انٹرٹینمینٹ

ویٹری اور سنیما کی گیٹ کیپری سے صف اول کی اداکاری تک: ’یہ ہیں طلعت حسین‘

طلعت حسین طویل علالت کے بعد 83 برس کی عمر میں کراچی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

   ’ریڈیو پر ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ حمید زمان آڈیشن لے رہے ہیں۔ میں بھی قسمت آزمانے پہنچ گیا ۔اماں کو خبر ہوئی تو حمید زمان سے کہنے لگی ’میرے بیٹے کو فیل کر دینا۔‘ مگر آڈیشن ہوا تو حمید  زمان میری پرفارمنس سے متاثر ہوئے اور اماں کی خواہش کے برعکس مجھے پاس کر دیا۔‘
یہ واقعہ صداکاری، اداکاری، فلم اور تھیٹر میں فن کی معراج تک پہنچنے والے طلعت حسین کے انٹرویو پر مبنی کتاب ’یہ ہیں طلعت حسین‘ میں بیان ہوا ہے۔
اداکاری میں اپنے تاثرات بھرے وقفوں اور صدا کاری میں سحر پیدا کر دینے والے طلعت حسین آج 82 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔
اپنی فنی خدمات پر صدارتی ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات رکھنے والے طلعت حسین کی ذاتی زندگی کے اتار چڑھاؤ کسی فلمی کہانی سے کم دلچسپ نہ تھے۔
ان کی والدہ حیات النسا پہلے آل انڈیا ریڈیو اور پھر ریڈیو پاکستان سے جز وقتی صداکار کی حیثیت سے منسلک رہی تھیں۔ مشہور براڈ کاسٹر زیڈ اے بخاری انہیں اپنی بیٹی قرار دیتے تھے۔
ریڈیو کے ماحول اور مزاج سے واقف ہونے کے باوجود وہ آخر اپنے بیٹے کو اداکاری کی دنیا سے کیوں دور رکھنا چاہتی تھیں؟
طلعت حسین کا جنم 1942 میں پٹیالہ میں کشمیری نژاد خاندان میں ہوا۔ ان کا خاندان لاہور کے علاقے چوبرجی کا رہنے والا تھا۔ والد اخلاق حسین وارثی ملازمت کے لیے پٹیالہ میں مقیم تھے۔
والد پٹیالہ چھوڑ کر دلی آگئے۔ جہاں کچھ عرصہ فلموں میں قسمت آزمائی کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔
طلعت حسین دلی کے مشہور انگریزی سکول بٹلر ہائی سکول میں داخل ہوئے۔ مگر بدقسمتی سے  ٹائیفائیڈ نے آن لیا۔ اگلے سات برس مسلسل اسی بیماری اور نقاہت کے باعث وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔
طلعت حسین کی والدہ انہیں سی ایس پی آفیسر بنانا چاہتی تھیں۔ (فوٹو: ایکس)
بیماریوں سے نبرد آزما طلعت حسین نے 14 برس کی عمر میں پہلی جماعت میں داخلہ لیا۔ اپنی ذہانت اور محنت سے ابتدائی عمر میں سکول نہ جانے کی کمی پوری کر لی۔
اس دوران ان کا خاندان تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو چکا تھا۔
طلعت کی والدہ انہیں سی ایس پی آفیسر بنانا چاہتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ریڈیو پاکستان کے افسران سے انہیں فیل کرنے کی درخواست کی۔
والدہ کو یہ خدشہ بھی تھا کہ مردانہ وجاہت رکھنے والے طلعت حسین شوبز کی رنگوں اور روشنیوں میں کھو کر سرکاری افسر بننے سے رہ نہ جائیں۔
دوسری طرف طلعت حسین سی ایس پی کی نوکری کو سخت ناپسند کرتے تھے، جس کی وجہ کراچی میں سینما پر فائرنگ سے ان کی موجودگی میں ایک نوجوان کی ہلاکت تھی۔
اس فائرنگ کا حکم دینے والا افسر ایک سی ایس پی تھا۔

سکول ریڈیو اور سینما ہاؤس کی گیٹ کیپری

دلی میں ان کے گھر دولت کی ریل پیل تھی۔ کام کاج کے لیے نوکر اور رہائش کے لیے اعلی حویلی کے مالک تھے۔
ان کے خاندان نے ہجرت کی تو قیمتی ساز و سامان سے بھرا ہوا صندوق غلطی سے کراچی کے بجائے راولپنڈی چلا گیا۔ والد کی بسیار کوششوں کے باوجود سامان بازیاب نہ ہو سکا۔ جسے دل برداشتہ ہو کر انہوں نے سرکاری نوکری کو خیرباد کہہ کر ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں نوکری کر لی۔
تقسیم کے بعد طلعت حسین کا پورا خاندان دہلی سے کراچی منتقل ہوا۔ (فوٹو: یسریٰ عسکری ایکس)
طلعت حسین سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ریڈیو میں صدا کاری بھی کرتے تھے۔ میٹرک میں تھے کہ والد کی بیماری  معاشی تنگدستی لے آئی۔
انہیں نوکری پر مجبور ہونا پڑا۔ طلعت نے 60 روپے ماہوار پر سینما ہاؤس میں گیٹ کیپر کی ملازمت اختیار کی۔
انگریزی زبان پر استعداد کی وجہ سے کچھ عرصے بعد انہیں بکنگ کلرک کی جگہ مل گئی۔ وہ دن کو سکول جاتے اور شام کو ریڈیو اور سینما  کی نوکری ساتھ ساتھ چلتے۔

ایم اے انگریزی کی ڈگری کیوں نہ لی؟

گھر میں والد کی رہنمائی میں انگریزی زبان پر دسترس حاصل ہو گئی تھی۔ کالج کے زمانے میں طلعت حسین نے انگریزی زبان و ادب کی باریکیوں میں مہارت پیدا کر لی۔
مگر حیرت انگیز طور پر وہ بی اے میں انگریزی کے پرچے میں فیل ہو گئے۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات پر مبنی کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر ہما امیر کو بتایا کہ انہوں نے انگریزی کا پیپر بہت اچھا دیا۔
اس میں غیرملکی مصنفین اور دانشوروں کی آرا اور حوالہ جات بھی درج کیے۔ مگر رزلٹ آیا تو وہ اسی مضمون میں فیل ہو گئے۔
طلعت حسین اپنی شادی کے موقع پر اپنی شریک حیات رخشندہ اور  راجو جمیل کے ساتھ (فوٹو: بشکریہ یولین میگزین)
مایوسی کے عالم میں انگریزی کے استاد عسکری صاحب سے صورتحال کا گلہ کیا۔ ان کا جواب تھا کہ ان کی غیر ضروری بقراطیت نے ممتحن کو چڑا دیا۔ ہر استاد میں اتنا ظرف نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کو برداشت کر لے کہ شاگرد اسے زیادہ جانتا ہے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دیا۔ وہی رٹے رٹائے جملے اور مواد لکھنے پر انگریزی کے امتحان میں پاس ہو گئے۔
اسی مضمون میں ایم اے کرنے کے لیے انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ جہاں ایک اور طرح کا  امتحان ان کا منتظر تھا۔
طلعت حسین کی طبیعت میں ناپسندیدہ امور پر جذباتی رد عمل اور احتجاج کا مادہ غیر معمولی حد تک پایا جاتا تھا۔ یہی چیز یونیورسٹی میں ایم اے کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ بنی۔
ایک دن ان کے ایک استاد نے انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ انگریزی کے ایک شاعر کی فنی زندگی کی تعریف کرتے سن لیا۔ اتفاق سے انگریزی زبان کے شعبے کے سربراہ اس شاعر کو بوجوہ سخت ناپسند کرتے تھے۔
طلعت حسین کو استاد نے بتایا کہ اگر وہ مذکورہ شاعر کی تعریف کریں گے تو فیل کر دیے جائیں گے۔
طلعت حسین یہ سن کر بھڑک اٹھے کہ زبان و ادبیات کے شعبے میں اس قدر کوتاہ فکری پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا شعبہ اور پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا کے ایم اے کے لیول پر پہنچ کر انہیں دوسرے کے ذہن سے سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
طلعت حسین شہزد خلیل کے ساتھ۔ (فوٹو: بشکریہ یولین میگزین)
اس کے بعد  طلعت حسین نے انگریزی کے بجائے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پھیرے لگانا شروع کر دیے جہاں رخشندہ زیر تعلیم تھیں۔
کچھ عرصہ قبل طلعت حسین نے اخبار میں ایک لڑکی کی تصویر دیکھی جس نے بورڈ میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی تھی۔ تصویر والی لڑکی ان کے دل میں گھر کر گئی۔
اتفاق سے اس لڑکی سے ان کی ملاقات ریڈیو پاکستان کی راہداری میں ہو گئی۔ سلجھی، سلیقہ مند اور ذہین رخشندہ کو اپنے دل کی بات بتانے میں انہیں اڑھائی سال لگے۔ 1972 میں وہ طلعت حسین کی شریک سفر بن گئی۔

