
روس نے ہفتے کے روز سفارت کاروں اور غیر ملکی شہریوں سے کییف چھوڑنے کی نئی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت پر ’’بڑے پیمانے‘‘ پر مزید فضائی حملے کیے جائیں گے۔ یہ انتباہ شہر کے ایک اور اہم پل پر کیے گئے حملے کے چند گھنٹوں بعد جاری کیا گیا۔
ماسکو نے حالیہ ہفتوں میں کییف پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ ڈرونز کے مسلسل حملوں میں اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث دارالحکومت تقریباً مسلسل ہائی الرٹ پر ہے۔
کییف کے میئر ویٹالی کلیچکو کے مطابق ہفتے کی صبح ناردرن برج پر حملے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ سڑک اور ٹرالی بس کی بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچا، جس سے ٹریفک متاثر ہوئی۔
اس حملے کے چند گھنٹوں بعد روسی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر سفارت کاروں اور غیر ملکیوں سے کییف چھوڑنے اور یوکرین کا سفر نہ کرنے کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں تشویش ہے کہ ہر کسی نے ان انتباہات پر عمل نہیں کیا اور بعض افراد جان بوجھ کر خود کو جان لیوا خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس انتباہ کو نظر انداز کرنے والوں کو پیش آنے والے کسی بھی ممکنہ نقصان کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہو گی۔
روس نے مئی میں بھی ایسا ہی انتباہ جاری کیا تھا، لیکن یوکرین کے حامی ممالک کے سربراہان اور حکومتی رہنما اظہارِ یکجہتی کے لیے کییف کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر شہری علاقوں پر بڑے حملوں کی اجازت دے کر جنگی قوانین کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم کریملن نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں تقریباً 30 لاکھ کی آبادی والے شہر کییف پر فضائی حملوں میں اضافے سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہر میں ٹریفک کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔



