اہم خبریںپاکستان

خیبر پختونخوا میں بھارتی سپانسرڈ فتنہ الہندستان خوارج کے نو خوارج مارے گئے، انسداد دہشت گردی کارروائیاں جاری

سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ان کارروائیوں کا مقصد علاقہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کا قلع قمع کرنا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس اف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ

5 دسمبر 2025 کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں فتنہ الہندستان خوارج سے تعلق رکھنے والے نو خوارج کو دو الگ الگ آپریشنز میں ہلاک کر دیا گیا۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ان کارروائیوں کا مقصد علاقہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کا قلع قمع کرنا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔

ضلع ٹانک میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی

خیبر پختونخوا میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے ضلع ٹانک میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کا کامیابی کے ساتھ پتہ لگایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات خوارج کو ہلاک کر دیا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے اپنے اہلکاروں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا، جبکہ مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ یہ ہتھیار دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد کارروائیوں میں استعمال کیے جانے والے تھے۔

ضلع لکی مروت میں دوسرا آپریشن

اسی دن ضلع لکی مروت میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کارروائی کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مزید دو خوارج کو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔ برآمد شدہ اسلحہ اور گولہ بارود سے یہ واضح ہوا کہ یہ دہشت گرد بھارتی سپانسر شدہ کارروائیوں میں سرگرم تھے اور علاقے میں دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سیکورٹی فورسز کی جانب سے جاری انسداد دہشت گردی مہم

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے "اعظم استحکام” کے وژن کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وژن نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی سپریم کمیٹی کی طرف سے منظور شدہ ہے، جس کا مقصد صوبے میں دہشت گردی اور غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

سیکورٹی فورسز نے کہا ہے کہ علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سپانسرڈ خارجی عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے مزید صفائی کی کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ عوامی تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کے لیے اہم ہیں۔

مارے گئے دہشت گردوں کی پس منظر اور اثرات

ہلاک کیے گئے نو خوارج فتنہ الہندستان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا مقصد علاقائی سطح پر دہشت گردانہ کارروائیوں کو فروغ دینا تھا۔ ان کی جانب سے برآمد شدہ اسلحہ اور گولہ بارود اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ عناصر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا سکتے تھے۔ سیکورٹی فورسز نے اس موقع پر کہا کہ ان کارروائیوں سے علاقہ میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئے گی اور مستقبل میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو مزید یقینی بنایا جا سکے گا۔

نتیجہ اور آئندہ اقدامات

پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے اس بات پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رہے گی اور کسی بھی قسم کے خارجی یا ملکی دہشت گرد عناصر کو علاقے سے ختم کرنے کے لیے آپریشنز مسلسل کیے جائیں گے۔ ان کارروائیوں کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا، دہشت گردانہ کارروائیوں کو ناکام بنانا اور بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔

سیکورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور علاقے میں امن و امان کے قیام کے امکانات مضبوط ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنے داخلی اور خارجی خطرات کے مقابلے میں کسی بھی صورت میں نرم رویہ اختیار نہیں کرے گا اور ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات اٹھا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button