مشرق وسطیٰتازہ ترین

حوثیوں کے حملے جاری، سعودی اتحادی فورس کی جوابی کارروائی، لڑائی میں شدت

حوثیوں نے ایک الگ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے یمن کے عبوری حکومت کے دارالحکومت عدن میں ایئرپورٹ کے قریب ایک علاقے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رائٹرز کے ساتھ

یمن کے حوثیوں  نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ اس مقام پر کیے جانے والے متعدد حالیہ میزائل حملوں میں تازہ ترین واقعہ ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’ہماری مسلح افواج نے ابھی ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ حملہ درست نشانے پر لگا اور اس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔‘‘

ادھر سعودی قیادت میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض کے شمال میں ایک حوثی بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔ تاہم اتحاد نے جانی یا مالی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

حوثیوں نے ایک الگ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے یمن کے عبوری حکومت کے دارالحکومت عدن میں ایئرپورٹ کے قریب ایک علاقے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

بحیرہ احمر کے ساحل پر لڑائی میں شدت

یہ حملے یمن کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں اضافے کے دوران ہوئے ہیں۔

یمنی حکومتی فورسز نے سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد کے ساتھ اس ہفتے بحیرہ احمر کے ساحل پر آبنائے باب المندب اور اہم شہر مخا کے اطراف میں تیز رفتار فوجی کارروائی شروع کی۔ حکومتی فورسز نے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں حوثیوں نے گزشتہ ماہ اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

اس تصویر میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کو 8 ستمبر کو صوبہ تعز کے مغربی علاقے الکدحہ میں حوثی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران حوثی ٹھکانوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج اور اس کی وفادار فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے تعز کے ضلع الوازعیہ میں فوجی کارروائی شروع کر دی ہے اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں مزید پیش قدمی کی ہےتصویر: AFP

حوثیوں کے عدن ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے

ایران نواز حوثیوں نے بدھ کی صبح عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور بارودی مواد سے لدے ڈرونز سے حملہ کیا۔ یمن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب ملک کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک میزائل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی ایک پرواز کی لینڈنگ میں چند منٹ باقی تھے۔ حکام نے طیارے کی لینڈنگ منسوخ کرتے ہوئے اسے جدہ روانہ کر دیا، جبکہ مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر رن وے پر موجود دو طیاروں کو بھی علاقے سے دور منتقل کر دیا گیا۔

عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ یمن کے ان علاقوں کے لیے مرکزی بین الاقوامی ہوائی رابطہ ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

ایک الگ بیان میں یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے خمیس مشیط میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ایک فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا حوثیوں کا یہ دعویٰ اسی میزائل حملے سے متعلق تھا جسے سعودی قیادت میں اتحاد نے خمیس مشیط کے قریب روکنے کی بات کی تھی۔ سعودی حکام نے بھی ابہا ایئرپورٹ پر حملے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔

دریں اثنا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج اور اس کی وفادار فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے تعز کے ضلع الوازعیہ میں فوجی کارروائی شروع کر دی ہے اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں مزید پیش قدمی کی ہے۔

یمن میں دونوں فریقوں کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہوسکی، کیونکہ زمینی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور صحافیوں کے لیے متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی مشکل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button