مکالموں میں طویل وقفوں کا راز 

الفاظ کی ادائیگی، آواز کا اتار چڑھاؤ، کہاں ٹھہرنا ہے، کہاں زور دینا ہے اور آواز کے ذریعے جذبات نگاری کا فن طلعت حسین نے ریڈیو سے سیکھا۔
نامور صداکاروں ایس ایم سلیم، عبدالماجد، فضل کمال اور سلیم احمد کی رہنمائی اور قربت سے نہ صرف  طلعت حسین  کی صداکاری میں نکھار آیا بلکہ انہیں تاریخ، فلسفہ اور آرٹ کے مضامین میں غیر معمولی  دسترس بھی حاصل ہوئی۔
ابتدا میں چھوٹے موٹے رول ملنے لگے۔ ایک بار ڈرامے کے ہیرو ذکا اللہ درانی بیمار ہو گئے۔ ان کی علالت کی وجہ سے طلعت کو ہیرو کا کردار ادا کرنے کا کہا گیا۔
ڈرامہ آن ایئر ہوا تو اس کی دھوم مچ گئی اور ان کے لیے مرکزی کرداروں کا دروازہ بھی کھل گیا۔
اس دوران پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا۔ اسلم اظہر نے انہیں ٹیلی ویژن کے ڈرامے ’عید کا جوڑا‘ کے لیے کاسٹ کیا۔ اس ڈرامے نے طلعت حسین کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیا۔
مگر خود طلعت یہ ڈرامہ نہ دیکھ سکے۔ کیونکہ جس دن یہ نشر ہونا تھا اس دن ان کے والد وفات پاگئے۔
ان کی اصل خوبی مکالمے کے درمیان لمبے لمبے مگر پرتاثیر وقفے ہوا کرتے تھے۔ جو دیکھنے والوں کو ڈرامے کے ماحول اور کہانی کے ساتھ گویا باندھ کر رکھتے تھے۔
بعض لوگ مذاق میں کہا کرتے تھے کہ اگر 50 منٹ کے پروگرام کو لانگ پلے بنانا ہو تو طلعت حسین کو کاسٹ کر لیں وہ اسے 90 منٹ کا بنا دیں گے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے ’آدمی اور انسان‘ میں طلعت نے ایک سوشل ورکر کا رول نبھایا۔ (فوٹو: ایکس)
طلعت حسین اپنی اداکاری کی اس مخصوص تکنیک کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی وجہ پی ٹی وی کے پروڈیوسر فضل کمال بنے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے ’آدمی اور انسان‘ میں طلعت نے ایک سوشل ورکر کا رول نبھایا۔ جو لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کی مشکلات سنتا تھا۔
پروگرام کے پروڈیوسر فضل کمال نے انہیں ہدایت کی کہ دوران اداکاری وہ گھروں میں داخل ہونے کے بعد خاموشی سے ماحول کا جائزہ لیں۔ اپنے مخاطب کے جذبات کو اچھی طرح سمجھیں تاکہ مسائل کی نوعیت جان سکیں۔
یہ ڈرامہ اور طلعت حسین کا انداز اتنا مقبول ہوا کہ بعد میں یہ انداز ان کی پہچان بن گیا۔ اسی نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی جس کے ہیرو طلعت ہی تھے۔ البتہ فلم میں سوشل ورکر کے بجائے انہوں نے وکیل کا کردار ادا کیا۔
یہ فلم طلعت حسین کے لیے  فلمی دنیا میں داخلے کا باعث بنی۔ انہوں نے وحید مراد کے ساتھ ’اشارہ‘ نامی فلم میں کام کیا تو فلمی دنیا میں ان کا تعارف اور مقبولیت بڑھنے لگا۔ پرویز ملک کی فلم ‘گمنام‘  میں ان کے یادگار رول کو شائقین مدتوں  نہیں بھولے۔
طلعت  حسین کی فنی زندگی ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم اور تھیٹر کے گرد گھومتی تھی۔ تھیٹر میں اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری بھی کی ۔ ’خالد کی خالہ‘ ایک سٹیج پلے تھا جس میں انہوں نے بیک وقت اداکاری اور ہدایت کاری کی۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے ’پرچھائیاں‘ میں ایک مصور کا رول یادگار بن گیا اسی طرح ’تعمیر‘ میں ان کی فنی جہت بلندیوں پہ نظر آتی ہے۔
بانی پاکستان محمد علی جناح پر بننے والی فلم ’جناح‘  میں ان کا کردار جذبات اور ولولے سے بھرپور تھا۔

ہوٹل کے ویٹر کے طور پر دیکھ کر لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا تھا؟

