تازہ ترینبین الاقوامی

میانمار میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ

میانمار میں یہ قدرتی آفت ایک ایسے موقع پر آئی، جب ملک پہلے ہی خانہ جنگی کا شکار ہے

میانمار اور تھائی لینڈ میں دو روز قبل آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارکن تلاش اور بچاؤ کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں ماند پڑتی جار ہی ہیں۔
خانہ جنگی کے باعث بدحال ملک میانمار میں کئی رہائشی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہیں جبکہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دونوں ممالک میں زلزلے کے آفٹر شاکس اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق اتوار کو میانمار کے شہر منڈالے میں 5.1 کی شدت کے زلزلےکا ایک بڑا ضمنی جھٹکا محسوس کیا گیا۔
میانمار کے پڑوسی ممالک نے امدادی سامان اور ریسکیو اہلکار وہاں بھیج رکھے ہیں جب ملک کے فوجی حکمرانوں نے بھی اس قدرتی آفت سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مدد کی درخواست کر رکھی ہے۔
بین الاقوامی ریڈ کراس نے میانمار میں زلزلے کو ایک انسانی بحران قرار دیتے ہوئے امدادی کاروائیوں کے لیے ایک سو ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس نے امدادی کارروائیوں کے لیے فوری طور پر ڈھائی ملین یورو کی امداد جاری کر دی ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1700 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور 3,400 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اس زلزلے کو گزشتہ ایک صدی میں میانمار میں آنے والے سب سے طاقتور زلزلوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
میانمار میں یہ قدرتی آفت ایک ایسے موقع پر آئی، جب ملک پہلے ہی خانہ جنگی کا شکار ہے۔ ملکی فوج نے 2021 میں بغاوت کے بعد میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، جس نے ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس خانہ جنگی کے باعث 30 لاکھ سے زیادہ انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔
فوجی جنتا جمعہ کے روز آنے والے زلزلے کے بعد سے تباہی کی شدت سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر ہنگامی غیر ملکی امداد ملک میں پہنچ بھی جائے، تو بھی وہ ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پائے گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی سربراہ سینئر جنرل من آنگ ہلینگ نے کہا، ”تمام فوجی اور سویلین ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو مؤثر طبی ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر انداز میں مل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘
میانمار اور تھائی لینڈ میں زلزلوں کے ضمنی جھٹکے بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور یہ صورت حال امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ کا باعث بھی بن رہی ہےمیانمار اور تھائی لینڈ میں زلزلوں کے ضمنی جھٹکے بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور یہ صورت حال امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ کا باعث بھی بن رہی ہے
خبر رساں ادارے رؤئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں مقامی رہائشی باشندے خود ہی امدادی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں حکومتی امداد ضرورت سے بہت کم ہے۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع قصبے ساگانگ کے ایک رہائشی نے روئٹرز کو بتایا، ”ہمیں کوئی امداد نہیں ملی اور نہ ہی کوئی امدادی کارکن نظر آ رہا ہے۔
آفٹر شاکس کے سبب رسد میں کمی اور ریسکیو کی کوششوں میں تاخیر
میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے میں مقامی آبادی کو اب بھی طاقتور آفٹر شاکس کا سامنا ہے، اور یہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے، جب مقامی لوگ بھاری مشینری کی عدم موجودگی میں اپنے پیاروں کو ملبے کے نیچے سے نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طبی آلات کی شدید کمی کی وجہ سےمیانمار کو زلزلےکی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملکی فوجی حکمرانوں کے اتحادی روس اور چین ہفتے کے روز مدد بھیجنے والے پہلے ممالک میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ بھارت، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور سمیت دیگر ممالک بھی امداد بجھوانے والوں میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) نے متنبہ کیا ہے کہ وسطی اور شمال مغربی میانمار کے شہروں منڈالے اور ساگانگ سمیت دیگر علاقوں میں ہسپتال زخمیوں کی بہت بڑی تعداد سے نمٹنے کی جدوجہد میں ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button