
کشمیر کے نام پر لاہور میں اربوں روپے کی اراضی پر قبضہ مافیا کا راج: محکمہ امور کشمیر کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے سینکڑوں ایکڑ زمین پر غیر قانونی تعمیرات جاری
یہ زمین دراصل کشمیری عوام کے حقوق کی نمائندہ تھی اور ایک قومی امانت کی حیثیت رکھتی تھی، جس کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھا
لاہور (تحقیقی رپورٹ / نمائندہ خصوصی)
پاکستان میں محکمہ امورِ کشمیر کے زیرِ انتظام کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے مختص کی گئی اربوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی پر منظم قبضہ مافیا کا قبضہ برقرار ہے۔ لاہور کے پوش، رہائشی، اور کاروباری علاقوں میں پھیلی سینکڑوں ایکڑ اراضی پر نہ صرف غیر قانونی تعمیرات زور و شور سے جاری ہیں، بلکہ باقاعدہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور کمرشل مارکیٹیں بھی قائم کی جا چکی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں مبینہ طور پر محکمہ امور کشمیر لاہور آفس کے کچھ افسران اور عملے کی ملی بھگت سے ہو رہی ہیں۔
پس منظر: کشمیری مہاجرین کے نام پر مختص قومی امانت
ماضی میں حکومت پاکستان نے کشمیری مہاجرین کے لیے مختلف شہروں، بالخصوص لاہور میں اراضی مختص کی تھی تاکہ ان کی بحالی، روزگار اور رہائش کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ یہ زمین دراصل کشمیری عوام کے حقوق کی نمائندہ تھی اور ایک قومی امانت کی حیثیت رکھتی تھی، جس کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔
تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات
ایک طویل عرصے سے جاری تحقیقاتی سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ محکمہ امور کشمیر کی ملکیتی زرعی اراضی، جسے قانونی طور پر کمرشل یا رہائشی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا، اس پر نہ صرف غیر قانونی قبضہ کیا گیا بلکہ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ بااثر شخصیات، لینڈ مافیا، اور باہمی مفاد پر مبنی نیٹ ورک نے اس قیمتی زمین کو کمرشل پلازوں، غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور مارکیٹوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، دفتر امور کشمیر لاہور کے متعدد افسران اور ملازمین طویل عرصے سے اپنی سیٹوں پر براجمان ہیں۔ انہی افراد کی ملی بھگت سے یہ قبضے نہ صرف کروائے گئے بلکہ ہر مرحلے پر "قانونی کور” بھی فراہم کیا گیا۔ فائلوں میں رد و بدل، جعلی این او سی، بوگس الاٹمنٹ لیٹرز اور نقشوں کی غیر قانونی منظوری جیسے حربے استعمال کر کے قبضہ مافیا کو کھلی چھوٹ دی گئی۔
زرعی زمین کی غیر قانونی تبدیلی: قوانین کی صریح خلاف ورزی
محکمہ امور کشمیر کی زیرِ ملکیت زمین زیادہ تر زرعی نوعیت کی ہے، جسے کسی بھی صورت میں کمرشل یا رہائشی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ متعلقہ حکام کی مبینہ ملی بھگت سے ان زمینوں کو کمرشل استعمال میں لا کر بھاری منافع کمایا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بلکہ قومی وسائل کی سنگین لوٹ مار کے مترادف ہے۔

واگزار کرانے کی کوششیں ناکام؛ حکام خاموش تماشائی
محکمہ امور کشمیر یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس زمین کو واگزار کرانے کی کچھ رسمی کوششیں ضرور کی گئیں، تاہم وہ یا تو ناکامی سے دوچار ہوئیں یا پھر وقتی دباؤ کے بعد خود ہی سرد خانے کی نذر ہو گئیں۔ بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کوئی سنجیدہ یا دیرپا کارروائی نہ ہو سکی۔ حتیٰ کہ کچھ مقدمات میں تو عدالتوں سے بھی حکمِ امتناع حاصل کر کے غیر قانونی سرگرمیوں کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔
قومی سطح پر احتساب کی ضرورت
یہ محض محکمہ امور کشمیر تک محدود معاملہ نہیں، بلکہ قومی اداروں کے اندر موجود بدعنوان عناصر کے اس نیٹ ورک کی نشاندہی ہے جو قانون کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس پر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی، تو یہ کیس آئندہ نسلوں کے لیے ایک خطرناک مثال بن کر سامنے آئے گا۔
اختتامیہ:
کشمیر کے نام پر مختص کی گئی زمین دراصل ایک قومی امانت ہے۔ اس پر قبضہ صرف ایک غیر قانونی عمل نہیں، بلکہ اخلاقی و قومی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ اس زمین کو واگزار کرانا اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا صرف حکومت کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔



