پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا تحفظ پاکستان کی ترجیح ہے، وزیراعظم؛ حوثی ملیشیا سے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کسی بھی خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں، خصوصاً ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جو نہایت افسوس ناک صورتِ حال ہے۔

وزیراعظم نے ان حملوں کو سعودی عرب کی سلامتی اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔

سعودی فضائی دفاعی افواج کی کارروائیوں کو خراجِ تحسین

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج اور اتحادی افواج کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاعی اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی فضائی حدود، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کا تحفظ خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ میزائل حملوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکنے کی کارروائیاں شہریوں کی جانوں اور اہم تنصیبات کو مزید نقصان سے بچانے کے حوالے سے اہم ہیں۔

وزیراعظم کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق معاملات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور مملکت کو درپیش خطرات کے تناظر میں اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی حمایت کا اعادہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور دفاعی تعاون اس شراکت داری کی بنیاد ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ان میں سیاسی مشاورت، اقتصادی تعاون، دفاعی اشتراک اور عوامی سطح پر مضبوط روابط بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔

وزیراعظم کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد مملکت کی سلامتی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کا جائز حق حاصل ہے اور پاکستان اس حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور اپنی سرزمین کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ سعودی عرب کو بھی اپنی قومی سلامتی، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری دفاعی اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور مملکت کو درپیش خطرات کے مقابلے میں اس کے ساتھ یکجہتی برقرار رکھے گا۔

پاکستانی مؤقف میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے اس حمایت کا اعادہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور دفاعی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

حوثی ملیشیا سے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب پر حملے فوری طور پر بند کرے اور ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جن کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوں یا خطے کی صورتِ حال مزید خراب ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے واقعات سے نہ صرف متاثرہ ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ وسیع تر خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

وزیراعظم کے بیان میں حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور استحکام کی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک مذہبی، تاریخی، اقتصادی اور دفاعی روابط کے باعث ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی برادری کی بڑی تعداد بھی دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ دفاعی اور اسٹریٹجک معاملات میں باہمی مشاورت بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

سعودی عرب پر میزائل حملوں اور اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے حالات میں شہریوں کے تحفظ، اہم تنصیبات کی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان نے اپنے مؤقف کے ذریعے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور مملکت کو درپیش خطرات کے مقابلے میں اس کی حمایت جاری رہے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے بیان میں ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ حملوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو تقویت ملے۔

پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کی حمایت غیر متزلزل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور دفاعی تعاون برقرار رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button