
نئی دہلی: بھارت کے ننھے شطرنج کھلاڑی سرویگیا سنگھ کشواہا نے صرف تین سال، سات ماہ اور 20 دن کی عمر میں عالمی شطرنج فیڈریشن (FIDE) کی سرکاری ریٹنگ حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس عمر میں ریٹنگ حاصل کرنا نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر شطرنج کی دنیا میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔
پچھلا ریکارڈ بھی بھارتی کھلاڑی کے پاس تھا
سرویگیا نے یہ اعزاز حاصل کرکے گزشتہ ریکارڈ اپنے ہی ملک کے کھلاڑی انیش سرکار سے چھین لیا، جنہوں نے تین سال، آٹھ ماہ اور 19 دن کی عمر میں یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ محض چند ماہ کے فرق سے سرویگیا اب دنیا کے کم عمر ترین ریٹڈ شطرنج کھلاڑی بن گئے ہیں۔
1572 ریپڈ ریٹنگ — ایک کم عمر کھلاڑی کے لیے حیران کن سطح
مدھیہ پردیش کے ایک نرسری اسکول میں پڑھنے والا ننھا سرویگیا اس وقت عالمی شطرنج فیڈریشن کی فہرست میں 1572 ریپڈ ریٹنگ کے ساتھ شامل ہے، جو اس عمر کے کسی بھی کھلاڑی کے لیے انتہائی متاثر کن کارکردگی تصور کی جا رہی ہے۔
فیڈریشن کی ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے کسی کھلاڑی کو کم از کم ایک ریٹڈ کھلاڑی کو شکست دینا لازمی ہوتا ہے، جبکہ سرویگیا نے مختلف شہروں میں منعقدہ مقابلوں میں تین ریٹڈ کھلاڑیوں کو شکست دے کر یہ نمایاں مقام حاصل کیا۔
عالمی نمبر ون سے موازنہ؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرویگیا کی ریٹنگ ان کی کم عمری کے لحاظ سے غیر معمولی ہے، لیکن عالمی اسٹیج پر فاصلہ ابھی بہت بڑا ہے۔ دنیا کے نمبر ایک شطرنج کھلاڑی میگنس کارلسن کی ریپڈ ریٹنگ 2824 ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شطرنج میں اتنی کم عمری میں تکنیکی سمجھ بوجھ، حکمت عملی اور بورڈ وژن کا ہونا آنے والے وقتوں میں عالمی سطح پر انہیں ایک ممکنہ چیمپیئن کے طور پر ابھار سکتا ہے۔
والدین کا ردعمل — "بیٹے کے لیے بڑے خواب”
سرویگیا کے والد سدھارتھ سنگھ نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"یہ ہمارے لیے بہت بڑے فخر کی بات ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ مستقبل میں گرینڈ ماسٹر بنے۔”
انہوں نے بتایا کہ سرویگیا نے محض تین سال کی عمر میں حیران کن توجہ اور حکمت عملی کی صلاحیتیں دکھانا شروع کر دیں، جس پر ان کے کوچز بھی حیران ہیں۔
بھارت—شطرنج کے نئے عالمی مرکز کے طور پر ابھرتا ہوا ملک
گزشتہ چند برسوں میں بھارت تیزی سے شطرنج کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ ملک میں گرینڈ ماسٹروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ مضبوط کوچنگ نیٹ ورک، آن لائن شطرنج پلیٹ فارمز کا فروغ اور شطرنج کو تعلیمی سطح پر اہمیت دینا ہے۔
سرویگیا جیسی نئی نسل کے کھلاڑی اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بھارت مستقبل قریب میں شطرنج کی دنیا میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
شطرنج کے بین الاقوامی ماہرین اس نئی پیش رفت کو انتہائی متاثر کن قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی کم عمر کا بچہ اگر عالمی ریٹنگ حاصل کر لیتا ہے تو یہ اس کے تربیتی ماحول، خاندانی سپورٹ اور فطری ذہانت کی علامت ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والے سالوں میں سرویگیا سنگھ عالمی سطح کے نوجوان چیمپیئنز میں تیزی سے جگہ بنائیں اور بھارت کے لیے مزید اعزازات لائیں۔



