اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

الیکشن سے پہلے جعلی خبروں سے محتاط رہیں، لیکن کیسے؟

دیگر ممالک کی طرح پاکستانی عوام میں بھی سوشل میڈیا مقبول ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس کو اپنی مہم کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

دیگر ممالک کی طرح پاکستانی عوام میں بھی سوشل میڈیا مقبول ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس کو اپنی مہم کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔تاہم سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور غلط معلومات کی پہچان کسی چیلنج سے کم نہیں۔ماہرین کے خیال میں سوشل میڈیا پر جعلی خبر ایک مستند خبر کے مقابلے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے جس کا اثر عوام کی رائے پر پڑتا ہے۔بہت سی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران اختلافات اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا بھی کرتی ہیں۔اس حوالے سے غیرسرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے ڈائریکٹر اور ڈیجیٹل میڈیا ایکسپرٹ اسد بیگ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہدف بنا کر غلط معلومات کو پھیلانا بہت پرانا طریقہ ہے لیکن اب سوشل میڈیا نے اس کو مزید بڑھا دیا ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے اور الیکشن کمیشن کے مطابق رجسڑڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک کافی بڑی تعداد ہے ان ووٹرز کی جو سوشل میڈیا صارفین ہیں اور ان کی سیاسی رائے اسی کے ذریعے بنتی ہے۔‘اسد بیگ کا کہنا تھا کہ ’اب تو یہ بات ہم بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ جو زیادہ سیاسی شعور نہیں رکھتے انہیں بہت آسانی سے سوشل میڈیا سے متحرک کیا جا سکتا ہے اور یہ ہم نے 2016 کے امریکہ اور بنگلہ دیش کے انتخابات میں اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے کہ الیکشن سے پہلے جھوٹی خبروں کا اثر کافی زیادہ ہو سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط معلومات کو ختم کرنا تو بہت مشکل ہے لیکن اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔’سب سے پہلے تو یہ کہ سوشل میڈیا صارفین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معلومات کے کچھ پیمانے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر وہ ڈان کی نیوز کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کرتے ہیں یا کسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے معلومات لیتے ہیں تو ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن اس سب میں کسی کا بھی ذاتی تعصب بھی ہو سکتا ہے تاہم اس سے قطع نظر یہ چیز بھی اہم ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ منظم طریقے سے غلط معلومات کس طرح پھیلائی جاتی ہیں تاکہ جب بھی وہ کوئی معلومات پڑھ رہے ہوں یہ بات ان کے ذہن میں ہو کہ یہ خبر جھوٹی یا غلط بھی ہوسکتی ہے۔‘اسد بیگ نے کہا کہ میڈیا اینڈ انفارمیشن لیٹریسی پر حکومت کو کام کرنا شروع کرنا چاہیے کیونکہ الیکشن کمیشن یا حکومت کی جانب سے ایسی کوئی مہم نظر نہیں آئی کہ الیکشن سے پہلے جعلی خبروں سے کیسے بچا جائے۔ ’ایسی صورتحال میں سول سوسائٹی کے اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کریں کہ ’غلط معلومات‘ کیا ہیں اور وہ ان سے کس طرح بچنا ہے۔‘میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی کوآرڈینیٹر صدف خان نے بتایا کہ فیکٹر کے نام سے ہم نے ایک ایسا ڈیجیٹل ٹول لانچ کیا ہے جو کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو گا۔صدف کا مزید کہنا تھا کہ فیکٹر ایک ایسا ڈیجیٹل ٹول ہے جو کے لیے معلومات اور حقائق کی بہتر جانچ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔’اس کے ساتھ ساتھ فیکٹر نیوز رومز کو ایسی درست معلومات جو مختلف نیوز اور فیکٹ چیکنگ آرگنازیشنز نے شائع کی ہوئی ہیں، کے ساتھ بھی جوڑتا ہے جسے نیوز رومز میں صحافی اپنے کام میں استعمال کر سکیں گے۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button