کالمزپیر مشتاق رضوی

بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشنز کے مکروہ مقاصد….. پیر مشتاق رضوی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پہلگام، پلوامہ اور اڑی کی طرز پر گھڑی گئی ایک اور کہانی ہے جس کا اصل مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

گذشتہ روز 29 ستمبر 2026ء کی رات مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام کے علاقے کوراگ یوسمرگ میں بھارتی فوج کی چنارکور نے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا۔ بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک مشترکہ آپریشن میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک خطرناک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے چند گھنٹوں بعد اسی لاش کو محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کا نام دیا گیا اور پھر بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اسے پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کا ریٹائرڈ حوالدار ظاہر کرتے ہوئے اس کاسروس نمبر PA-3106947، تاریخ پیدائش اور فرضی دہشتگردی کی داستان بھی جاری کر دی۔ بھارتی میڈیا نے اسے پہلگام حملے کا ماسٹر مائنڈ تک قرار دے دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے کہ یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران اسی حوالدار محمد آصف کو زندہ سلامت میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ حوالدار آصف نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے پنڈی گھیب کا رہائشی ہے، 2000ء میں پاک فوج میں بھرتی ہوا، 2005ء میں ایس ایس جی میں گیا، 18 سال بہادری سے وطن کی خدمت کے بعد 2023ء میں ریٹائرڈ ہوا اور پچھلے چار ماہ سے اپنے گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اسے اپنی شہادت کی خبر اپنے رشتہ داروں کی فون کالز سے ملی۔ اس ایک زندہ ثبوت نےبھارت کے چھ ماہ سے جاری آپریشن شیرووالی کے جھوٹے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ روز 29 ستمبر کے فالس فلیگ آپریشن پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یکم اکتوبر 2026ھ کو ایک اہم پریس کانفرنس میں بھارتی جھوٹ کی قلعی کھول دی۔ انہوں نے 5 نکاتی ٹائم لائن پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 29 ستمبر کی رات چنار کور نے کوراگ یوسمرگ بڈگام میں ایک دہشتگرد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، ساڑھے سات گھنٹے بعد 30 ستمبر کی صبح اسے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ لشکر طیبہ کا رکن قرار دیا، اسی روز دوپہر 2 بج کر 20 منٹ سے 3 بج کر 33 منٹ کے درمیان بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے سروس نمبر PA-3106947 کے ساتھ اسے پاک فوج کے ایس ایس جی کا سابق حوالدار ظاہر کر کے اس کا مبینہ شناختی کارڈ بھی دکھا دیا اور شام تک بھارتی وزارت داخلہ نے اسے موسیٰ عرف آصف فوجی کے نام سے لشکر کا کمانڈر بنا دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تضاد پر کہا کہ نام تک بدل دیا گیا اور مئی میں شروع ہونے والے آپریشن شیرووالی کی چھ ماہ بعد جعلی کامیابی دکھائی جا رہی ہے۔اس پریس کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ جس شخص کو بھارت نے مردہ قرار دیا تھا اسی حوالدار محمد آصف کو زندہ پیش کر دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پہلگام، پلوامہ اور اڑی کی طرز پر گھڑی گئی ایک اور کہانی ہے جس کا اصل مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ وادی آج دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے جہاں ہر دس کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے اور تقریباً دس لاکھ فوجی موجود ہیں، کشمیریوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور پھر نکال کر مار کر فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔اس تازہ فالس فلیگ کے پانچ بڑے مقاصد تھے۔ پہلا مقصد مقبوضہ وادی میں جاری بدترین جبر سے دنیا کی توجہ ہٹانا تھا جہاں آج 10 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ دوسرا مقصد پہلگام واقعے کا بیانیہ زندہ رکھنا تھا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگرد ریاست ثابت کیا جا سکے۔ تیسرا مقصد ایک ریٹائرڈ پاکستانی فوجی کو لشکر کا کمانڈر بنا کر پاک فوج کو بدنام کرنا اور ایف اے ٹی ایف جیسے فورمز پر دباؤ بڑھانا تھا۔ چوتھا مقصد داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا تھا کیونکہ مئی 2026ء سے جاری آپریشن شیرووالی میں چھ ماہ تک کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ اور پانچواں مقصد اس جعلی کامیابی کو جواز بنا کر وادی میں مزید کریک ڈاؤن کرنا تھا۔ اور ایسا ہی ہوا، اس اعلان کے بارہ گھنٹے کے اندر ہی بھارتی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے کلگام اور قاضی گنڈ میں درجنوں گھروں پر چھاپے مارے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں پر محیط ایک منظم اور مکروہ تاریخ کا تسلسل ہے۔ کتاب گنگا سے پلوامہ تک بھارت اب تک آٹھ سے دس بڑے فالس فلیگ آپریشنز کر چکا ہے۔1971ء میں گنگا طیارہ اغواء کر کے پاکستان پر الزام لگا کر مشرقی پاکستان کا فضائی رابطہ منقطع کرنا، 20 مارچ 2000ء کو امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھتی سنگھ پورہ میں 36 سکھوں کا قتل عام، 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ، 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس میں 68 پاکستانیوں کو زندہ جلانا، 2008ء کے ممبئی حملے، 2016ء میں پٹھان کوٹ اور اڑی کے واقعات، 2019ء میں پلوامہ ڈرامہ جسے خود مقبوضہ کشمیر کے سابق بھارتی گورنر ستیہ پال ملک نے سیکیورٹی کی مجرمانہ غفلت قرار دیا، اور 22 اپریل 2025ء کا پہلگام واقعہ جس میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کو جواز بنا کر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا اور پاکستان پر فضائی جارحیت کی، یہ سب ایک ہی پیٹرن پر ہیں۔ ہر واقعہ کسی اہم الیکشن یا سفارتی دورے سے پہلے ہوتا ہے، فوری طور پر بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے، پاکستان کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش ٹھکرا دی جاتی ہے اور پھر میڈیا کے ذریعے جنگی جنون پیدا کیا جاتا ہے۔دراصل ہر فالس فلیگ آپریشن کے بعد کشمیریوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی انتہا شروع ہوتی ہے جو انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ پہلا ظلم اجتماعی سزا کی صورت میں ہوتا ہے۔ رات کے دو بجے دروازے توڑ کر گھروں میں گھسنا، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا، جوانوں کو گرفتار کر کے نامعلوم ٹارچر سیلز میں لے جانا۔ اقوام متحدہ کے آٹھ خصوصی نمائندوں کی مئی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پہلگام ڈرامے کے بعد پانچ ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ دوسرا ظلم جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کی صورت میں ہوتا ہے۔ بے گناہ نوجوانوں کو اٹھا کر وردی پہنا کر شہید کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دہشتگرد مارا گیا۔ کلگام کے عمران احمد مگرے کو گرفتار کر کے تشدد کے بعد دریا میں پھینکنے کی ڈرون فوٹیج اس کی زندہ مثال ہے۔ تیسرا ظلم گھروں کو بارود سے اڑانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد اب تک گیارہ سو سے زائد گھر مسمار کیے جا چکے ہیں جس سے ایک خاندان کی تین نسلوں کی جمع پونجی خاک ہو جاتی ہے۔ چوتھا ظلم وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنانا ہے۔ انٹرنیٹ بند، کرفیو نافذ، اسکول بند، اسپتالوں تک رسائی بند، ہر دس کشمیریوں پر ایک فوجی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس محاصرے میں 995 کشمیری شہید اور 2465 زخمی ہو چکے ہیں۔ اور پانچواں ظلم خواتین کی بے حرمتی اور بچوں پر پیلٹ گن کا استعمال ہے جس سے ہزاروں بچے اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے ان مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ہ تمام مظالم دراصل کشمیریوں کے حق خودارادیت یعنی استصواب رائے کے حق کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل سازش ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 47 کشمیریوں کو حق خودارادیت دیتی ہے۔ بھارت فالس فلیگ کے ذریعے اس سیاسی اور قانونی حق کو دہشتگردی کا رنگ دے کر ختم کرنا چاہتا ہے۔ جب دنیا کے سامنے یہ کہا جائے گا کہ وادی میں لڑنے والا کشمیری نہیں بلکہ پاکستان سے آیا ہوا ایس ایس جی کا حوالدار ہے تو دنیا استصواب رائے کی بات سننے کے بجائے دہشتگردی کی بات سنے گی۔ اس کے علاوہ 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت نے ساڑھے چار لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر فالس فلیگ کے بعد گرفتاریوں، گھر مسماری اور خوف و ہراس کے ذریعے مقامی کشمیریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ جب کبھی استصواب رائے ہو تو نتیجہ بھارت کے حق میں نکلے۔
پاکستان نے ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ سب سے بڑا ہتھیار زندہ ثبوت پیش کرنا ہے جیسا کہ آج حوالدار آصف کو پیش کر کے کیا گیا۔ دوسرا ہتھیار ٹائم لائن اور تضادات کو گرافکس کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھنا ہے۔ تیسرا ہتھیار پیشگی سفارت کاری ہے، جنوری 2023ء میں پونچھ سیکٹر کے فالس فلیگ منصوبے کو پہلے ہی اقوام متحدہ اور پی فائیو ممالک کو بتا کر ناکام بنا دیا گیا تھا۔ چوتھا ہتھیار مقبوضہ کشمیر کے اندر موجود کشمیری صحافیوں، سکھ رہنماؤں اور بھارتی سابق گورنر ستیہ پال ملک جیسے بھارتی افراد کے بیانات کو ثبوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اور پانچواں ہتھیار فوجی تیاری ہے، 27 فروری 2019ء اور 6-7 مئی 2025ء کو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ فالس فلیگ کو جواز بنا کر کوئی مہم جوئی برداشت نہیں کی جائے گی۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا کردار ابھی تک مایوس کن ہے۔ سلامتی کونسل سرکاری طور پر کسی واقعے کو فالس فلیگ قرار نہیں دیتی کیونکہ امریکہ اور فرانس جیسے ممالک بھارت کے تجارتی مفادات کی وجہ سے ایسے الفاظ کو روک دیتے ہیں۔ پہلگام پر بند کمرہ اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین اور او آئی سی نے بھارت کی جعلی مقابلوں اور آبادیاتی انجینئرنگ کی مذمت کی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر بھارت کی ٹرانس نیشنل دہشتگردی کو بے نقاب کیا ہے۔ عالمی میڈیا نے آج کی پریس کانفرنس کو بھارتی دعوے کی تردید کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔ان فالس فلیگ آپریشنز کی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کشمیر کو بلیک ہول نہ رہنے دیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر بڑے واقعے کی اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ یو این ایم او جی آئی پی سے غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں جسے بھارت نے آج تک مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ دوسرا آزاد بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بلا روک ٹوک وادی تک رسائی دی جائے۔ تیسرا او آئی سی اور اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ ڈیجیٹل فرانزک سیل بنایا جائے جو ہر دعوے کے فون ریکارڈ اور تصاویر کا فوری تجزیہ کرے۔ جہاں روشنی ہوگی وہاں فالس فلیگ کا اندھیرا خود ختم ہو جائے گا اور کشمیریوں پر ہونے والا ظلم و ستم ایک دن ضرور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑے گا اور انہیں ان کا حق خودارادیت ضرور ملے گا۔
ان شاء اللہ !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button