
مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، معاہدے کے بعد چار مرتبہ مسودہ تبدیل کیا گیا: شیری رحمان
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا جمہوری کردار اہم ہے اور مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے تمام خدشات کو سنا گیا۔
احسان احمد-پاکستان
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے دوران کئی اہم نکات پر اتفاق ہوا، تاہم معاہدے پر رضامندی کے بعد بھی مسودے میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی، جس سے مذاکراتی عمل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شیری رحمان کے مطابق گزشتہ دو روز سے سیاسی کشیدگی اور ممکنہ انتشار کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے اور ملک کو سیاسی بے یقینی سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔
معاہدے کے بعد ڈرافٹ میں بار بار تبدیلی پر افسوس
شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان متعدد معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا اور ایک مرحلے پر معاہدے پر رضامندی بھی سامنے آئی، تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی کی جانب سے بعض نکات پر اختلاف کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ "افسوس ہے کہ معاہدے پر رضامندی کے بعد چار مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا۔” ان کے مطابق مسودے میں بار بار تبدیلی سے مذاکرات کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور معاملات کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹیں سامنے آئیں۔
پی ٹی آئی کے خدشات سنے گئے
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا جمہوری کردار اہم ہے اور مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے تمام خدشات کو سنا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کے مؤقف کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ مذاکراتی عمل میں ان کے تحفظات اور مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
شیری رحمان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل بات چیت اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، کیونکہ ملک اس وقت مزید سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
لانگ مارچ کے معاملے پر اختلاف برقرار
شیری رحمان کے مطابق مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت کے باوجود لانگ مارچ کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنا اور ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
دو روز سے ملک کو انتشار سے بچانے کی کوششیں
شیری رحمان نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے ملک کو کسی نئے سیاسی بحران اور انتشار سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ ان کے مطابق مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جس کے ذریعے اختلافات کو پُرامن اور جمہوری انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔
مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر زور
شیری رحمان نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات کا پائیدار حل طاقت یا تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات، پارلیمان اور آئینی و جمہوری طریقہ کار میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھیں تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام اور انتشار سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان میں جمہوری کردار ادا کرنا اور سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی موجودہ صورتحال میں بہتر راستہ ہے۔



