
مذہب کے نام پر مفاد کی سیاست…..علی عباس کاظمی
جب مفاد انسان سے بڑا ہو جائے تو فساد کسی ایک مذہب، قوم یا خطے کا مسئلہ نہیں رہتا، پوری انسانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی ستم ظریفی شاید یہ ہے کہ انسان جنگیں اپنے مفاد کے لیے لڑتا ہے اور الزام اپنے نظریات پر رکھ دیتا ہے۔ کبھی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے، کبھی قومیت کو، کبھی تہذیب کو اور کبھی نظریات کو۔ تاریخ کے صفحات کو جذبات کے بجائے کھلی آنکھ سے پڑھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بڑی تباہیوں کے پیچھے اکثر مقدس نعروں سے زیادہ طاقت، زمین، دولت، اقتدار، وسائل اور سیاسی مفادات کارفرما رہے ہیں۔ مذہب کو بہت مرتبہ ایک پردے کے طور پر استعمال کیا گیا، مگر پردہ اور محرک ایک چیز نہیں ہوتے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنے مفاد کو حق کا نام دے کر دوسروں کے خون کو جائز سمجھنے لگتا ہے۔آج دنیا میں لڑائیاں صرف سرحدوں پر نہیں ہو رہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان سے اس لیے بھی ٹکرا رہا ہے کہ دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ سیاست میں اقتدار کی خواہش، کاروبار میں زیادہ منافع کی طلب، معاشرے میں برتری کا احساس اور ذاتی زندگی میں انا کا غلبہ، یہ سب اسی ذہنیت کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک شخص دولت جمع کرنے کے لیے دوسرے کا حق دباتا ہے، ایک ادارہ اپنے فائدے کے لیے کمزور طبقے کو نظر انداز کرتا ہے، ایک سیاسی گروہ اقتدار کے لیے معاشرے کو تقسیم کرتا ہے اور طاقتور ریاست اپنے مفاد کے لیے کمزور قوموں کی زمین، وسائل اور مستقبل کو استعمال کرتی ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ دنیا میں بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے۔ جب مفاد انسان سے بڑا ہو جائے تو فساد کسی ایک مذہب، قوم یا خطے کا مسئلہ نہیں رہتا، پوری انسانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
جنگوں کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان اکثر اپنے اصل ارادے کو چھپانے کے لیے خوبصورت الفاظ تلاش کر لیتا ہے۔ کبھی آزادی کے نام پر جنگ ہوتی ہے، کبھی تحفظ کے نام پر، کبھی قومی مفاد کے نام پر اور کبھی تہذیب کے دفاع کے نام پر۔ مگر میدان جنگ میں مرنے والا عام انسان ہوتا ہے۔ اس کا گھر اجڑتا ہے، اس کے بچے یتیم ہوتے ہیں، اس کی بستی خاموش ہوتی ہے اور اس کے خواب ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ فیصلے کرنے والے اکثر محفوظ کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جنگ کا فیصلہ وہ کرتے ہیں جن کے بچے مورچوں میں نہیں ہوتے، مگر قیمت وہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے جنگ شروع بھی نہیں کی ہوتی۔یہاں مذہب کا کردار بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مذہب اگر انسان کو انصاف، رحم، امانت، سچائی اور دوسرے انسان کے احترام کی تعلیم دیتا ہے تو اسے فساد کا بنیادی سبب قرار دینا آسان مگر غیر منصفانہ تجزیہ ہے۔ مسئلہ مذہب کی تعلیم سے زیادہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان مذہب کو اپنے مفاد کا لباس پہنا دیتا ہے۔ پھر عبادت باقی رہ جاتی ہے مگر اخلاق غائب ہو جاتا ہے، زبان پر خدا کا نام رہتا ہے مگر ہاتھ سے کسی کا حق چھین لیا جاتا ہے، مذہبی شناخت مضبوط ہوتی ہے مگر انسان سے محبت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ تضاد صرف مذہبی زندگی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی کردار کا بحران ہے۔ کوئی شخص اپنے نظریے کا بڑا دعوے دار ہو سکتا ہے مگر اس کے رویے سے اگر انصاف، رحم اور دیانت غائب ہیں تو اس کی شناخت نے اس کی انسانیت کو مضبوط نہیں کیا۔
