
اِن مَردوں کا کیا بھروسہ…… علی عباس کاظمی
یہ صرف خاندانی رویہ نہیں، پورا معاشرتی ڈھانچہ مرد کو اسی کردار میں دھکیلتا ہے۔ بچپن سے لڑکے کو بتایا جاتا ہے کہ مستقبل میں اسے گھر سنبھالنا ہے
ہمارے معاشرے میں مرد کی سب سے بڑی خوبی یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ اپنی تکلیف چھپا لے۔ وہ روئے نہیں، شکایت نہ کرے، حالات سے نہ گھبرائے، گھر کی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹے اور اپنی ناکامی کا بوجھ بھی خاموشی سے اٹھاتا رہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے جس خاموشی کو مردانگی کا نام دیا، وہی خاموشی بہت سے مردوں کے اندر ایک ایسی تنہائی پیدا کر رہی ہے جسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا۔ ہم نے مرد کو مضبوط بنانے کی کوشش میں اس کے جذبات کو مشکوک بنا دیا اور پھر حیران ہیں کہ ہمارے گھروں میں اتنے لوگ ایک دوسرے کے قریب رہ کر بھی ایک دوسرے سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔مرد کے بارے میں ہمارا اجتماعی تصور کئی متضاد توقعات کا مجموعہ ہے۔ وہ کمانے والا بھی ہو، ذمہ دار بھی، جذباتی طور پر متوازن بھی، ہر مشکل میں فیصلہ کرنے والا بھی اور گھر والوں کے لیے ہر وقت دستیاب بھی۔ اس سے یہ توقع کم ہی کی جاتی ہے کہ وہ کبھی خود بے یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسے ہمیشہ مسئلے کا حل ہونا چاہیے، مسئلے کا حصہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب مرد خود کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو اکثر اسے مدد مانگنے کے بجائے مزید مضبوط دکھائی دینے کی تربیت دی جاتی ہے۔
یہ صرف خاندانی رویہ نہیں، پورا معاشرتی ڈھانچہ مرد کو اسی کردار میں دھکیلتا ہے۔ بچپن سے لڑکے کو بتایا جاتا ہے کہ مستقبل میں اسے گھر سنبھالنا ہے۔ جوانی میں اسے روزگار کی دوڑ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ شادی کے بعد اس کی شناخت مزید ذمہ داریوں سے باندھ دی جاتی ہے۔ پھر بچوں کی تعلیم، مکان، علاج، والدین، بہن بھائی اور بڑھتی ہوئی ضروریات اس کے کندھوں پر آتی جاتی ہیں۔ لیکن اس سارے سفر میں کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کس حال میں ہے۔ اس کی کامیابی سب کی کامیابی بن جاتی ہے، مگر اس کی ناکامی اکثر صرف اسی کی ناکامی رہتی ہے۔ہمارے ہاں مرد کی قدر کا ایک بڑا پیمانہ اس کی آمدنی بن چکا ہے۔ کماتا ہے تو قابل احترام ہے، زیادہ کماتا ہے تو کامیاب سمجھا جاتا ہے اور اگر روزگار چھن جائے تو اچانک اس کی شخصیت کے دوسرے تمام پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ تعلیم، اخلاق، وفاداری، کردار، ذہانت اور خدمت سب کچھ ایک طرف، جیب کی حالت ایک طرف۔ یہ سوچ صرف مرد پر معاشی دباؤ نہیں ڈالتی بلکہ رشتوں کو بھی آہستہ آہستہ لین دین میں تبدیل کرتی ہے۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ محبت میں خلوص کیوں کم ہو رہا ہے۔
