی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین نے پارلیمان کو جو اختیارات دیے ہیں، ان پر بلا تعطل عمل درآمد ہونا چاہیے۔ منتخب نمائندوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں فرق ہوسکتا ہے، تاہم کسی فرد یا ارکان کے ایک گروپ کی کارکردگی کی بنیاد پر پارلیمان کے آئینی اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔
سپیکر نے کہا کہ مضبوط جمہوری ادارے، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی ایسے قومی مسائل کا دیرپا حل فراہم کرسکتے ہیں جو بظاہر پیچیدہ اور طویل عرصے سے موجود ہوں۔
مکالمہ ختم ہوگا تو مسائل کے حل کے راستے محدود ہوں گے
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ’’پاکستان اور عالمی امن‘‘ جیسے قومی مکالمے اس لیے ضروری ہیں کہ ان کے ذریعے مختلف آرا، تجربات اور نقطہ ہائے نظر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں مکالمے کا عمل ختم ہوجائے تو اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوسکتے ہیں اور مسائل کے حل کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ دور میں معاشروں کی بنیاد صرف جنگ یا طاقت پر نہیں بلکہ آئینی اصولوں، قانون، شہری حقوق اور باہمی ذمہ داریوں کے احترام پر قائم ہونی چاہیے۔
سپیکر نے قومی شناخت، جغرافیہ، قوم پرستی اور آئینی تشکیل جیسے موضوعات پر بھی سنجیدہ اور کھلے مکالمے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
پائیدار امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پائیدار امن صرف جنگ یا مسلح تنازع کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے انصاف، قانون کی بالادستی، سماجی اعتماد، مساوی مواقع اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا معاشرہ جہاں شہریوں کو انصاف میسر نہ ہو، اداروں پر اعتماد کمزور ہو اور لوگوں کو معاشی و سماجی مواقع دستیاب نہ ہوں، وہاں طویل مدتی استحکام کے حصول میں مشکلات برقرار رہتی ہیں۔
ان کے مطابق امن کو ایک وسیع تصور کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں ریاستی اداروں کی مضبوطی، شہری حقوق کا تحفظ، معاشی مواقع، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی شامل ہیں۔
عالمی امن میں پاکستان کا کردار
سپیکر پنجاب اسمبلی نے عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دو لاکھ سے زائد اہلکار بھیج کر عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے، جبکہ ان مشنز کے دوران 183 پاکستانی اہلکار اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ کردار اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک صرف اپنے داخلی مسائل تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی اسے خطے میں امن، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے لیے اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
جغرافیائی اہمیت کو تنازعات کے بجائے تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا
سپیکر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کو تنازعات کا مرکز بننے کے بجائے علاقائی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے درمیان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے، جس سے اقتصادی رابطوں اور علاقائی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر پاکستان امن اور استحکام کو ترجیح دے، تو اس کی جغرافیائی پوزیشن اقتصادی سرگرمیوں، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
خود احتسابی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خود احتسابی ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، آئینی دائرہ کار کے احترام اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کا حل کسی ایک ادارے یا سیاسی جماعت کے پاس نہیں، بلکہ اس کے لیے اجتماعی سوچ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق آئین کو بالادست دستاویز کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تمام اداروں کو اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ یہی طرزِ عمل ریاستی اداروں کے درمیان توازن اور عوام کے اعتماد کو مضبوط کرسکتا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کے لیے امن اور آئین کی بنیاد
اپنے خطاب کے اختتام پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مستقبل کے بارے میں واضح ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ ملک کو دہشت گردی اور تنازعات کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے امن، آئینی بالادستی، انصاف، پارلیمانی جمہوریت اور معاشی تعاون کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قومی تشخص صرف نعروں سے نہیں بنتا بلکہ ریاست کے عملی کردار، پالیسیوں اور اداروں کے طرزِ عمل سے تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ فیصلہ اہم ہے کہ وہ عالمی سطح پر خود کو کس کردار میں دیکھنا چاہتا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مضبوط ادارے، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی، بامقصد سیاسی مکالمہ اور علاقائی امن ایک مستحکم پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تنازعات کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے لیے استعمال کیا جائے تو ملک خطے میں امن اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، جبکہ مکالمہ، آئین اور قانون وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے اختلافات کو تصادم کے بجائے حل کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔



