کھیل

انگلینڈ کے خلاف تیسرا ٹیسٹ: جدیجہ، شامی کے بعد وراٹ کوہلی کی شرکت بھی مشکوک

انڈین کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پہلی ٹیسٹ میں شکست کے ساتھ ساتھ انجریز کے بحران کا بھی سامنا ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پہلی ٹیسٹ میں شکست کے ساتھ ساتھ انجریز کے بحران کا بھی سامنا ہے۔
پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد دوسرے ٹیسٹ کے لیے انڈیا کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب رویندر جدیجہ اور کے ایل راہل انجری کی وجہ سے دوسرے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے۔
محمد شامی، جنہیں پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں انجری کی وجہ سے نہیں کھلایا گیا تھا، کی اگلے ٹیسٹ میں شرکت اب بھی مشکوک ہے۔
ان حالات میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رویندر جدیجہ کی بھی تیسرے اور چوتھے ٹیسٹ میچ میں شمولیت پر سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ میں وراٹ کوہلی کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ ان کی بقیہ میچز میں شرکت مشکوک ہے۔
’کرکٹ بز‘ ویب سائیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وراٹ کوہلی بیرون انڈیا ہیں جس کے باعث یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا وہ انگلینڈ کے خلاف بقیہ تین ٹیسٹ میچز کھیل سکیں گے یا نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سٹار بیٹر اس وقت ملک سے باہر ہیں جس کے باعث ان کی بقیہ میچوں کے لیے دستیابی کے حوالے سے سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کوہلی پہلے دو ٹیسٹ میچ کے لیے نجی مصروفیات کے باعث دستیاب نہیں تھے۔
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی جانب سے 22 جنوری کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ’وراٹ کوہلی نے بی سی سی آئی سے ذاتی وجوہات کے باعث پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں شامل نہ کیے جانے کی درخواست کی تھی۔‘
پریس ریلیز کے مطابق ویراٹ کوہلی نے کپتان روہت شرما، ٹیم مینجمنٹ اور سیلیکٹرز سے بات کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ اگرچہ ٹیم کی نمائندگی کرنا ہمیشہ سے ان کی اولین ترجیح رہا ہے لیکن کچھ ذاتی وجوہات کے باعث ٹیسٹ سیریز میں شریک ہونا ممکن نہیں ہے۔‘
پریس ریلیز کے مطابق بی سی سی آئی نے میڈیا اور وراٹ کوہلی کے چاہنے والوں سے ان کے نجی لمحات میں ان کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور بے جا افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی درخواست کی۔
انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ 15 فروری سے شروع ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button