
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی کسٹم ڈیوٹی اور تجارتی شعبہ میں دیگر اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی اقتصادی ترقی اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف شعبوں کی اصلاحات، تجاویز اور مسائل پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی صنعتی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے شعبہ جاتی مخصوص تجاویز اور مسائل کی نشاندہی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات اور درآمدات کے شعبے میں ماہرین کی طرف سے فراہم کردہ سفارشات حقیقت پر مبنی اعداد و شمار کے مطابق ہوں۔
موجودہ معاشی چیلنجز اور وزیراعظم کی تجاویز
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہائیوں تک ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا استعمال ریسرچ اور ٹریننگ کے لیے نہیں کیا گیا جس کے باعث ملکی صنعتی پیداوار اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں جو قومی ٹیرف پالیسی منظور کی ہے وہ ایک انقلابی قدم ہے، جس سے نہ صرف ملکی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی اور عالمی منڈیوں میں کاروبار کو مزید مسابقتی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی دیر پا معاشی ترقی صرف اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب ملک میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومتی تحفظ اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ دی جائے۔
کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس وصولی کے مسائل
اس اجلاس میں ملک کے نمائندہ کاروباری حضرات پر مبنی ذیلی ورکنگ گروپ کی طرف سے محمد علی ٹبہ اور دیگر نے وزیراعظم کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس وصولی سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں۔ ان کاروباری رہنماؤں نے بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کے عمل میں کئی پیچیدگیاں ہیں جو ملکی کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
محمد علی ٹبہ نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی اور تجارتی شعبے میں موجودہ مسائل کی وجہ سے ملکی کاروبار کو عالمی سطح پر مسابقتی ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم نے ورکنگ گروپ کی سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد کاروبار اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خصوصی ہدایات دیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاروباری افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ مقامی صنعت و تجارت کے لیے پیداواری لاگت کو کم کیا جائے، تاکہ مقامی آبادی اور کاروبار دونوں کو فائدہ پہنچ سکے۔
انہوں نے خاص طور پر دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور راہداری (ٹرانزٹ) تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ کام حکومت کی ترجیحی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اس اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر برائے اکنامک افئیرز ڈیژن احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین ایس آئی ایف سی، ملکی صنعت و کاروبار کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
حکومت کی ترجیحات اور اقدامات
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیحی اقدامات میں قومی ٹیرف پالیسی کا نفاذ، کاروباری طبقے کے مسائل کو فوری حل کرنا، اور مقامی صنعتی پیداوار کی لاگت کو کم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم نے کہا کہ ملکی صنعت کی ترقی کے لیے حکومت کی طرف سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کے عمل کو مزید آسان بنانا اور برآمدات کے فروغ کے لیے نئے اقدامات شامل ہیں۔
نیشنل ٹیرف پالیسی کی اہمیت
وزیراعظم نے خاص طور پر قومی ٹیرف پالیسی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی پاکستان کی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہو گی بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو بھی بڑھائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت برآمدات کے لیے ایک مستقل اور دیر پا حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے ملک کی اقتصادی حالت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
دیرپا اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات
بریفنگ ورکنگ گروپ کی جانب سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ برآمدات پر مبنی دیرپا معاشی ترقی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ملک میں سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور حکومتی انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں اور مسائل کا جامع حل نکالیں تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
نتیجہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والا یہ اجلاس ملکی اقتصادی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں کی جانے والی تجاویز اور اصلاحات کے ذریعے نہ صرف ملکی صنعتی پیداوار کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بھی بڑھ جائے گی۔ وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے کاروبار اور صنعت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی معیشت اور صنعت کی ترقی ہے۔