تھیٹر اور انگریزی زبان پر دسترس کے باعث انہوں نے لندن کی ’اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ‘ میں اداکاری کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن معاشی زندگی رواں رکھنے کا باعث تھے۔ لندن میں تعلیم کے اخراجات کے ساتھ ساتھ انہوں نے کراچی میں خاندان والوں کی کفالت بھی کرنی تھی۔
ابتدا میں انہوں نے بی بی سی کے پروگراموں میں جز وقتی کردار ادا کرنا شروع کیے۔ یہں پر ان کی ملاقات مشہور انڈین اداکار امیتابھ بچن کی اہلیہ جیا بچن کے چاچا بہادری صاحب سے ہوئی۔ وہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
طلعت حسین کی اہلیہ رخشندہ کے لندن آنے کے بعد اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے ایک ہوٹل میں ملازمت اختیار کی۔
ہفتے میں تین دن کام کرنا ہوتا تھا۔ جمعہ کو برتن دھوتے اور ہفتہ اور اتوار کو ویٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔
پاکستان میں ناموری اور پہچان کے بعد لندن میں ویٹری کی نوکری کا فیصلہ ان کے لیے آسان نہ تھا۔
اپنے ایک انٹرویو میں طلعت حسین بتاتے ہیں کہ جب وہ نوکری کے لیے پہلے دن گھر سے نکلے تو ان کے قدم من من  بھاری ہو رہے تھے۔ گھر سے بس سٹاپ کا فاصلہ صرف چند گز کا تھا مگر ان کی حالت یہ تھی کہ قدم اٹھ ہی نہیں رہے تھے۔ پانچ منٹ کا فاصلہ 50 منٹ میں طے کیا۔
یہ نوکری شروع میں ان کی شخصیت کے لیے توڑ پھوڑ کا باعث تھی مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اندرونی کیفیات پر قابو پا لیا۔
طلعت حسین کہتے تھے کے وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنے ماضی کے بارے میں جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ (فوٹو: ایکس)
مگر اصل مسئلہ پاکستانی خاندانوں کی وجہ سے ہوتا تھا جو یہاں کھانے کے لیے آتے تھے۔ اور انہیں پہچان کر آرڈر دینے میں ہچکچاٹ  محسوس کرتے۔
اور پھر اس وقت صورتحال عجیب ہو جاتی جب بل ادا کرتے وقت ٹپ دینے کا مرحلہ آتا۔ اکثر پاکستانی اپنے ہم وطن اداکار کو ٹپ دیتے ہوئے شرماتے۔
مگر وہ زندگی بھر اپنی جدوجہد پر شرمندہ نہیں ہوئے۔
طلعت حسین کہتے تھے کے وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنے ماضی کے بارے میں جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
لندن سے دو سال کی تعلیم کے بعد انہیں سلور میڈل کا حقدار قرار دیا گیا۔ انہوں نے  مقامی ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
 ان کے ڈراموں ’گینگسٹر‘ اور ’کروکورٹ‘ کی وجہ سے لندن کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے لوگ انہیں رک رک کر دیکھنے لگے۔
1977  میں وہ وطن واپس لوٹ آئے اور کراچی میں تھیٹر، کمرشل فلموں اور اشتہاروں کے لیے پس پردہ آواز کی صنعت سے منسلک ہو گئے۔

ریڈیو سے جذباتی وابستگی 

ان کے جداگانہ انداز اور تاثرات بھری اداکاری نے فلم، ٹیلی ویژن اور تھیٹر میں منفرد مقام دلوایا۔ مگر ریڈیو سے ان کی وابستگی میں ذاتی اور جذباتی وجوہات پائی جاتی تھی۔
اس کی ایک وجہ ان کی والدہ کا ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہونا بھی تھا، جن سے وہ بہت پیار کرتے تھے۔ ان کی والدہ کی ایک عادت طلعت حسین کی پٹائی کرنا بھی تھی۔ ان کے مطابق آخری بار وہ 29 برس کی عمر میں والدہ سے پٹے  تھے۔
دوسری وجہ ان کی محبوب بیوی رخشندہ  کا بھی ریڈیو سے منسلک ہونا تھا، جس کی موجودگی کو وہ اپنی زندگی میں بہار کا باعث قرار دیتے تھے۔
ایک بار ٹیلی ویژن کے کسی ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران کسی پروڈیوسر نے کہہ دیا کہ ’طلعت حسین کو ’طلعت حسین‘ ہم نے بنایا ہے۔‘
یہ سنتے ہی وہ سلگ اٹھے اور ناپسندیدگی کے عالم میں جواب دیا ’طلعت حسین‘ کو ریڈیو پاکستان نے بنایا ہے۔
مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button