
جینز تھوراؤ
تاہم ان کی سب سے بڑی پریشانی جرمنی میں زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ انشورنس کمپنی آر پلس وی کی جانب سے برلن میں پیش کیے گئے "جرمن شہریوں کے خدشات سے متعلق 2026 کے مطالعے” کا نتیجہ یہی ہے۔
محققین نے رواں سال مئی کے اوائل سے جولائی کے اواخر تک 14 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 2400 جرمن زبان بولنے والے شہریوں سے سروے کیا۔
مطالعے کے مطابق مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ کئی برسوں سے مسلسل جرمن شہریوں کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔ یہ سروے 1990ء کی دہائی کے اوائل سے ہر سال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال سروے میں شامل 52 فیصد افراد نے روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو اپنی سب سے بڑی پریشانی قرار دیا تھا، جبکہ 2026ء میں یہ شرح بڑھ کر 59 فیصد ہو گئی ہے۔
برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس مطالعے کی مشیر ماہر سیاسیات ازابیلے بورُوکی نے اس کی وجوہات بیان کیں۔
انہوں نے کہا، ”توانائی، رہائش اور خوراک جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باعث تفریح، تعطیلات اور خریداری کے لیے لوگوں کے پاس دستیاب رقم کم ہو گئی ہے۔ اب وہ پہلے سے کم چیزیں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔‘‘
جرمن شہریوں کو زیادہ ٹیکس اور سماجی تحفظ کے اخراجات کا خدشہ
مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شہری جرمنی کے سماجی تحفظ کے نظام کو درپیش سنگین بحران سے آگاہ ہیں۔ سرکاری پنشن فنڈ اور طویل مدتی نگہداشت کا انشورنس نظام، دونوں مسلسل مالی خسارے کا شکار ہیں۔
زیادہ تر لوگوں کو یہ بھی احساس ہے کہ ٹیکسوں اور سماجی تحفظ کے لیے ادا کیے جانے والے واجبات میں اضافہ ہو گا۔ اسی لیے زیادہ ٹیکسوں کا خوف گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے۔
بورُوکی نے کہا، ”زیادہ ٹیکسوں اور مراعات میں کٹوتی کے خوف کے پیچھے انصاف کا سوال بھی موجود ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ نظام کو جدید بنانے کے اخراجات کا بوجھ کون اٹھائے گا۔ انہیں یہ فکر بھی ہے کہ کیا وہ ان مراعات پر بھروسہ کر سکتے ہیں جن کے وہ حق دار ہیں۔‘‘

جنگ، امیگریشن اور ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق خدشات میں کمی
لیکن ان مسائل کے بارے میں جرمن شہریوں کی کیا رائے ہے، جو ملک میں خبروں کی سرخیوں میں نمایاں ہیں؟ ان میں امیگریشن، معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔
سروے میں شامل 52 فیصد افراد کو خدشہ ہے کہ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جرمن ریاست کی استعداد پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ تمام خدشات میں یہ مسئلہ تیسرے نمبر پر ہے۔
تاہم عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جرمن شہری زیادہ فکرمند دکھائی نہیں دیتے۔
مطالعے کے محقق گریشا براؤر رابینووچ کے مطابق صرف 45 فیصد افراد کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”یہ شرح ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔‘‘
2018 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران اسی سوال کے جواب میں 69 فیصد افراد نے کہا تھا کہ انہیں اس صورتِ حال سے بہت زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے۔
براؤر رابینووچ کے مطابق، ”مسلسل کئی برسوں تک جغرافیائی سیاسی خطرات کی گھنٹیاں بجنے کے بعد لوگ اب ان حالات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

جرمن سیاست دانوں کی کارکردگی پر شہریوں کے تحفظات
یہی رجحان دیگر خدشات کے معاملے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ جرمن شہری مستقبل کے بارے میں توقع سے کہیں کم پریشان نظر آتے ہیں۔
اب صرف 34 فیصد افراد کو خدشہ ہے کہ جرمنی کسی جنگ میں ملوث ہو سکتا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 41 فیصد تھی۔
1992 سے اس مطالعے میں لوگوں سے یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا انہیں اپنی ملازمت کھونے کا خوف ہے۔ اس مرتبہ ملازمت پیشہ افراد میں سے صرف 20 فیصد نے اس کا جواب ہاں میں دیا، جو اب تک ریکارڈ کی گئی سب سے کم شرح ہے۔
تاہم حکومت اور اپوزیشن دونوں کے سیاست دانوں کے بارے میں شہریوں کی رائے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ سروے میں لوگوں سے سیاست دانوں کو ایک سے چھ تک نمبر دینے کے لیے کہا گیا، جہاں ایک بہترین اور چھ بدترین کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جرمن اسکولوں میں بھی یہی درجہ بندی کا نظام رائج ہے۔
سیاست دانوں کو اوسطاً 4.1 نمبر ملے، جو بمشکل کامیابی کے درجے میں آتے ہیں۔
ماہرِ سیاسیات بورُوکی کے مطابق اس صورت حال کی بنیادی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ان کے مطابق سابقہ مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے لوگوں کو نئی حکومت سے توقع تھی کہ وہ زیادہ مؤثر قیادت فراہم کرے گی، سیاسی محاذ آرائی کم ہو گی اور معیشت تیزی سے بحال ہو گی۔ لیکن ان کے الفاظ میں، ”ایسا نہیں ہو سکا۔ اب بڑے بڑے اعلانات اور عملی نتائج کے درمیان فرق واضح ہو گیا ہے۔ لوگ مایوس ہو رہے ہیں اور ان کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘



