صحتتازہ ترین

فلو، کووڈ-19 اور RSV کا موسم، ماہرین نے ویکسین اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دے دیا

موسمِ خزاں میں سانس کی بیماریوں کے وائرس دوبارہ گردش میں آنے کا خدشہ، فلو، کووڈ-19 اور RSV سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن پر توجہ دینے کی اپیل

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن: موسمِ خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی سانس کی بیماریوں کا سبب بننے والے وائرسز کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انفلوئنزا (فلو)، کووڈ-19 اور ریسپائریٹری سنسیشیئل وائرس (RSV) آنے والے موسمِ خزاں اور موسمِ سرما میں ایک بار پھر گردش کرسکتے ہیں، جبکہ ویکسینیشن اور دیگر احتیاطی تدابیر سنگین بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

موسم میں ہلکی خنکی، بچوں کی اسکول واپسی اور لوگوں کا گھروں اور بند مقامات پر زیادہ وقت گزارنا ایسے عوامل ہیں جو سانس کے وائرسز کی منتقلی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔

اگرچہ اس وقت امریکہ میں موسمی فلو کی مجموعی سرگرمی نسبتاً کم سطح پر ہے، تاہم بعض علاقوں میں فلو سے متعلق اشاریوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

فلو کی سرگرمی ابھی کم، مگر بعض علاقوں میں اضافہ

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں موسمی انفلوئنزا کی سرگرمی ابھی کم سطح پر ہے، تاہم کچھ علاقوں میں فلو کے کیسز سے متعلق مختلف اشاریے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔

مغربی امریکہ کے بعض علاقوں میں فلو کی سرگرمی نسبتاً زیادہ نمایاں ہونے لگی ہے۔ واشنگٹن ریاست کی کنگ کاؤنٹی میں صحت کے حکام نے بھی فلو کے مریضوں میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست کے وسط سے کنگ کاؤنٹی میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا جو فلو کی علامات کے باعث ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس سے طبی امداد حاصل کرنے پہنچے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے کہ موسمی وائرسز کی سرگرمی آنے والے ہفتوں میں مزید بڑھ سکتی ہے، تاہم کسی ایک علاقے میں کیسز میں اضافہ لازماً پورے ملک کے رجحان کی نمائندگی نہیں کرتا۔

فلو، کووڈ اور RSV میں فرق کیا ہے؟

فلو، کووڈ-19 اور RSV تین مختلف وائرسز سے ہونے والی سانس کی بیماریاں ہیں، تاہم ان میں متعدد علامات ایک جیسی ہوسکتی ہیں۔

ان بیماریوں میں بخار، کھانسی، گلے میں درد، ناک بہنا، تھکن اور جسم میں درد جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ اسی وجہ سے صرف علامات کی بنیاد پر یہ طے کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ مریض کو کون سا وائرس لاحق ہے۔

بعض افراد میں بیماری نسبتاً ہلکی رہتی ہے، جبکہ عمر رسیدہ افراد، بہت کم عمر بچوں، حاملہ خواتین اور بعض بنیادی طبی مسائل رکھنے والے افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

ویکسینیشن کو اہم حفاظتی اقدام قرار

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب ویکسینز کا مقصد ہر قسم کے انفیکشن کو مکمل طور پر روکنے کی ضمانت دینا نہیں بلکہ بیماری کی شدت، پیچیدگیوں اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

فلو اور کووڈ-19 کے لیے موسمی ویکسینز دستیاب ہیں جبکہ RSV سے بچاؤ کے لیے بھی مخصوص عمر اور طبی حالات کے حامل افراد کے لیے حفاظتی ویکسین یا دیگر حفاظتی طریقے موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہر فرد کے لیے ایک ہی ویکسین شیڈول موزوں نہیں ہوسکتا، اس لیے عمر، حمل، سابقہ بیماریوں، مدافعتی نظام کی کیفیت اور مقامی طبی رہنما اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

امریکہ میں ویکسین پالیسی پر بحث

اس سال امریکہ میں موسمی ویکسینیشن کے حوالے سے بحث اس لیے بھی اہم ہوگئی ہے کہ وفاقی سطح پر ویکسین پالیسی اور سفارشات کے عمل میں نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دوسرے دور میں CDC کی ویکسین ایڈوائزری کمیٹی، یعنی ایڈوائزری کمیٹی آن امیونائزیشن پریکٹسز (ACIP) میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ ویکسین پالیسی سے متعلق قانونی معاملات بھی جاری رہے۔

ان تبدیلیوں کے بعد CDC نے اپنی آن لائن رہنمائی میں فلو اور کووڈ-19 کے لیے گزشتہ سال کی سفارشات پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

یہ صورتحال طبی ماہرین کے درمیان اس بات پر بحث کا باعث بنی ہے کہ ویکسین سے متعلق قومی رہنمائی کس طرح تیار کی جائے اور عوام تک اس بارے میں واضح اور قابل اعتماد معلومات کیسے پہنچائی جائیں۔

طبی ماہرین کا آزادانہ جائزہ

اس دوران امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے ویکسین انٹیگریٹی پروجیکٹ نے موسمِ خزاں کی ویکسینز کا آزادانہ جائزہ لینے کا عمل شروع کیا۔

اس جائزے میں فلو، کووڈ-19 اور RSV سمیت مختلف سانس کے وائرسز کے خلاف دستیاب حفاظتی ویکسینز کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس آزادانہ جائزے کے نتائج ستمبر میں طبی جریدے JAMA میں شائع ہوئے اور ان جائزوں نے 2026-27 کے لیے سانس کے وائرسز سے بچاؤ کی ویکسینیشن سفارشات تیار کرنے میں مختلف طبی تنظیموں کی مدد کی۔

متعدد طبی تنظیموں نے اپنی سفارشات جاری کردیں

امریکی طبی اداروں میں متعدد معروف تنظیموں نے بھی 2026-27 کے سانس کے وائرسز کے موسم کے لیے ویکسینیشن اور حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنی سفارشات جاری کی ہیں۔

ان میں امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس، امریکن اکیڈمی آف فیملی فزیشنز، امریکن کالج آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس اور انفیکشیئس ڈیزیزز سوسائٹی آف امریکہ سمیت دیگر طبی تنظیمیں شامل ہیں۔

ان سفارشات کا مقصد مختلف عمر اور خطرے کے گروہوں کے لیے ویکسینیشن سے متعلق طبی شواہد کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

بچوں کے لیے خصوصی احتیاط ضروری

بچے اسکول واپس جانے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ قریبی رابطے میں آتے ہیں، جس سے سانس کے وائرسز کی منتقلی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

RSV خاص طور پر کم عمر بچوں میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض شیر خوار بچوں اور کم عمر بچوں میں یہ وائرس سانس کی نالی کے نچلے حصے کو متاثر کرکے زیادہ شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

والدین کو بچوں میں سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی سستی، پانی یا دودھ کم پینا اور دیگر تشویش ناک علامات کی صورت میں بروقت طبی مشورہ لینے کی ضرورت ہے۔

عمر رسیدہ افراد اور بنیادی بیماریوں والے افراد زیادہ خطرے میں

ماہرین نے خاص طور پر عمر رسیدہ افراد اور ایسے افراد کو احتیاط کا مشورہ دیا ہے جو پہلے سے کسی بنیادی طبی بیماری میں مبتلا ہوں۔

دل، پھیپھڑوں یا دیگر دائمی بیماریوں کے حامل افراد میں سانس کے وائرسز بعض اوقات زیادہ شدید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسی طرح مدافعتی نظام کمزور ہونے والے افراد کے لیے بھی موسمی وائرسز سے تحفظ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بھی ویکسینیشن اہم

طبی ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو بھی سانس کے وائرسز کے موسم میں اپنی اور اپنے بچے کی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔

حمل کے دوران بعض انفیکشنز زیادہ سنگین اثرات مرتب کرسکتے ہیں، اس لیے حاملہ خواتین کو اپنے ڈاکٹر یا طبی ماہر سے مشورہ کرکے اپنے لیے موزوں ویکسینیشن اور دیگر حفاظتی اقدامات کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کو وفاقی ویکسین پالیسی پر تشویش

