پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

آپریشن ردالفتنہ 3 اور عزمِ استحکام: بلوچستان و خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 18 دہشت گرد ہلاک

بلوچستان کے مستونگ میں 5 اور شمالی وزیرستان میں 13 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد دونوں کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

کوئٹہ/شمالی وزیرستان: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقوں سیاپشت اور کلی گشتری میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے حوالے سے علاقے میں مزید سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ فورسز کی جانب سے علاقے کے مختلف مقامات کو سرچ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد یا سہولت کار کی موجودگی کا سراغ لگایا جاسکے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور معاون نیٹ ورک پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن و استحکام کے قیام تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ فورسز کا مقصد دہشت گرد عناصر کو منظم ہونے اور دوبارہ کارروائیاں کرنے کا موقع نہ دینا ہے۔

شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے خلاف ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی، جس میں 13 خوارج ہلاک ہوگئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے شمالی وزیرستان اور گردونواح میں دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کی نقل و حرکت پر مسلسل نگرانی رکھی ہوئی تھی، جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی میں 13 خوارج ہلاک ہوئے۔

عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں

شمالی وزیرستان میں ہونے والی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جاری سکیورٹی آپریشنز کے سلسلے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

فورسز دہشت گردوں کے ٹھکانوں، سہولت کاروں اور ان کے معاون نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ دہشت گردی کے خطرے کا مستقل خاتمہ کیا جاسکے۔ شمالی وزیرستان سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف حساس علاقوں میں سکیورٹی نگرانی مزید مؤثر بنائی گئی ہے۔

24 گھنٹوں میں اہم کامیابی

بلوچستان کے مستونگ میں 5 اور شمالی وزیرستان میں 13 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد دونوں کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں سرچ، کلیئرنس اور نگرانی کا عمل جاری ہے۔ فورسز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ منظم ہوکر کسی قسم کی کارروائی نہ کرسکیں۔

سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات، جدید نگرانی کے نظام اور زمینی آپریشنز کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 اور خیبرپختونخوا میں عزمِ استحکام کے تحت ہونے والی یہ کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں کا حصہ ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button