Jannah Theme License is not validated, Go to the theme options page to validate the license, You need a single license for each domain name.
پاکستاناہم خبریں

ہنزہ میں شسپر گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے تباہ کن سیلاب، قراقرم ہائی وے سمیت بنیادی ڈھانچہ متاثر، درجنوں گھر خطرے میں

گزشتہ ماہ بھی اسی نوعیت کا ایک GLOF واقع پیش آیا تھا، جس میں چار گھر، زرعی زمین، درخت، سرکاری و نجی جائیدادیں متاثر ہوئی تھیں

شمالی پاکستان کے ضلع ہنزہ میں واقع شسپر گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والے تباہ کن گلیشیائی جھیل کے اخراج (GLOF) نے علاقے میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ حسن آباد نالے میں آنے والے طوفانی سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، زرعی زمینوں کو تباہ کیا، اور پہاڑوں کے دامن میں واقع درجنوں گھروں کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

قراقرم ہائی وے متاثر، حفاظتی دیواریں تباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA) کے مطابق سیلابی ریلے نے قراقرم ہائی وے (KKH) کی حالیہ تعمیر شدہ حفاظتی دیواروں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ ہائی وے کا ایک حصہ حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ عمومی ٹریفک کے لیے سڑک تاحال کھلی ہے، تاہم مستقبل میں کسی بھی خطرے کے پیش نظر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) سے فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور متاثرہ حصے کا معائنہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اتھارٹی نے بتایا کہ پانی کے شدید بہاؤ کے نتیجے میں زمین کٹاؤ سے سڑک کے دیگر کمزور حصے بھی خطرے کی زد میں ہیں، جن کی بروقت مرمت نہ کی گئی تو آئندہ مزید نقصانات کا اندیشہ ہے۔

زرعی زمینیں، فصلیں اور بجلی کی ترسیل متاثر

سیلاب سے قابلِ کاشت زمین کا بڑا حصہ متاثر ہوا، جہاں کھڑی فصلیں، درخت اور دیگر زرعی اثاثے بہہ گئے۔ ساتھ ہی ساتھ حسن آباد کی بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو چکی ہے، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقے میں محکمہ جنگلات کی جائیداد اور پل کے قریب فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی زمین کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔

گھروں کی منتقلی، ممکنہ خطرات کی روک تھام

مقامی افراد کے مطابق، نالے کے بہاؤ کی سمت میں واقع چار گھروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت گرایا گیا تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر شسپر گلیشیئر سے دوبارہ پانی کا اخراج ہوا تو درجنوں دیگر گھروں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسی نوعیت کا ایک GLOF واقع پیش آیا تھا، جس میں چار گھر، زرعی زمین، درخت، سرکاری و نجی جائیدادیں متاثر ہوئی تھیں، لیکن حکومتی سطح پر تاحال پائیدار اقدامات کا فقدان دیکھا جا رہا ہے۔

ریسکیو ٹیمیں متحرک، کمیونٹی کا کردار اہم

کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹی، GBDMA کے اہلکار اور مقامی رضاکار سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ ٹیمیں مقامی آبادی کی تیاری، بروقت ردعمل، اور ممکنہ انخلا میں مدد فراہم کر رہی ہیں تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

حکام نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ندی نالوں کے قریب رہائش سے گریز کریں، اور مقامی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

شندور روڈ ساتویں روز بھی بند، ہزاروں افراد محصور

ادھر، گلگت سے شندور جانے والی مرکزی سڑک فندر وادی کے خوٹوم گاؤں میں ساتویں روز بھی بند ہے، جس کے باعث علاقے میں ہزاروں افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث غذائی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور آمد و رفت میں رکاوٹ جیسی سنگین صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کی وارننگ

ماحولیاتی ماہرین اور مقامی این جی اوز نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ شسپر جیسے گلیشیئرز سے جڑی جھیلیں موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے پگھل رہی ہیں، جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان جیسے خطے مزید GLOF واقعات کے لیے خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، حکومت کو فوری طور پر ریسک مینجمنٹ، انفراسٹرکچر کی مضبوطی، اور مقامی کمیونٹیز کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button