جنرل

پنجاب کے تمام اضلاع میں سب بچوں کی ویکسیُنیشن کے لئے خصوصی سرگرمی کا آغاز

انہوں نے کہا کہ اپریل میں دو سال سے کم عمر کے ان تمام بچوں کو ویکسین دی جائیگی جو سال 2023-24 میں کسی وجہ خوراک سے محروم رہ گئے

لاہور پاکستان(نمائندہ وائس آف جرمنی):‌ پنجاب کے وزیر برائے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ یکم سے 30 اپریل 2024 تک صوبہ کی تمام 3572 یونین کونسلوں میں حفاظتی ٹیکوں کی سب سے بڑی کیچ اپ سرگرمی کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ دو سال سے کم عمر کے تمام بچے جن کی ویکسین کسی وجہ سے رہ گئی ہو ان کو ضروری ویکسین دی جائیں گی۔یہ سرگرمی عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی اور مالی تعاون سے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں منعقد کی جارہی ہے۔ وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے کہا کہ یہ ایک خصوصی سرگرمی ہے جس کا مقصد ایسے تمام بچوں کی ویکسی نیشن ہے جن کو کوئی خوراک نہ ملی ہو یا کورس نا مکمل ہو۔ ہمارا اولین مقصد بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔خواجہ عمران نذیر نے کہا اس موسم میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے اس لئے والدین بچوں کی خسرہ کی ویکسین ضرور لگوائیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اس وقت پورے ملک میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ پنجاب میں باقی صوبوں کی نسبت کم کیسز ہیں لیکن ہمیں اپنی تیاری مکمل رکھنی چاہئے۔ اور بچوں کی مکمل ویکسینیشن کو یقینی بنانا چاہیے خاص طور پر بڑے شہروں اور دوسرے صوبوں سے متصل اضلاع میں ہم کسی قسم کی لاپرواہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس سال اپریل میں آؤٹ ریچ سرگرمی کے پہلے مرحلہ میں 4585 ویکسی نیٹر اور اتنے ہی سوشل موبلائزرز اس مربوط سرگرمی میں مصروف بہ عمل ہونگے جبکہ 338 سپروائزر فرائض سرانجام دے رہے ہیں جن میں ڈی ایچ او پریونٹو ای پی آئی فوکل پرسن، ڈی ایس وی اور اے ایس وی شامل ہیں۔ڈائریکٹر پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ویکسین ممکنہ حد تک مہلک بیماریوں سے بچوں کی حفاظت کرتی ہیں والدین کسی بھی بیماری کی علامات صورت میں فوری قریبی صحت مرکز یا مستند معالج کے پاس لے جائیں۔ لاپرواہی بعض دفعہ جان لیوا ہو سکتی ہے۔انہوں نے بچوں کی غذائیت کے علاوہ صفائی ستھرائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل میں دو سال سے کم عمر کے ان تمام بچوں کو ویکسین دی جائیگی جو سال 2023-24 میں کسی وجہ خوراک سے محروم رہ گئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جولائی میں دوسرے مرحلہ کا انعقاد کیا جائیگا جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین دی جائیگی جو کرونا وبا کے دوران معمول کا کورس مکمل نہ کر سکے۔ڈاکٹر مختار احمد نے وضاحت کی کہ خصوصی آؤٹ ریچ سرگرمی مربوط طریقہ سے منعقد کی جائیگی جس جس میں ویکسی نیٹر طے شدہ ٹور پلان کے تحت مختلف علاقہ جات جاتا ہے سوشل موبلائزرز شہریوں سے رابطہ استوار کرتے ہیں اور ای پی آئی سپروائزرز اور منیجرز نگرانی کرتے ہیں۔ ایل ایچ وی ای پی آئی مراکز پر ویکسی نیشن کی خدمات فراہم کرتی ہیں اور لیڈی ہیلتھ ورکر زچہ و بچہ کی خدمات کی فراہمی میں ان کی مدد کرتے ہیں۔پولیو کا عملہ نگرانی کے عمل کو مضبوط بناتا ہے اور اس طرح طبی عملہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آؤٹ ریچ ٹیم دیہاتوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچ پائے۔صوبائی سربراہ عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر جمشید احمد نے کہا کہ ان کا ادارہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لئے بیماریوں سے محفوظ صحت مند زندگی کے لئے عالمی ادارہ صحت حکومت کے ساتھ ملکر کام رہا ہے.

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button