ویکسین پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں پر بعض امریکی طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر بروس گیلن، جو میڈیسن اینڈ پراجیکٹ آف جارج ٹاؤن سے وابستہ ہیں، نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ امریکہ کئی دہائیوں سے ویکسین کے شواہد کا جائزہ لینے اور انہیں عوامی صحت کی سفارشات میں تبدیل کرنے کے لیے ایک قائم شدہ وفاقی نظام سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس نظام میں CDC اور اس کی ویکسین ایڈوائزری کمیٹی ACIP کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

ڈاکٹر گیلن نے تشویش ظاہر کی کہ اگر وفاقی سطح پر شواہد پر مبنی ویکسین رہنمائی کا عمل کمزور ہوتا ہے تو اس سے عوام اور طبی ماہرین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

"وائرسز کی گردش ختم نہیں ہوئی”

ڈاکٹر بروس گیلن کے مطابق وفاقی سطح پر ویکسین پالیسی کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کے باوجود فلو، SARS-CoV-2 اور RSV جیسے وائرسز کی گردش ختم نہیں ہوئی اور موسمِ خزاں و سرما میں ان کے دوبارہ پھیلنے کا امکان برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے، والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں فیصلے کرنے ہوں گے جبکہ عمر رسیدہ افراد، حاملہ خواتین اور بنیادی طبی مسائل رکھنے والے افراد کو اپنی حفاظت کے لیے مناسب معلومات درکار ہوں گی۔

ان کے مطابق ویکسین سے متعلق شواہد پر مبنی رہنمائی میں خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

ویکسین کے ساتھ دیگر احتیاطی اقدامات بھی اہم

طبی ماہرین کے مطابق سانس کے وائرسز سے بچاؤ صرف ویکسینیشن تک محدود نہیں۔ ہاتھوں کی صفائی، بیمار ہونے کی صورت میں دوسروں سے فاصلہ، مناسب ہوا کی آمدورفت اور ضرورت کے مطابق ماسک کا استعمال بھی وائرسز کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

خاص طور پر ایسے افراد جو خود زیادہ خطرے میں ہوں یا جن کے گھر میں عمر رسیدہ، کم عمر یا کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد موجود ہوں، انہیں موسمی وائرسز کے دوران اضافی احتیاط کرنی چاہیے۔

بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص میں فلو، کووڈ-19 یا RSV جیسی علامات ظاہر ہوں تو علامات کی شدت اور فرد کی طبی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔

سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں درد، شدید کمزوری، الجھن، پانی کی شدید کمی یا علامات کے تیزی سے بگڑنے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

ویکسین سے متعلق فیصلہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعد

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے فیصلے میں عمر، صحت کی صورتحال، حمل، سابقہ ویکسینیشن اور مقامی صحت کے رہنما اصولوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

اس لیے عوام کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات کے بجائے اپنے ڈاکٹر، مستند طبی اداروں اور متعلقہ صحت حکام کی تازہ ترین ہدایات سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

صحت عامہ کے نظام کے لیے اہم موسم

موسمِ خزاں اور سرما سانس کے وائرسز کے حوالے سے ہر سال صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ فلو، کووڈ-19 اور RSV کے کیسز میں بیک وقت اضافہ ہونے کی صورت میں ہسپتالوں، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس اور طبی عملے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے ماہرین کے نزدیک ویکسینیشن، بروقت تشخیص، بیماری کی صورت میں احتیاط اور خطرے سے دوچار افراد کا تحفظ مجموعی طور پر بیماری کے بوجھ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

عوام کے لیے اہم پیغام

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس کے وائرسز کا موسم ہر سال واپس آتا ہے، لیکن اس سے نمٹنے کے لیے دستیاب حفاظتی ذرائع بھی موجود ہیں۔ فلو، کووڈ-19 اور RSV کے حوالے سے مناسب ویکسینیشن، طبی مشورہ اور بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سنگین بیماری کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عوام کو ویکسین سے متعلق واضح، سائنسی شواہد پر مبنی اور تازہ معلومات دستیاب ہوں تاکہ والدین، بزرگ افراد، حاملہ خواتین اور بنیادی طبی مسائل رکھنے والے افراد بروقت اور باخبر فیصلے کرسکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button