پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی و عالمی امن سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال

اقوام متحدہ میں اصلاحات کا عمل ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد/راولپنڈی: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کے دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں عالمی و علاقائی امن و سلامتی، اقوام متحدہ کے کردار، جموں و کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدے، افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی، فلسطین اور غزہ کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقاتوں کے دوران پاکستان نے عالمی امن، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، اقوام متحدہ کے امن مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا انتونیو گوتریس کا خیرمقدم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ان کے اصولی عزم کو سراہا۔

وزیراعظم نے اپنے دورِ منصب کے دوران عالمی امن و سلامتی کے لیے انتونیو گوتریس کی نمایاں خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں اقوام متحدہ کا مؤثر کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت متعدد پیچیدہ سیاسی، سلامتی، معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا ہے، ایسے میں عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

مؤثر اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مؤثر، جامع اور زیادہ نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے UN80 اقدام کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کا عمل ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور قیام امن کے عمل کو مزید مضبوط بنانا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی امن کوششوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں پاکستان کا کردار

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ تنازعات کے حل اور مزید کشیدگی کی روک تھام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کی کوششوں کو تقویت دی جائے۔

سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر التوا میں نہیں رکھا جاسکتا، وزیراعظم

وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو بھی واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں۔

وزیراعظم نے اس معاملے میں بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام عالمی نظام اور ریاستوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات اور باہمی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔

وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

انہوں نے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن، انسانی امداد اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل کی ضرورت

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی اور موسمیاتی چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اقتصادی ترقی، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ سے زیادہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے اس سلسلے میں عالمی مالیاتی اور ترقیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنے پر زور دیا۔

جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انتونیو گوتریس کی ملاقات

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران علاقائی استحکام، جموں و کشمیر تنازع، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے اور افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔

عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کے دوران بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان اور پاک فوج کے کردار اور خدمات کو اجاگر کیا اور عالمی امن کے قیام کے لیے پاکستانی امن دستوں کی مسلسل خدمات اور قربانیوں پر روشنی ڈالی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی قیادت میں عالمی امن، استحکام اور انسانی تعاون کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو بھی سراہا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین

آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور پاک فوج کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی طویل اور قابلِ قدر خدمات کو بھی سراہا اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کی تعریف کی۔

انتونیو گوتریس نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کی خصوصی طور پر تعریف کی۔

ملاقات میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ پاکستان طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنے فوجی اہلکاروں کے ذریعے خدمات انجام دیتا آ رہا ہے اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔

انتونیو گوتریس کی جانب سے پاکستان اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جانا عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مکالمہ اور سفارت کاری، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون

وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان ملاقات میں یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ پاکستان عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں، افغانستان میں امن و استحکام، مسئلہ کشمیر، غزہ کی صورتحال اور دیگر علاقائی معاملات پر پاکستان کے مؤقف نے ملاقات کے ایجنڈے میں اہم جگہ بنائی۔

دونوں ملاقاتوں میں اس امر پر اتفاق رائے نمایاں رہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے، کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔

عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان اور اقوام متحدہ کا تعاون جاری رکھنے پر زور

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتوں کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے عالمی امن و سلامتی کے لیے کردار کو سراہا، جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری کو بڑھتی ہوئی کشیدگی، تنازعات، دہشت گردی، انسانی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی مشکلات جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام، تنازعات کے پرامن حل اور عالمی سطح پر سفارتی و کثیرالجہتی کوششوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button