
جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرافوں کا تحفظ
افریقہ میں معدومیت کے خطرات کے شکار زرافوں کا تحفظ کرنے اور اُنہیں ایسے علاقوں میں پہنچانے میں ماہرین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں جہاں وہ اب معدوم ہو چکے ہیں۔
(مدثر احمد-امریکا):زرافوں کے تحفظ کی فاؤنڈیشن کے بقول ایک اندازے کے مطابق اس وقت جنگلوں میں 117,000 زرافے پائے جاتے ہیں جن میں سے ان کی بعض انواع معدومیت کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ اس کی وجہ زرافوں کا غیرقانونی شکار اور اُن کی چراہ گاہوں کا ناپید ہونا ہے۔ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے سافٹ ویئر سمیت نئی ٹیکنالوجیاں زرافوں کے جسموں پر پائے جانے والے نشانوں کے منفرد نمونوں کی بنیاد پر اُن کی شناخت کرنے میں سائنس دانوں کی مدد کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سیٹلائیٹوں سے لی جانے والی تصاویر زرافوں کے لیے موزوں چراہ گاہوں کی نشاندہی میں بھی جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہرین کی مدد کر رہی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے ماحولیاتی تحفظ کے ماہر مائیکل براؤن نے بتایا کہ “اب ہمیں زرافوں کی زندگیوں کی ایسی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جو ہم پہلے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اِن جھلکیوں سے … تحفظاتی فیصلے کرنے میں رہنمائی ملتی ہے۔”
نمیبیا میں قائم یہ فاؤنڈیشن اور اس کے شراکت دار، 21 افریقی ممالک میں 40 ملین ہیکٹر علاقے پر پھیلے زرافوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ زرافے جُھنڈوں کی شکل میں پائے جانے والے درختوں والے سرسبز و شاداب میدانوں سے لے کر نیم صحرائی علاقوں اور جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہوں اور انسانی آبادی کے قریبی علاقوں میں رہتے ہیں۔
یہ فاؤنڈیشن امریکی ریاست ورجینیا میں قائم ‘سمتھسونیئن کنزرویشن بیالوجی انسٹی ٹیوٹ’ سمیت اپنے دیگر شراکات داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے زرافوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) سے متعلقہ آلات استعمال کرتی ہے۔ اس سلسے میں امریکی شہر، سی ایٹل میں ‘ایلن انسٹی ٹیوٹ برائے مصنوعی ذہانت’ کے نام سے قائم غیرمنفعتی تنظیم کا ذیلی ادارہ ‘ ارتھ رینجر’ جب کوئی زرافہ کسی محفوظ علاقے سے بھٹک کے باہر نکل جاتا ہے یا حرکت کرنا بند کر دیتا ہے تو افریقہ میں اپنے مقامی شراکت داروں کو فوری طور پر ڈیٹا مہیا کرتا ہے تاکہ اُس زرافے کی مدد کی جا سکے۔
اگست 2023 میں امریکی محکمہ خارجہ کی سمنروں اور بین الاقوامی ماحولیاتی اور سائنسی امور کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری، جینیفر آر لٹل جان نے سی ایٹل میں ‘ارتھ رینجر’ میں کام کرنے والے سائنس دانوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے انسانوں اور فطرت کو جو مسائل درپیش ہیں اُن کو حل کرنے کی خاطر مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کی تصاویر کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین، تکنیکی ماہرین اور حکومت کے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
براؤن بتاتے ہیں کہ زرافوں کے جسم پر موجود نشانوں کے نمونوں کی شناخت کرنےکے لیے عام طور پر بیسیوں افراد درکار ہوتے تھے۔ مگر اب ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری شناخت کرنے کی اہلیت سے محققین کو زرافوں کی تعداد کی درست گنتی کرنے اور اِن کے رویوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔امریکی محققین شمالی امریکہ کے بھورے ریچھوں کی شناخت کے لیے اسی طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
براؤن نے بتایا کہ “ان زرافوں کو انفرادی طور پر شناخت کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے کے لیے ایک زیادہ واضح تصویر حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے” کہ زرافے اپنے سکونتی علاقوں میں کس طرح رہتے ہیں۔ یہ معلومات محققین کو بہتر طور پر اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ زرافوں کی آبادی کے بڑھنے کے امکانات کہاں پائے جاتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین زرافوں کو اُن علاقوں سمیت کامیابی سے نئے علاقوں میں منتقل کر چکے ہیں جہاں وہ معدوم ہو چکے تھے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکہ کے ارضیاتی سروے کے ڈیٹا بیس اس امر کا تعین کرنے کے لیے کہ زرافے کہاں پھل پھول سکتے ہیں سیٹلائٹ کی تصاویر فراہم کرتے ہیں۔ ان تجزیوں میں گوگل ارتھ جیسی آن لائن سہولتوں سے بھی رہنمائی لی جاتی ہے۔
براؤن نے بتایا کہ “گزشتہ دہائی میں جی پی ایس ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ تصاویر میں ہونے والی بڑی اور تیز رفتار پیشرفتیں ” ماحولیاتی ماہرین کو اپنی کاوشیں جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