ہم نے شاید سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ ہم دنیا کے مسائل کا علاج باہر تلاش کرتے رہے اور اپنے اندر کے بحران کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمیں حکومت بدلنے سے امید ہوتی ہے، نظام بدلنے سے امید ہوتی ہے، قیادت بدلنے سے امید ہوتی ہے، نئی ٹیکنالوجی سے امید ہوتی ہے، مگر اپنے رویے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ ایماندار ہو مگر اپنی چھوٹی سی ضرورت کے لیے اصول توڑنے میں ہچکچاتے نہیں۔ ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں مگر جب معاملہ اپنے عزیز کا ہو تو قانون سے رعایت چاہتے ہیں۔ ہم بدعنوانی کے خلاف تقریریں کرتے ہیں مگر معمولی فائدے کے لیے خاموش سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ اجتماعی خرابی ہمیشہ اجتماعی زندگی سے شروع نہیں ہوتی، اس کی جڑ اکثر فرد کے اندر ہوتی ہے۔آج انسان کے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر کیا اس کے ساتھ انسانیت بھی بڑھی ہے؟ ہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم دنیا بھر کے حالات چند لمحوں میں دیکھ لیتے ہیں مگر اپنے گھر کے اندر بیٹھے کسی پریشان انسان کی آنکھیں پڑھنے کا وقت نہیں رکھتے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں مگر اپنے ملازم، مزدور، کمزور رشتہ دار یا مخالف سیاسی کارکن کے حق کو اسی وقت بھول جاتے ہیں جب وہ ہمارے مفاد کے راستے میں آ جائے۔ یہ کیسا علم ہے جو ہمیں دنیا سمجھاتا ہے مگر انسان نہیں سمجھاتا؟
معاشرے کی اصلاح محض قوانین سے نہیں ہو سکتی۔ قانون ضروری ہے، ادارے ضروری ہیں، تعلیم ضروری ہے، مضبوط معیشت ضروری ہے، مگر ان سب کے پیچھے ایک ایسا انسان بھی چاہیے جو طاقت ملنے پر ظلم نہ کرے، دولت ملنے پر تکبر نہ کرے اور اختلاف ہونے پر دوسرے کو دشمن نہ سمجھے۔ اگر دل میں انصاف نہ ہو تو قانون بھی راستہ بدل لیتا ہے۔ اگر نیت میں دیانت نہ ہو تو ادارے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر دوسروں کے دکھ کی جگہ باقی نہ رہے تو بڑے سے بڑا نظام بھی بے روح ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ہمیں اپنے باطن کی اس شکست کو تسلیم کرنا ہوگا جس نے محبت کو مفاد، خدمت کو شہرت، سیاست کو اقتدار اور مذہب کو شناخت تک محدود کر دیا ہے۔ جب انسان اپنے دل سے دوسرے انسان کی قدر کھو دیتا ہے تو پھر کوئی نعرہ اسے حقیقی امن نہیں دے سکتا۔ امن کانفرنسوں کے اعلامیوں سے شروع نہیں ہوتا، وہ اس لمحے پیدا ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے حق کو اپنے حق کی طرح اہم سمجھنے لگتا ہے۔ انصاف عدالت میں پہنچنے سے پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے اور انسانیت قانون کی کتاب میں درج ہونے سے پہلے کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔
دنیا کو شاید کسی نئے فلسفے سے زیادہ ایک نئے انسان کی ضرورت ہے۔ ایسا انسان جو مذہب کو نفرت کا ہتھیار نہیں بلکہ اخلاق کی روشنی سمجھے، سیاست کو اقتدار نہیں خدمت سمجھے، دولت کو مقصد نہیں وسیلہ سمجھے اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرے۔ جب انسان اپنے اندر موجود لالچ، تکبر، تعصب اور اقتدار کی بھوک کو پہچان لے گا تو باہر کی بہت سی لڑائیاں خود کم ہونے لگیں گی۔ تبدیلی کا سفر شاید بہت طویل ہو۔۔۔مگر ہر بڑی تبدیلی کسی نہ کسی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھنے سے پہلے ہمیں اپنے اندر یہ دیکھنا ہوگا کہ جس ظلم کے خلاف ہم آواز بلند کر رہے ہیں، کہیں اس کی کوئی چھوٹی سی شکل ہمارے اپنے رویے میں تو موجود نہیں۔ شاید انسانیت کی سب سے بڑی جنگ میدان جنگ میں نہیں۔۔۔ انسان کے اپنے دل میں لڑی جا رہی ہے۔