ایک بے روزگار مرد صرف نوکری نہیں کھوتا۔ بہت دفعہ وہ اپنے بارے میں معاشرے کا اعتماد بھی کھوتا محسوس کرتا ہے۔ اسے دوستوں کی محفل میں اپنی حالت بتانے میں جھجک ہوتی ہے، گھر میں اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور رشتے داروں کے سوالات اسے مزید اندر سے توڑتے ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ ناکام شخص کی مشکلات سننے سے زیادہ اس کی ناکامی کی وجہ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کام کیوں نہیں مل رہا، کاروبار کیوں نہیں چل رہا، اتنی کم آمدنی کیوں ہے، مگر بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اس سب کے دوران وہ انسان کیسا محسوس کر رہا ہے۔یہاں ہمارے معاشرے کی ایک تلخ منافقت سامنے آتی ہے۔ ہم ذہنی سکون کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر مرد کو سکون حاصل کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہم جذباتی صحت کے لیکچر سنتے ہیں مگر گھر میں بیٹے کے آنسو دیکھ کر اسے خاموش کرا دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی بات کرنی چاہیے مگر مرد اپنی پریشانی بیان کرے تو اسے کمزور، غیر ذمہ دار یا ناکام سمجھنے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ دوہرا معیار آخر کب تک چلے گا؟
اس بحث کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر کوئی مرد عورت پر ظلم کرتا ہے، بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ لیکن احتساب اور نفرت میں فرق ہے۔ ایک شخص کے جرم کو پوری جنس کی فطرت قرار دینا انصاف نہیں بلکہ ذہنی آسانی ہے۔ کیونکہ عمومی فیصلے ہمیں تحقیق، سمجھ اور ذمہ داری کی مشکل سے بچا لیتے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس ذہنی آسانی کو کاروبار بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، ایک جذباتی واقعہ اور ایک اشتعال انگیز جملہ ہزاروں لوگوں کے ذہن میں پوری حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے۔ کسی مرد کا غلط رویہ سامنے آتا ہے تو کچھ لوگ فوراً تمام مردوں کے بارے میں فیصلے صادر کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح کسی عورت کی غلطی سامنے آئے تو پورے عورت معاشرے کو نشانہ بنانا بھی اسی ذہنی بیماری کی دوسری شکل ہے۔ مسئلہ جنس نہیں، مسئلہ وہ رویہ ہے جو فرد کو اس کے عمل کے بجائے اس کی شناخت کے ذریعے پرکھتا ہے۔اس عمومیّت کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اچھے تعلقات کے امکانات کم ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہر مرد کو پہلے سے مشکوک سمجھا جائے تو اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟ اگر ہر عورت کو پہلے سے خود غرض یا ناقابل اعتماد تصور کیا جائے تو رشتہ کیسے قائم ہوگا؟ معاشرہ افراد کے درمیان اعتماد سے بنتا ہے، بدگمانی سے نہیں۔ بدگمانی وقتی طور پر انسان کو جذباتی تسکین دے سکتی ہے مگر طویل مدت میں تعلقات کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
مرد کے ساتھ ایک اور ناانصافی یہ ہے کہ اس کی جذباتی قربانیوں کو اکثر مالی ذمہ داری کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ باپ کا دیر تک کام کرنا صرف گزارے گئے گھنٹوں کا حساب نہیں۔ شوہر کا اپنی خواہش مؤخر کرنا صرف ایک معمولی فیصلہ نہیں۔ بیٹے کا اپنی زندگی کے کئی منصوبے روک دینا ہمیشہ نظر آنے والی قربانی نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہر مرد لازماً قربانی دے رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو دے رہا ہے، اس کی قربانی کو دیکھنے کے لیے ہماری آنکھ ہی نہیں۔لیکن یہاں مردوں کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ خاموش رہنا ہمیشہ خوبی نہیں۔ غصہ کرنا مردانگی نہیں۔ گھر والوں پر اپنی معاشی یا جسمانی طاقت استعمال کرنا اختیار نہیں بلکہ زیادتی ہے۔ اپنی پریشانی کو چھپا کر اسے دوسروں کے لیے غصے اور تلخی میں تبدیل کر دینا بھی درست نہیں۔ اگر معاشرہ مرد کو جذبات بیان کرنے کا حق دے تو مرد پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے جذبات کی ذمہ داری لے۔ اپنی تکلیف کسی دوسرے انسان کے لیے تکلیف کا جواز نہیں بن سکتی۔
اصل تبدیلی اسی وقت آئے گی جب ہم مرد کو دو انتہاؤں کے درمیان دیکھنا شروع کریں گے۔ اسے نہ ہر وقت طاقتور سمجھا جائے اور نہ ہر وقت مظلوم۔ وہ ایک ایسا انسان ہے جس کے اندر طاقت بھی ہے، کمزوری بھی، غلطی بھی اور خوبی بھی۔ اسے جواب دہ بھی ہونا چاہیے اور سمجھا بھی جانا چاہیے۔ اسے ذمہ داری بھی اٹھانی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر سہارا بھی ملنا چاہیے۔ یہی توازن بالغ معاشرے کی علامت ہے۔ہم اپنے بیٹوں کو آخر کیا سکھا رہے ہیں۔۔۔ اگر ہم انہیں صرف کمانے، مقابلہ کرنے اور برداشت کرنے کی تربیت دیں گے تو وہ زندگی کے جذباتی پہلو سے کیسے نمٹیں گے؟ اگر انہیں بتایا جائے گا کہ مرد کبھی نہیں روتا تو وہ اپنے اندر کے خوف سے کیا کریں گے؟ اگر انہیں ہر ناکامی پر یہ احساس دلایا جائے گا کہ تم ناکام ہو گئے ہو تو وہ یہ کیسے سمجھیں گے کہ ناکامی ایک واقعہ ہے، انسان کی شناخت نہیں؟
اسی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں کو بھی مرد کے بارے میں ایک متوازن تصور دینا ہوگا۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ اچھا مرد وہ نہیں جو صرف پیسہ کماتا ہے، بلکہ وہ ہے جو احترام کرتا ہے، ذمہ داری سمجھتا ہے، اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے اور طاقت کو ظلم میں تبدیل نہیں کرتا۔ مرد کی مالی حیثیت رشتے کی واحد بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔ جس معاشرے میں انسان کی قدر مسلسل اس کی افادیت سے ناپی جائے۔۔۔ وہاںمحبت بھی حساب کتاب کا شکار ہو جاتی ہے۔سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے مرد کی خاموشی کو اتنا معمول بنا دیا ہے کہ اب اس کے پیچھے چھپی پریشانی ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتی۔ ایک شخص گھر میں موجود ہے، کام کر رہا ہے، مسکرا رہا ہے، بچوں سے بات کر رہا ہے، مگر اندر سے مسلسل کسی نامعلوم دباؤ کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ ہمیں صرف اس لیے یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ چونکہ وہ مرد ہے، اس لیے سب ٹھیک ہوگا۔
معاشرہ اس وقت مہذب نہیں ہوتا جب وہ صرف کمزور کے حقوق کی بات کرے۔ اس کی اصل آزمائش تب ہوتی ہے جب وہ ان لوگوں کی تکلیف بھی دیکھ سکے جنہیں ہمیشہ مضبوط سمجھا گیا۔ عورت کو انصاف چاہیے، مرد کو بھی انصاف چاہیے۔ عورت کو احترام چاہیے، مرد کو بھی احترام چاہیے۔ دونوں کو اپنی غلطیوں کا حساب بھی دینا چاہیے اور دونوں کو انسان سمجھا بھی جانا چاہیے۔ شاید ہماری اجتماعی سوچ کی سب سے بڑی اصلاح یہی ہوگی کہ ہم جنس کے خانوں سے باہر نکل کر انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھنا شروع کریں۔ کیونکہ جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ مرد کی آنکھ میں آنے والا آنسو بھی انسانی تجربے کا حصہ ہے، اس دن شاید ہم صرف مرد کو نہیں، اپنے پورے معاشرے کو تھوڑا زیادہ انسان بنا سکیں گے۔


